تازہ ترین

’’سورج اور چاند کی حرکت پر غور کرو ‘‘

قرآن مجید پڑھنا ہر مسلمان کے لئے نجات کا ضامن ہے اور بیشتر مسلمان روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ اکثر مسلمان صرف ثواب حاصل کرنے کے لئے قرآ ن کی تلاوت کرتے ہیں ۔بہت سارے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے ان کی ساری مشکلیں اور مصیبتیں دور ہوجائیں گی ۔ روزی میں برکت ہوگی ۔ بچوں کو روزگار حاصل ہوگا ۔ بیماریاں دور ہوجائیں گی اور دشمنوں کے شر سے نجات حاصل ہوگا ۔علماء ، مفتی اور مبلغین نے یہی تصور عام کیا ہے ۔ ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ قرآ ن حکیم کی تلاوت سے خوش ہوتا ہے اور وہ بندوں پر اپنی رحمت کا سایہ کرتا ہے ۔ بے شک یہ درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن کو صرف اس لئے نہیں اتارا گیا ہے کہ اس کی تلاوت سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرکے اپنے دنیاوی مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ یہ صرف ایک پہلو ہے دوسرا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے ۔ قرا

کسان تحریک اور حکومت

ستمبر 2019 میں پارلیمنٹ کے ذریعے تین زرعی قوانین کی منظوری، پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کی طرف سے ان قوانین کے خلاف ریاست گیر احتجاج، 26 نومبر سے دہلی سے متصل سنگھو، ٹکری اور غازی پوری بارڈرس پر ہزاروں کسانوں کی جانب سے قوانین کے خلاف احتجاج اور دھرنا، حکومت اور کسانوں کے درمیان آٹھ ادوار کی بے نتیجہ بات چیت، ملک کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ کی قوانین سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران حکومت کے رویے پر سخت ناراضگی، قوانین پر روک لگانے کا اشارہ، اگلے روز کی سماعت میں عدالت کی جانب سے قوانین کے نفاذ پر روک، ایک کمیٹی کی تشکیل اور کسانوں کی جانب سے اس کمیٹی کو مسترد کرکے اس سے بات چیت نہ کرنے کا اعلان۔ اس طرح اس تنازع نے ایک راونڈ مکمل کر لیا یا ایک چکر پورا کر لیا۔ جب سے کسان ان قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں حکومت کی جانب سے ان کو زیر کرنے کی پوری پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت مختلف ذر

بچوں کی پرورش اوروالدین کی ذمہ داریاں

 پڑھی لکھی ماں روشن مستقبل کی ضمانت ہے کیونکہ ماں بچوں کی سب سے پہلی استاد  ہے۔اگر والدین اپنے بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت دیں تو بچے بھی اچھے اخلاق والا ہوں گے ۔اگر والدین بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت نہ دے سکیںتو ہو سکتا ہے کہ بچے بھی برے ماحول کا شکار ہوں۔جیسے ’ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے‘،اسی طرح ایک بچہ بھی اگر برے ماحول کا شکار ہو تو پورے قوم کے بچوں پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔اس لئے والدین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صحیح تعلیم اور اچھے عادات کا درس دیںتاکہ وہ بچہ آگے چل کر دنیا کا امام بن کر اٹھے اور عالم اسلام کی باگ ڈور خود سنبھالے۔اگر ماں تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار ہوگی تو اس کی اولاد بھی تہذیب یافتہ اور با ادب ہوگی۔فریڈک نے کیا خوب کہا ہے کہ جس گھر میں ماں عقل مند ہوتی ہے وہ گھر تہذیب اور انسانیت کی یونیورسٹی ہے۔  پیارے

ہیجان انگیز افواہ ؟

2021کے اوائل میں بھاری برف باری نے خلقِ خدا کے اوسان خطا کردئے تھے۔ بجلی بند ھ ، راستے مسدود اور مصائب و مسائل کا لا متناہی سلسلہ تھا غربت کی چکی میں پسے جارہے لوگوں کے زرد چہرے مزید یاس و قنوط کا بہ زبانِ حال اظہار کررہے تھے۔ جینا دوبھر ہوچکا تھا۔ دریں اثناء جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں سے کسی ’’رانٹس‘‘ کے نمودار ہونے اور اس کے شر و فتن سے محفوظ رہنے کے لئے مختلف ’’ہدایات‘‘سوشل میڈیا اور مساجد کے منابر و محراب سے دئے جانے لگے۔الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ بھی اپنا حصہ اس کی تشہیر میں ڈالنے میں جٹ گیا اور اس ’’خبر ‘‘کو اچھی کوریج دے کر ریٹنگزبڑھانے کا ’’فریضہ بہ احسن ‘‘ انجام دیا۔ ہاہا کار مچ گئی، امراض قلب کے مریضوں کا دل دھک دھک کرنے لگا ،بچے کونوں میں دبک کے رہ گئے، خواتین بین کرنے لگیں ، مساجد

زبان ظاہر وباطن کی ترجمان

زبان خدا کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کہنے کو تو یہ مضبوط جبڑوں کے بیچ ایک نرم گوشت کا ٹکڑا ہے لیکن یہی زبان انسان کے جسم میں سارے اعضاء کی ترجمان بھی ہے اور لیڈر بھی۔اس کے بنا جسم کے سارے اعضا گونگے ہیں اور مجبور بھی۔بھلائی اور برائی میں اس زبان کا بہت بڑا دخل ہے۔اس کو آزاد اور خودمختار رکھنے والا ہلاکت اور بربادی کے گڑھے کی طرف جاتا ہے لیکن جواس پر شریعت کی لگام لگاتا ہے وہ اس کے فساد اور شر سے محفوظ رہتا ہے۔زبان اعضائے انسانی میں سب سے زیادہ بے قابو عضو ہے کیونکہ اس کے استعمال میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔اتنا ہی نہیں بلکہ یہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جو وہ انسان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔زبان انسان کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے اور طاقت بھی۔زبان انسان کو حیوان ناطق کا درجہ بھی دیتی ہے اور اسفل سافلین تک گرا بھی دیتی ہے۔زبان سے انسان زہر بھی اگل سکتا ہے اور شہد بھی۔زب