قابل اعتماد 5جی فروخت کنندگان کے حق میں بدلتے حالات

 واشنگٹن// امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالات ’’ہواوے’’ کے خلاف ہو رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر کے شہریوں کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے نگرانی کے نظام سے لاحق خطرے کا احساس ہو رہا ہے۔ ہواوے کے دنیا بھر میں مواصلاتی عاملین سے کیے گئے معاہدے ختم ہو رہے ہیں کیونکہ ممالک اپنے 5 جی نیٹ ورک میں صرف قابل اعتماد فروخت کنندگان کو ہی کام کی اجازت دے رہے ہیں۔ چیک ریپبلک، پولینڈ، سویڈن، ایسٹونیا، رومانیہ، ڈنمارک اور لٹویا ایسے ممالک کی نمایاں مثال ہیں۔ حال ہی میں یونان نے اپنے 5جی انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے ہواوے کے بجائے ایرکسن سے خدمات حاصل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔دنیا بھر میں چند سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنیاں بھی صاف ستھرے مواصلاتی اداروں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ہم نے فرانس میں اورنج، انڈیا میں جیو، آسٹریلیا میں ٹیلسٹرا، جنوبی کوریا میں ای

ایران 2017:میں احتجاج منظم کرنے والے صحافی کو موت کی سزا

 تہران //ایران کی ایک عدالت نے اس صحافی کو موت کی سزا سنا دی ہے جنہوں نے 2017میں ملک میں معاشی اصلاحات کیلئے احتجاج میں آن لائن خبریں دینے کے ساتھ ساتھ مظاہرے منظم کرنے کیلئے'ٹیلی گرام' کا استعمال کیا تھا۔روح اللہ زم گزشتہ برس تک جلا وطن تھے تاہم 2019 میں وہ غیر واضح حالات میں ایران واپس آئے تھے۔ ملک واپس آنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔عدالت کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے منگل کو روح اللہ زم کی سزا کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ روح اللہ زم ایک ویب سائٹ 'آمد نیوز' چلاتے تھے۔ اس ویب سائٹ پر ایران کے سرکاری حکام کے حوالے سے مختلف ویڈیوز اور خبر شائع کی جاتی تھیں۔روح اللہ زم جلا وطنی کے دوران فرانس کے شہر پیرس میں رہے۔ بعد ازاں وہ ایران واپس گئے تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ کیا وجوہات تھیں کہ انہوں نے ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ ایرانی حکام نے اکتوبر 2019 میں ان کی گر

پابندی کے حکم پر عمل شروع :ٹک ٹاک

نئی دہلی//گلوان وادی میں چین اور ہندوستان کے فوجیوں کے درمیان جدوجہد کے پیش نظر مرکزی حکومت کی طرف سے ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپ پر پابندی لگائے جانے کے بعدکمپنی کی جانب سے منگل کو پہلا بیان آیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ حکم پر عمل کرنے سمت میں کام کررہے ہیں۔حکومت نے پیر کی رات 59 چینی ایپ پر پابندی لگائی ہے ۔ٹک ٹاک انڈیا چیف نیکھل گاندھی کی طرف سے کل جاری بیان میں کہاگیا ہے ،‘‘ہم نے ہندوستانی ٹک ٹاک یوزر کی کوئی بھی معلومات غیر ملکی حکومت یا پھر چین کی حکومت کو نہیں دی ہے ۔انہوں نے کہا،‘‘ہمیں وضاحت اور جواب دینے کے لئے متعلقہ حکومت فریقوں سے ملنے کے لئے مدعو کیاگیا ہے ۔ٹک ٹاک نے اپنے پلیٹ فارم کو ہندوستان میں 14 زبانوں میں مہیا کرا کر انٹرنیٹ کوجمہوریت میں شامل کیا ہے ۔اس ایپ کا استعمال لاکھوں لوگ کرتے ہیں۔ان میں کچھ اداکار ،افسانہ نگار اور ٹیچر ہیں اور اپنی زندگی

تازہ ترین