تازہ ترین

۔97ہزار 570نئے کیسز

نئی دہلی // ملک میں کورونا وائرس کی یومیہ تعداد کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔پچھلے قریب دو ہفتوں سے 90ہزار سے زیادی کیسز ہر دن سامنے آرہے ہیں۔سنیچر کوگذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا کے سب سے زیادہ 97  ہزار،570کیسز رپورٹ ہوئے ۔ وہیں 81ہزار سے زیادہ افراد کی شفایابی کے ساتھ صحت مند افراد ہونے والوں کی تعداد نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ہفتہ کو مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے نجات پانے والوں کی مجموعی تعداد 36 لاکھ،24ہزار،197 ہوگئی ہے ۔وہیں ملک میں کورونا وائرس کے 97,570 نئے کیسز سامنے آنے سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 46 لاکھ،59 ہزار،985 ہو گئی۔ شفایاب ہونے والوں کے مقابلہ میں کورونا کے نئے کیسز زائد ہونے سے ایکٹیو کیسز 14,836سے بڑھ کر 9 لاکھ،58 ہزار،316 ہوگئے ہیں ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 1201اموات سے

صاف نیت سے بنائی گئی اسکیموں کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں:مودی

 بھوپال//وزیر اعظم نریندر مودی نے کل کہا کہ صاف نیت سے بنائی گئی اسکیموں کے نفاذ کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔وزیر اعظم مودی ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ پردھان منتری آواس یوجنا (دیہی) کے تحت مدھیہ پردیش کے 12 ہزار دیہاتوں میں تعمیر کیے گیے گھر 1 لاکھ 75 ہزار خاندانوں کو سونپے جانے کے پروگرام سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے ممبر پارلیمنٹ جیوترادتیہ سندھیا بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شامل ہوئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر صحیح نیت سے تیار کی گئی اسکیم کا نفاذ اچھے سے ہوتا ہے تو یہ اسکیم صحیح ہوتی ہے اور مستحق افراد تک اس کا فائدہ پہنچتا ہے ۔وزیر اعظم نے مکان حاصل کرنے والے تمام مستحقین کو گھر کی چابی ملنے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو ابھی تک گھر نہیں ملے ہیں، ان کے خواب بھی پورے ہوں گے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ پہلے غریب حکو

منڈی نظام کو ختم کرنے کیلئے حکومت قانون لارہی ہے :کانگریس

نئی دہلی//کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت ایسے قانون لارہی ہے جس سے کسانوں کے ساتھ من مانی کی جا سکے اور منڈی نظام کو ختم کرکے فصلوں کے بدلے کم ازکم حمایت قیمت وغیرہ کے تحت ان کو فائدہ نہیں دیا جاسکے ۔کانگریس جنرل سکریٹری اور میڈیا محکمے کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے ہفتے کو یہاں پریس کانفرنس میں یہ کہا کہ مودی حکومت کسان کے کھیت کھلیہان ہڑپنے کی سازش کر رہی ہے ۔اس کے لئے وہ پہلے زمین ہڑپنے کا آرڈنینس لائی اور اب کھیتی ہڑپنے کے تین کالے قانون لے کر آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کھیت کھلیہان اناج منڈیوں پر تین آرڈنینسوں کا حملہ کیا ہے ۔ ان آرڈنینسوں کو کالے قانون کانام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک میں کھیتی اور کروڑوں کسان مزدور آڑھتی کو ختم کرنے کی سازش کے دستاویز ہیں۔ان قانونوں کو کھیتی اور کسانی کو صنعت کاروں کے ہاتھ گروی رکھنے کی سوچی سمجھی سازش بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ

ممبئی میں لوکل ٹرین خدمات بحال کرنے کی تیاری

ممبئی//مہاراشٹرحکومت جلد ہی عام مسافروں کے لئے مضافاتی ٹرینیں دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر عمل کرے گی۔ فی الحال لوکل ٹرینیں صرف ان لوگوں کے لیے چلائی جارہی ہیں جو لازمی خدمات میں مصروف ہیں۔ اگر منصوبے کے مطابق سب کچھ ختم ہوجاتا ہے تو ، عام شہری اگلے ہفتے سے لوکل کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ، وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے کووڈ 19 ٹاسک فورس سے اس بارے میں بات چیت کی۔ وزیراعلیٰ نے حکام سے ریلوے کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے اور ہر ایک کے لئے دوبارہ کام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کرنے میں پوری احتیاط برتنے کو کہا۔ سینٹرل اور مغربی ریلوے نے پہلے کہا ہے کہ ، اگر ان سے پوچھا گیا تو وہ مختصر اطلاع پر مزید ٹرینیں چلانے کی پوزیشن میں ہیں۔ مزید یہ کہ ، مقامی ٹرینیں ، جو صرف ضروری کارکنوں کو لے جارہی ہیں ، اب دو طرح کی نجی فرموں یعنی بجلی کی کمپنیوں اور طیارے کی بحالی اور مرمت کی منظوری دینے والی فرم

مایاوتی کا اسکولی بچوں کی فیس معافی کا مطالبہ

لکھنؤ//بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے وسیع تر مفاد عامہ میں مرکزی و ریاستی حکومتوں سے اپنے شاہی خرچے میں کٹوتی کرکے سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں کی اسکولی فیس معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے دور میں لاک ڈاؤن سے ملک میں اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے شدید بے روزگاری اور زندگی میں کافی بحران جھیل رہے کروڑوں لوگوں کے سامنے بچوں کی فیس جمع کرنے کے مسائل بے حد سنگین ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو کئی جگہ اب احتجاجی مظاہرہ وغیرہ کے طور پر سامنے آنا پڑرہا ہے ۔ اس دوران لوگوں کو پولیس کے ڈنڈے کھانے پڑرہے ہیں جو کافی تکلیف دہ ہے ۔محترمہ مایاوتی نے ہفتہ کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا'کورونا لاک ڈاؤں سے متاثر ملک کی اقتصادی کساد بازاری سے بے تحاشہ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور زندگی میں شدید بحران کا شکار لوگوں کے سامنے بچوں کی فیس جمع کرنے کا مسئلہ سنگین