کشمیر میں682اورجموں میں785نئے کورونا کیس

سرینگر//جموں کشمیر میں جمعرات کو 1467نئے کورونا وائرس کے کیس سامنے آئے۔ ان میں682کیس وادی کشمیر جبکہ785کیس جموں صوبے میں ظاہر ہوئے اور ان میں 62مسافر بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اب کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد59711تک پہنچ گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سرینگر ضلع میں233،بڈگام میں89،بارہمولہ میں53،پلوامہ میں28،اننت ناگ میں78،کپوارہ میں47،بانڈی پورہ میں55،کولگام میں14،گاندر بل میں75جبکہ شوپیان ضلع میں 10کورونا وائرس کے کیس سامنے آئے۔ اسی طرح جموں ضلع میں210،اُدھمپور میں82،راجوری میں88،کٹھوعہ میں75،سانبہ میں69،پونچھ میں75،رام بن میں18،ڈوڈہ میں97،ریاسی میں27اور کشتواڑ ضلع میں44کیس سامنے آئے۔  

حوالہ کیس:ای ڈی چارج شیٹ میں محبوس شبیر شاہ کی اہلیہ بلقیس بھی ملزم قرار

سرینگر//انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے محبوس علیحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ کی اہلیہ ڈاکٹر بلقیس شاہ کو 2005کے منی لانڈرنگ کیس میں ملزم کے طور شامل کیا ہے۔یہ کیس شبیر شاہ اور محمد اسلم وانی کیخلاف درج ہے اور ان پر حوالہ رقم حاصل کرنے کا الزام ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بلقیس کا نام چارج شیٹ کے ضمیمہ میں شامل کیا ہے جو گذشتہ روز دلی کی ایک عدالت میں پیش کی گئی۔اس کیس کی شنوائی ایڈیشنل سیشن جج دھرمندر رانا 10نومبر کو کریں گے۔ چارج شیٹ سرکاری وکلاءاین کے مٹا اور راجیو اواستھی نے عدالت کے سامنے پیش کی جس میں کہا گیا کہ بلقیس شاہ نے اپنے شوہر شبیر شاہ کے ہمراہ 2.08کروڑ روپے اسلم وانی سے حاصل کئے۔ چارج شیٹ میں مزید کہا گیا کہ اسلم نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اس نے یہ ساری نقدی شبیر شاہ اور تین موقعوں پر اُن کی اہلیہ بلقیس شاہ کو دیدی۔  ای ڈی چارج شیٹ میں کہا گیا”بلقیس نے

ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ نے سوپور کے مہلوک نوجوان کی موت کی تحقیقات کا حکم دیا:آئی جی کشمیر

سرینگر//آئی جی پولیس کشمیر رینج وجے کمار نے جمعرات کو کہا کہ شمالی قصبہ سوپور میں مہلوک نوجوان کے اہل خانہ کے الزامات کے بعد ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ نے مذکورہ نوجوان کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ آئی جی کشمیر نے نامہ نگاروں کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا”میرا ماننا ہے کہ عرفان احمد پتھر پر گرنے کی وجہ سے جاں بحق ہوا۔وہ اند ھیرے میں گر کر حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مر گیا ہوگا۔اب تحقیقاتی ٹیم ہی حقائق لیکر سامنے آئے گی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا سے پیدا صورتحال کی وجہ سے عرفان کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے سونہ مرگ میں مجسٹریٹ اور قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں دفن کیا گیا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ عرفان جنگجوﺅں کا ایک بالائے زمین کارکن تھا اور اس کی تحویل سے دو گرینیڈ بر آمد ہوئے تھے۔بعد ازاں مزید بر آمدگی کیلئے عرفان کو لی

سرینگر معرکہ میں مارے گئے جنگجوﺅں کا تعلق جنوبی کشمیر سے تھا:دلباغ سنگھ

سرینگر//جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ بتہ مالو سرینگر میں فورسز کے ساتھ معرکہ آرائی کے دوران جو تین جنگجو جاں بحق ہوئے اُن سبھی کا تعلق جنوبی کشمیر تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں برس کے دوران ابھی تک کل ملاکر177جنگجوﺅں کو جاں بحق کیا گیا ہے جن میں72غیر مقامی جنگجو بھی شامل تھے۔ انہوں نے بتہ مالو میں45سالہ خاتون (کونثر جان) کی ہلاکت کو ”بدقسمتی“ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراس فائرنگ میں آکر جاں بحق ہوئی ۔ دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران ایک خاتون کراس فائرنگ میں پھنس کر جاں بحق ہوگئی۔ انہوں نے خاتون کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ پولیس کنٹرول روم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پولیس سربراہ نے کہا کہ آج صبح پولیس اور سی آر پی ایف کے مشترکہ آپریشن کے دوران سرینگر کے بتہ مالو علاقے میں جنگجوﺅں اور فورسز کے ماب

پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر کی خانہ نظر بندی ختم

سرینگر//پیپلزڈیمو کریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر نعیم اختر کو جمعرات کے روز خانہ نظر بندی سے رہا کیا گیا۔ اختر5اگست2019سے احتیاطی حراست میں تھے۔ وہ پہلے سب جیل اور بعد میں اپنے گھر کے اندر نظر بند رہے۔ اختر نے اپنی خانہ نظر بندی ختم ہونے کی تصدیق ایک ٹیوٹ میں کی۔ انہوں نے لکھا” حراست کے407روز بعد آج مجھے مطلع کیا گیا کہ میں کہیں بھی جانے کیلئے آزاد ہوں“۔ یاد رہے کہ اگست2019کو کئی لیڈران کوقید و بند میں رکھا گیا جن میں سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل تھے تاہم ابھی صرف پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی ہی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایام اسیری کاٹ رہی ہیں۔  

بتہ مالو سرینگر معرکہ آرائی میں3جنگجو، شہری خاتون جاں بحق ،سی آر پی ایف آفیسر زخمی

سرینگر//شہر سرینگر کے بتہ مالو علاقے میں جمعرات کی صبح جنگجووں اور فورسز کے مابین مسلح معرکہ آرائی کے دوران تین جنگجو جاں بحق ہوگئے۔اس معرکہ میں ایک 45سالہ شہری خاتون بھی از جان ہوگئی جبکہ سی آر پی ایف کا ایک آفیسر زخمی ہوگیا۔ نیوز ایجنسی جی این ایس کے مطابق کونثر ریاض نامی خاتون گولی لگنے سے زخمی ہوگئی اور اسے پولیس اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا۔ معرکہ آرائی کے دوران تین عدم شناخت جنگجو بھی جاں بحق ہوگئے جبکہ سی آر پی ایف کا ڈپٹی کمانڈنٹ گولی لگنے سے زخمی ہوگیا جس کو 92بیس اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے تین جنگجوﺅں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی شناخت کی جارہی ہے۔ اس سے قبل فورسز نے بتہ مالو میں ایک مخصوص علاقے کو محاصرے میں لینے کے بعد تلاشی آپریشن شروع کیا جس کے دوران چھپے جنگجووں نے گولیاں چلائیں اور یوں معرکہ آرائی شروع ہوگئی

نوجوان کی پُراسرار ہلاکت| سوپور میں غم و غصہ اور احتجاج

سوپور//سوپور میں ایک24 سالہ نوجوان کی مبینہ طور پر پولیس حراست میں ہلاکت کیخلاف لوگوں نے بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے کئے۔اہل خانہ نے واقعہ کی جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان، عرفان احمد ڈار جنگجوئوں کیلئے کام کرتا تھا،  پولیس حراست کے دوران فرار ہوا جس کے بعد اسکی لاش بر آمد کی گئی۔اس واقعہ کے ساتھ ہی سوپور میں انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی اور بازار بند ہوئے۔ اہل خانہ کیا کہتے ہیں؟  عرفان کے بڑے بھائی جاوید احمد ڈار نے بدھ کے روز اپنے گھر کے باہر خواتین کی آہ و فغان کے بیچ میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ’’مکان میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں، ڈیڑھ ماہ کی فوٹیج چیک کریں اور اس کے علاوہ میرے اور میرے بھائی کے موبائل فونز کو چیک کریں اگر کچھ نکلا تو جو چاہیں ہمارے ساتھ کریں‘‘۔انہوں نے کہا کہ عرفان کو منگل

نیشنل کانفر نس کی پارلیمنٹ میں دستک

نئی دہلی// نیشنل کانفرنس نے لوک سبھا کے مونسون اجلاس کے دوران شوپیان فرضی انکائونٹر اور سوپور حراستی ہلاکتوں کے معاملات اٹھا کر ایوان میں تحریک التوا پیش کی۔این سی نے کہا کہ جموں کشمیر میں پچھلے ایک سال سے زیادتیوں کے نئے ریکارڈ قائم کئے جارہے ہیں۔نیشنل کانفرنس رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے بدھ کو پارلیمنٹ اجلاس کے دوران وقفہ صفر میں سوپور میں نوجوانوں کی پُراسرار ہلاکت اور مبینہ شوپیان فرضی تصادم میں 3نوجوانوں کی ہلاکت کے معاملات اُٹھائے۔ انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ 5اگست2019کے غیر آئینی فیصلے کے بعد جموںوکشمیر میں ظلم و جبر کی ایک داستان لکھی جارہی ہے۔مرکزی حکومت نے اپنے فیصلوں کو صحیح جتلانے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں لائیں اور اب فرضی انکائونٹروں اور حراستی ہلاکتوں سے جبر و استبداد کے نئے ریکارڈ قائم کئے جارہے ہیں۔ ایک ماہ قبل شوپیان میں ایک تصادم آرائ

کورونا اموات میں مزید18کا اضافہ

 سرینگر//جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے مزید 18افراد فوت ہوگئے ۔ مہلوکین کی مجموعی تعداد932ہوگئی ہے جن میں سے 185جموں جبکہ 747کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔بدھ کو 92سفر کرنے والوں سمیت مزید 1590افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد58ہزار کا ہندسہ پار کرکے 58244تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 19798جموں جبکہ 38446کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔  تازہ 1590متاثرین میں سے 758کشمیر جبکہ 832جموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے 758افراد میں سے 225سرینگر، 119بڈگام، 92بارہمولہ، 70پلوامہ، 37اننت ناگ، 74کپوارہ، 42بڈگام، 13کپوارہ اور 86گاندربل جبکہ شوپیان میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ۔ جموں صوبے کے متاثرین 832افراد میںسے 221جموں، 44ادھمپور، 147راجوری، 80کٹھوعہ، 39سانبہ، 92پونچھ، 39رام بن، 114ڈوڈہ، 24ریاسی  اور 32کشتواڑ سے تعلق رکھتے ہیں۔   ۔ 18اموات

ہند چین سرحد پر کوئی دراندازی نہیں ہوئی

نئی دہلی//مرکزی وزرات داخلہ نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہند چین سرحد پر دراندازی کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا تاہم اس دوران ہند پاک سرحد پر دراندازی کے47 واقعات پیش آئے ۔انہو ں نے کہا کہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمہ کے بعد عسکری کارروائیوں میں کافی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ گزشتہ تین برسوںمیں پاکستان سے لگنے والی سرحدو ں پر 594دراندازی کی کوششیں ہوئیں جن میں سے 312کامیاب بھی ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہند چین سرحد پر ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ جموںکشمیر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 582جنگجوئوں کو ہلاک جبکہ 46کو  گرفتار کیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ سال 2018سے امسال ستمبر تک 76فورسز اہلکار بھی مختلف تشدد آمیز واقعات میں مارے گئے ۔

ڈل جھیل کی طرز پرجھیل ولر کے حدود کی نشاندہی کا معاملہ

سرینگر// ہائی کورٹ نے ولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (ڈبلیو یو سی ایم اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ آیا شمالی کشمیر میں جھیل ولرکی حدود کی اسی طرح نشاندہی کی جاسکتی ہے جس طرح جھیل ڈل کی حدود کو نشان زد کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس پونیت گپتا پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ 23 ستمبر تک ولر کی حدود مختص کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرے۔عدالت مرکزی اوقاف کمیٹی تارزو دھرمنبل کی طرف سے  ایڈوکیٹ شفقت نذیر کی وساطت سے مفاد عامہ کی درخواست، جس میں ولر کے نشان زدہ حدود کے اندر رام سر آبی ذخائر میں میونسپل کمیٹی سوپور کو ٹھوس فضلہ پھینکنا بند کرنے پر قانونی چارہ جوئی کی سماعت کررہی تھی۔ عدالت نے جھیل ولر کے نشان زدہ حدود میں ٹھوس فضلہ پھینکنے کو’’حساس مسئلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے میونسپل کمیٹی سوپور کو ہدایت کی کہ

تازہ ترین