ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں کو بڑی اننگز کھیلنے کی ضرورت تھی:وراٹ

 سڈنی/ آسٹریلیا سے شکست کے بعد ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے جمعہ کے روز کہا کہ ٹیم کے چوٹی کے تین بلے بازوں کو بڑی اننگز کھیلے کی ضرورت تھی۔ وراٹ نے میچ کے بعد کہا کہ ہمارے پاس تیاری کے لئے کافی وقت تھا اور مجھے نہیں لگتا کہ اس شکست کے لئے ہم کسی چیز کو ذمہ دار ٹھہراسکتے ہیں۔ بہت وقت کے بعد ہ ہمارا طویل فارمیٹ کا میچ تھا کیونکہ ہم نے حال ہی میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلا ہے لیکن اس سے پہلے بہت سے ون ڈے میچ کھیل چکے ہیں۔ فیلڈنگ میں کیچ چھوڑنے سے دکھ ہوتا ہے ۔ ہمیں ٹیم میں پارٹ ٹائم گیندباز سے کچھ اوور گیندبازی کرانی ہوگی۔ انہوں نے کہا ، "بدقسمتی سے ، ہاردک پانڈیا ابھی گیندبازی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، لہذا ہمیں اسے تسلیم کرکے اور اس پر کام کرنا ہوگا۔" یہ ایسا شعبہ ہے جس میں ہمیں بہتری کی ضرورت ہے جو کسی بھی ٹیم کے توازن کے لئے بہت ضروری ہے ۔ آسٹریلیا کے لئے مارکس اسٹونس او

پاکستانی ٹیم کو واپس بھیجنے کی دھمکی، شعیب نیوزی لینڈ بورڈ پر برس پڑے

اسلام آباد/ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستانی ٹیم کو واپس بھیجنے کی دھمکی پر لیجنڈ باؤلر شعیب اختر نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوئی کلب ٹیم نہیں، ایسی باتیں ناقابل برادشت ہیں۔تفصیل کے مطابق نیوزی لینڈ کی طرف سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ کرنے کی دھمکی پر شعیب اختر نے اسے کھری کھری سناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوئی گری ہوئی ٹیم نہیں اور نہ ہی ہمارے لیے کرکٹ ختم ہوئی ہے۔شعیب اختر کا کہنا تھا کہ میزبان بورڈ کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ نیوزی لینڈ کو ایس او پیز کی اگر اتنی ہی فکر تھی تو ٹیم کے لئے پورا ہوٹل بک کرا دیتے، جہاں وہ پریکٹس بھی کر سکتے۔لیجنڈ باؤلر کا کہنا تھا کہ آئندہ ایسی بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے چارٹرڈ فلائٹ کیوں نہیں کرا

تازہ ترین