تازہ ترین

سونہ وار میں الیکٹرو اٹوموبائل کے شو روم کا افتتاح | بجلی پر چلنے والی ماحول دوست سکوٹیاں متعارف

سرینگر //شہر کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک رکھنے کی خاطر مارکیٹ میں بجلی پر چلنے والی سکوٹیاں متعارف کرائی گئی ہیں اور سرینگر کے سونہ وار علاقے میں اتوار کو الیکٹرو اٹوموبائل کے ایک شو روم کا افتتاح مئیر جنید احمد متو نے کیا ۔تقریب میں سابق ایم ایل اے سونہ وار محمد اشرف میر کے علاوہ بی ڈی سی چیئرمین بھی موجود تھے ۔اس دوران بتایا گیا کہ یہ کم سپیڈ والی سکوٹی شہر میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو گی اور ساتھ میں مہنگائی کے دور میں پٹرول اور ڈیزل کا خرچہ بھی بچ جائے گا۔یہ سکوٹی طلاب کیلئے کافی فائدہ مند ہے کیونکہ سکوٹی تین گھنٹوں میں نارمل بجلی پر چارج ہو گی اور پھر 90 کلومیٹر تک اس کو چلایا جا سکتا ہے۔شو روم کے منیجنگ ڈائریکٹر عادل فاروق گورخو نے بتایا کہ اس سکورٹی کی رفتار 40سے زیادہ نہیں ہو گئی اور اس کو چلانے کیلئے محکمہ ٹرانسپورٹ کی نہ ہی رجسٹریشن ضروری ہے نہ انشورنس

سالانہ 206.43میٹرک ٹن اخروٹ کی پیداوار، اوسطا ً 4افراد لقمۂ اجل اور درجنوںاپاہچ بنتے ہیں

سرینگر //وادی میں اخروٹ اُتارنے کے دوران سالانہ اوسطاً 3سے 4افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ کئی ایک زندگی بھر کیلئے اپاہچ بن جاتے ہیں۔ رواں سال میں بھی ابتک شمالی اور جنوبی کشمیر میں اخروٹ اُتارنے کے دوران  6مزدوروں کی موت واقع ہوئی ہے۔  محکمہ باغبانی کا کہنا ہے کہ پرانے اخروٹ کے درختوں کو کاٹنے کیلئے حکام سے اجازت نامہ موصول ہونے کے بعد ان کی جگہ اعلیٰ معیار کے درخت لگائے جائیں گے جس سے نہ صرف حادثات میں کمی ہو گی بلکہ چھوٹے قد کے درخت چار گناہ زیادہ پیداوار بھی دیں گے ۔معلوم رہے کہ وادی میں اخروٹ جیسا خشک میوہ لوگوں کے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور ایک کثیر آبادی اس صنعت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ شوپیاں ، کولگام ، بانڈی پورہ ، اوڑی ، کپوارہ ، کرناہ ،بڈگام اور دیگر بالائی علاقوں میں سب سے زیادہ  اخروٹ کی پیدوار ہوتی ہے۔2019کے قومی ہارٹیکلچر بورڈ کے اعدادوشمار کے مطابق وادی

موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی | ڈکسم کوکرناگ میں بچے آن لائن کلاسوں سے محروم

سرینگر// ڈکسم کوکرناگ میں موبائل نیٹ ورک نہ ہونے کے نتیجے میں جہاں عام لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے ،وہیں طلبہ بھی آن لائن کلاسوں سے محروم ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں سیر پر آنے والے سیلانیوں کو بھی مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اگر کسی کو فون کرنا ہوتا ہے تو اسے دیسو جانا پڑتا ہے جو ڈکسم سے تین کلو میٹر دور ہے۔ لوگو ں نے بتایا کہ کووڈ 19 کے پیش نظر بچوں کو آن لائن تعلیم دی جارہی ہے تاہم اس بستی کے بچے اس سے بھی محروم ہیں کیونکہ انٹرنیٹ سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس سلسلے میں کئی بار متعلقہ حکام سے مداخلت کی اپیل کی گئی لیکن انہوں نے کوئی کارراوئی نہیں کی۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس علاقہ کی طرف توجہ دیکر موبائل نیٹ ورک کیلئے اقدامات کریں۔  

تازہ ترین