تازہ ترین

امریکہ… ڈوبنے کو ہے سفینہ اس کا

حضرت علی ؓ کا ایک قول ہے کہ ’معاشرہ یا ملک کفرکے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے لیکن انصاف کے بغیر نہیں‘ اور اللہ جب کسی قوم کو قوت عطا کرتا ہے تو اس کی کسوٹی ہی انصاف پر مبنی ہوتی ہے ۔دراصل چاند گاڑی میںچاند کا سفر یا اس سے آگے ستاروں کا سفر کسی بھی صورت میں انسانیت کی معراج نہیں کہلا ئی جاسکتی بلکہ اس سے ہم سائنسی ترقی سے ہی موسوم کر سکتے ہیں۔ انسان نے اگرچہ اس دور میں سائنسی لحاظ سے چاند ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی شروعات کی ہے اور اس دوڈ میں سب سے آگے امریکہ ہے لیکن افسوس کہ یہ امریکہ اخلاقی ، انسانی اور بلند اقدار کے لحاظ سے دنیا کا پست ترین ملک ہے جس کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس ملک نے انسانی تباہی کے لئے بے شمار ایٹم بم ، نیپام بم ، کارپٹ بم اور بائیو کیمیکل بم ضرور بنائے ہیں لیکن انسان اور انسانیت کو بچانے کی تو دور کی بات ہے بلکہ اس سے تھوڑا سا اوپر لانے کی کبھی سنجیدگی سے ک

راز جب ہمارے عیاں ہوں گے

 انسان کا دنیا میں آنا صرف اتفاق ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک خاص مقصد، ہدف اور مشن حیات کارفرما ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو تمام مخلوقات میں سے بہترین تخلیق پر بنا دیا ہے۔ خالق کائنات، احد و صمد، علیم و حلیم، غفار و قہار رب الزوجلال ہماری تمام حرکات و سکنات کا ریکارڈ ایک خاص ضابطے کے تحت رکھ رہا ہے۔حتیٰ کہ دل سے پیدا ہونے والے خیالات کا بھی بخوبی علم رکھتا ہے۔ حقیقی چشموں سے پردہ اٹھتے ہی ہمارے ہاتھوں میں کتاب تھما دی جائے گی جس میں ذرہ بھر کی نیکی اور بدی درج ہوگی۔ موبائل فون میں ڈاٹا کو بطور محفوظ رکھے جانے سے بڑھ کر ہماری ایک ایک حرکات درج ہو رہی ہے۔ جس سے میموری کارڑ سے کئی گنا زیادہ غیر معمولی اسٹوریج کی ایک کتاب 'نامہ اعمال' میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا پر فیس بک، ٹیوٹر وغیرہ جیسے ا کائونٹ میں جس طرح ہماری پسند، شیئر ، سبسکرائب ، اپلوڈ یا کوم

منجمد ڈل جھیل

رواں ماہ کی14تاریخ کو ضلع انتظامیہ سرینگر نے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ زمستانی ماحول کی وجہ سے منجمد ڈل جھیل پر چلنے کا خطرہ مول نہ لیں کیونکہ ایسا کرنا اُن کیلئے خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔کشمیر رواں برس کے ’چلہ کلان‘ میں سائبیریا کا سماں پیش کررہا ہے جہاںسردیوں کا تیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔شدید سردیوں کی وجہ سے پانی کے نل جم گئے، یہاں تک کہ ڈل جھیل جیسا وسیع آبی ذخیرہ بھی منجمد ہوگیا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈل جھیل سردیوں کے ایام میں جم گیا۔ایسا ماضی میں بھی ہوا ہے اور شاید مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا ۔ تاریخی حوالوں کے مطابق 1959کے موسم سرما میں وادی کے اندر اس قدر ٹھنڈ پڑگئی کہ سارا ڈل جھیل جم کر کم و بیش ایک ماہ تک منجمد رہا۔بتایا جاتا ہے کہ تب سابق ریاست کے اُس وقت کے وزیر اعظم بخشی غلام محمد نے ڈل کی اُوپری سطح پر پانی کی تین فٹ موٹی سطح پر اپنی جیپ چلانے کی مہم سر کی۔بخ

کلیمانِ بے تجلّی، مسیحانِ بے صلیب

 "کلیم بے تجلی" اور "مسیح بے صلیب" کی تراکیب علامہ اقبال نے کارل مارکس کے لئے استعمال کی ہیں۔ علامہ کا اشارہ غالباًاس حقیقت کی طرف ہے کہ اشتراکیت کا یہ بانی مفکر "داس کپیتال" کی صورت میں ایک ایسا نسخہ پیش کرنے میں کامیاب ہوا جس پر اشتراکیت کا پورا قصر تعمیر ہوا۔ کئی ایک جدلیاتی فلاسفہ نے مارکس ہی کے فکر سے متاثر ہوکر کئی ایک ممالک میں اشتراکیت کی تخم ریزی کی۔ چوں کہ اس فکر میں مادیات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، اس لئے یہاں تصور خدا کو "عوام کا افیون" قرار دیا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس فکر کے راہنماوں کے لئے "تجلی ٔ رب" کا تصور کرنا بے شک محال تھا۔ تاہم یہاں پر ہماری غرض و غایت اس فکر پر بحث کرنا نہیں ہے۔ البتہ ان تراکیب کو مستعار لیکر ہمیں چند خاص معاشرتی رویوں پر بات کرنا مقصود ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک معتدبہ حصہ طرز تک

اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری

اسٹاک مارکیٹ میں دو طرح کا نفع ملتا ہے، ایک تو یہ کہ آپ کسی کمپنی کے حصص خرید یں اور سال کے اختتام پر وہ کمپنی ان حصص پر نفع (ڈِویڈنڈ)دے، کمپنی اپنی مالی پوزیشن اور پرفارمنس دیکھ کر نفع دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔ واضح رہے کہ نفع دینے کی شرح بینکوں کے نفع کی طرح پہلے سے متعین کی ہوئی نہیںہوتی بلکہ کمپنی کے مجموعی منافع کودیکھتے ہوئے تمام حصے داروں میں یکساں نفع تقسیم کیا جاتا ہے،کمپنی کو زیادہ منافع ہوگا تو نفع بھی زیادہ ملے گا۔ اسٹاک مارکیٹ میں نفع حاصل کرنیکی دوسری شکل یہ ہے کہ آپ نے کسی کمپنی کے حصص خریدے اور کچھ عرصے بعد ان کی قیمت بڑھ گئی، اگر آپ اس نئی قیمت پر یہ حصص فروخت کردیں گے توقیمتوں کے درمیان جو فرق ہوگا وہ آپ کانفع ہوگا۔ یہ تجارت یا لین دین کی وہی شکل ہے جو دیگر اجناس کی تجارت میں ہوتی ہے۔ اگر آپ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو چند مشورو