تازہ ترین

مرمو کے استعفیٰ سے مشیروں کے اختیارات بھی ختم

جموں//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے جی سی مرمو کے استعفیٰ کے بعد ان کے مشیروں کے اختیارات ختم ہوگئے ہیں۔مشیروں کے اختیارات کے حوالے سے  حکومت کی جانب سے کسی حکم کی عدم موجودگی میں سینئر عہدیداروں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر مرمو کے استعفیٰ کے بعد مشیر بے اختیار ہوگئے ہیں۔ایک سینئر افسر نے بتایاکہ وہ(مشیر) لیفٹیننٹ گورنر مرمو کے مشیر تھے،جب لیفٹنٹ گورنراستعفیٰ دیتا ہے تو مشیر بے اختیار ہوجاتے ہیں۔تاہم حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی حکم جاری نہیں کیاگیاہے۔انہوں نے بتایا کہ جب تک دوبارہ تقرری نہ ہو تب تک ان کے اختیارات ختم ہیں۔انہوںنے بتایا کہ نئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کل سرینگر میں حلف لیں گے جس کے بعد ہی مشورے سے حکومت کی طرف سے مشیروں کے حوالے سے احکامات جاری کئے جاسکتے ہیں۔انتظامیہ کے اعلیٰ افسر نیمزیدبتایا’’نیا لیفٹنٹ گورنر ہی فیصلہ کرے گا کہ آیا

کورونا وائرس| نائب تحصیلدار سمیت 15فوت،کشمیر میں 400کا ہندسہ پار

 سرینگر //6اگست بروز جمعرات، جموں کشمیر میں نائب تحصیلدار سمیت مزید15افراد کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ متوفین کی تعداد بڑھکر 441ہوگئی ہے جن میں 34جموں جبکہ کشمیر میںیہ تعداد 400کا ہندسہ پار کرکے 406ہوگئی ہے۔جمعرات کو مزید 499افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ اسطرح متاثرین کی مجموعی تعداد 23ہزار کا ہندسہ پارکرکے 23454ہوگئی۔ ان میں 5273جموں جبکہ 18181افراد کشمیر میں متاثر ہوئے ہیں۔ نئے 499 کیسوں میں سے سب سے زیادہ 113سرینگر، 44بارہمولہ، 9پلوامہ، 20 کولگام، 8شوپیان، 73اننت ناگ، 52بڈگام، 17کپوارہ، 49بانڈی پورہ، 41گاندربل، 51جموں، 5راجوری، ایک رام بن، 6کٹھوعہ، 2ادھمپور، 5سانبہ، 1پونچھ  اور2کشتوارڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔  ۔ 15فوت جموں و کشمیر میں جمعرات کو مزید 15افراد کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ ان میں 3سرینگر، 3پلوامہ،2کپوارہ، ایک بانڈی پورہ، ایک بارہمولہ ایک شوپی

جموں وکشمیر میں صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں 7ڈگری اضافہ ہوگا

سرینگر //جموں وکشمیر میں موسم کے مزاج بدل رہے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں 7ڈگری سلسیش کا اضافہ ہو نیکا امکان ہے جس کا اثرقدرتی نظام پر پڑ سکتا ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے ساتھ 2سب کلائمٹ زون بھی ناپید ہو جائیں گے جس کا سب سے زیادہ اثر جموں وکشمیر پر پڑیگا ۔ جنگلات وماحولیات کی مرکزی وزارت کی جانب سے نیشنل مشن آن ہمالین سٹیڈیز کی تحقیق کے مطابق صدی کے آخر تک جموں وکشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے سبب درجہ حرارت میں 7ڈگری سلسیش کا اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق لداخ خطہ کے ٹھنڈے صحرا (COLD DESERT)22فیصد تک سکڑ جائیں گے جبکہ2سب کلائمنٹ سطحیں اس صدے کے آخر تک مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے ۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ پروفیسر شکیل رامشو نے اپنی ایک تحقیق کے دوران موسمی تبدیلی کا جائزہ لینے کیلئے تین ماڈل کا استعمال کیا ہے ،جس میں

قاضی گنڈ میں48گھنٹوں کے دوران دوسرا واقعہ

اننت ناگ // جنوبی کشمیر میں مشتبہ جنگجوئوں کی جانب سے پنچایتی نمائندوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دیوسر حلقہ انتخاب میں گذشتہ 48گھنٹوں کے دوران جنگجوئوں نے ایک اور پنچایتی نمائندے پر حملہ کرکے اُسے ہلاک کر دیا ۔ جمعرات کی صبح 9بجکر 10منٹ پر مشتبہ جنگجوئوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی  کے نائب ضلع صدر کولگام و سرپنچ سجاد احمد کھانڈے ولد علی محمد کھانڈے پر اُس وقت گولیاں چلائیں جب وہ اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا ۔گولیاں سرپنچ کی چھاتی اور پیٹ میں جالگیں اور اسے فوری طور پرگورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ لایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اُ سے مردہ قرار دیا ۔حملے کے فوراََ بعد فوج اور پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی تاہم مقامی لوگوں کے مطاق حملہ آور جو کہ ممکنہ طور پر موٹر سائیکل پر سوار تھے، جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب رہے ۔45سالہ مہلوک سرپنچ گذشتہ سال بی جے پی کی ٹک

کورونا وائرس کے 499نئے مثبت معاملات سے مجموعی تعداد 23454

سرینگر//حکومت نے جمعرات کو کہا کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے499نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے426کا تعلق کشمیر صوبے سے اور 73کا تعلق جموں صوبے سے ہے اور اس طرح مثبت معاملات کی کل تعداد23454تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ ابھی تک نوول کورونا وائرس کے23454معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے7310 سرگرم معاملات ہیں ۔ اَب تک15708اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔ جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد426تک پہنچ گئی ،جن میں سے 395کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور31کاتعلق جموں صوبہ سے ہےں۔ اِس دوران آج مزید464 شفایاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے105اور کشمیر صوبے کے 359اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔ بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 686808ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے 06اگست

کشمیر میں سرگرم جنگجوﺅں کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا:پولیس سربراہ

سرینگر//جموں کشمیرپولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ کشمیر میں سرگرم جنگجوﺅں کو ہتھیاروں کی زبردست کمی کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دلباغ سنگھ نے کہا”یہاں سرگرم جنگجوﺅں کو ہتھیاروں کی سنگین کمی کا سامنا ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اب جنگجوﺅں تک ہتھیار پہنچانے کا نیا طریقہ اپنایا ہے ۔دلباغ سنگھ کے مطابق پاکستان جنگجوﺅں تک ہتھیار پہنچانے کیلئے ڈرون قسم کے یو اے وی کام میں لارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت جموں کشمیر میں200سے کم جنگجو سرگرم ہیں اور اس سال محض26جنگجو دراندازی کرکے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ دلباغ سنگھ کے مطابق بنا پائلٹ کے چلنے والی ہوائی گاڑیوں کے ذریعے جنگجوﺅں تک ہتھیار پہنچانے کے کئی واقعات ماضی قریب میں کپوارہ،ہیرا نگر،کٹھوعہ اور راجوری علاقوںمیں پیش آئے ہیں۔  

سی آر پی ایف اہلکار سمیت مزید3کورونا سے از جان،دن میں ابھی تک7ہلاکتیں

سرینگر//جموں کشمیر میں جمعرات کو مزید تین افراد کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے۔اس سے قبل صبح چار افراد کی جان چلی گئی تھی اس طرح آج کورونا سے مرنے والوں کی تعداد7ہوگئی۔ نیوز ایجنسی کے این او کے مطابق آج مرنے والوں میں ایک سی آر پی ایف اہلکار بھی شامل ہے جو43ویں بٹالین سے وابستہ اور اُتر پردیش کا باشندہ تھا اور اس کی عمر50سال تھی۔اس کے علاوہ رسو بڈگام کا ایک65سالہ شہری اور پوتالی جموں کا ایک42سالہ شہری از جان ہونے والوں میں شامل ہیں۔ اس سے قبل آج صبح مولو چھترا گام شوپیان کا55سالہ شہری، نوگام سرینگر کا82سالہ شہری،ملہ باغ سرینگر کا80سالہ شہری اورہندوارہ کا68سالہ شہری انتقال کرگئے۔

ایک نائب تحصیلدار سمیت جموں کشمیر میں مزید4کورونا وائرس ہلاکتیں

سرینگر//وادی کشمیر میں جمعرات کو مزید چار افراد کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی جاں گنوا بیٹھے۔ان میں ایک نائب تحصیلدار بھی شامل ہے۔ نیوز ایجنسی کے این او کے مطابق آج کورونا سے جاں بحق ہونے والوں میں مولو چھترا گام شوپیان کا55سالہ شہری، نوگام سرینگر کا82سالہ شہری،ملہ باغ سرینگر کا80سالہ شہری اورہندوارہ کا68سالہ شہری شامل ہیں۔ شوپیان کے جاں بحق شہری کے بارے میں حکام نے کہا کہ وہ محکمہ مال کا ایک سینئر آفیسر تھا اور اس وقت وہ نائب تحصیلدار وچی کے طور اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔

۔5اگست پر کرفیو جیسا سماں،وادی بھر میں سخت ترین بندشیں

سرینگر// آئین ہند میںجموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن قانون دفعہ 370 منسوخ کرنے اور سابق ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی فیصلے کی پہلی برسی پر وادی میں دوسرے روز غیر اعلانیہ کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں۔ حکام نے اگرچہ منگل کی شب کرفیو ہٹانے کے احکامات دیئے تھے لیکن غیر سرکاری طور پر کرفیو جیسی صورتحال بدستور جاری رہی۔سخت ترین بدشو ں کی بدولت قاضی گنڈ سے کرناہ تک سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر بیشتر سیاسی جماعتوں کے دفاتروں بشمول گپکار روڑ کو سیل کیا گیا تھا۔ پہلی برسی کے موقعہ پر وادی کے شمال و جنوب میں بدھ کو سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔غیر سرکاری طور پر کرفیو جیسی صورتحال رہی ،شہر اور وادی کے دیگر قصبوں میں کسی کو بھی نقل و حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،سڑکوں پر خاردار تاریں بچھا کر رکاوٹیں کھڑا کی گئیں تھیں،سبھی سڑکیں سیک تھی، لال چوک مکمل

ڈاکٹر فاروق کی گپکاررہائش گاہ سیل

سرینگر// حکام نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی گپکار رہائش گاہ پر مین اسٹریم حزب اختلاف لیڈروں کا اہم اجلاس ناکام بنادیا کیونکہ شرکاء کو ڈاکٹر عبد اللہ کے گھر تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ڈاکٹرعبداللہ کی رہائش گاہ کی طرف جانے والی سڑک کو خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا تھااور پولیس وفورسز اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی ۔کانگریس ، سی پی آئی (ایم) ، پی ڈی پی ، جے کے پی ایم ، پی ڈی ایف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کا اہم اجلاس منعقد ہونا تھا ، جو دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے ایک سال بعد منعقد ہونے جارہا تھا۔تاہم اجلاس میں شرکت کرنے والے لیڈروںنے بتایا کہ انہیں نظربند رکھا گیا اور گھروں سے باہر جانے نہیں دیاگیا ۔ اس کے علاوہ مین اسٹریم جماعتوں کے پارٹی ہیڈ کوارٹروںکو بھی مکمل طور پر خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا ۔فورسز اہلکاروں نے ڈاکٹر فاروق کی رہائش کی جانب کسی بھی فرد کو جانے ک

کورونا وائرس|بدھ کو9 کی موت ،559مثبت

سرینگر //جموں و کشمیر میں بدھ 5اگست کو مزید 9 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئے۔  اس طرح ابتک متوفین کی تعداد  426ہوگئی  ہے جن میں سے 31جموں جبکہ 395افراد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔بدھ کو کورونا وائرس متاثرین میں مزید 559افراد کا اضافہ بھی ہوا ہے اور متاثرین کی مجموعی تعداد22955پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 5200جموں جبکہ 17755 افراد کشمیر میں متاثر ہوئے ہیں۔ تازہ 559متاثرین میں سے 160 سرینگر، 29بارہمولہ، 105پلوامہ، 27کولگام، 7شوپیان، 7 اننت ناگ، 41 بڈگام، 2کپوارہ، 44بانڈی پورہ، 41 گاندربل، 61جموں، 5 راجوری، 8کٹھوعہ،12 ادھمپور، 5سانبہ، 3پونچھ اور 2 کشتواڑ سے تعلق رکھتے ہیں۔    9اموات  جموں و کشمیر میں بدھ کو مزید 9افراد کورونا وائرس سے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ مرنے والوں میں سے 8کا تعلق کشمیر جبکہ ایک ادھمپور سے تعلق رکھتا ہے۔ کشمیر کے 8متوفین میں

مختلف محکموں کے انجینئرنگ شعبے ایک ہی چھت کے نیچے

سرینگر//حکومت نے مختلف محکموں کے انجینئرنگ ونگوں کو ایک ہی شعبہ کیساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاکہ تعمیراتی کاموں و پروجیکٹوں میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ میعار اور اخراجات کو اعتدال میں رکھا جاسکے۔ انتظامی کونسل نے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو کی سربراہی والی میٹنگ میں مختلف محکموں کی انجینئرنگ ونگو کے ڈھانچوں میں تبدیلی لانے کا غیر معمولی فیصلہ لیتے ہوئے محکمہ تعلیم،سیاحت،اعلیٰ و فنی تعلیم،باغبانی،زرعی پیدوار،افزائش جانور و ماہی گیری، پھولبانی، تواضع، ایسٹیٹس، آفات سماویٰ، جنگلات، ٹرانسپورٹ اور صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں انجینئرنگ شعبوں کو محکمہ تعمیرات عامہ میں یکم دسمبر2020سے ضم کرنے کی منظوری دی۔انتظامی کونسل نے فیصلہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ جو محکمے انجینئرنگ شعبوںکا استعمال کرتے ہیں،جنہیں ضم کیا جائیگا،کو تاہم اس بات کا اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کاموں کی نشاندہی اور انتظامی منظوری کو

لیفٹیننٹ گورنر کی شمالی کمانڈ فوجی سربراہ سے ملاقات

سرینگر//جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر غور کرنے کیلئے راج بھون سرینگر میں لیفٹیننٹ گور نر اور فوجی حکام کے درمیان اہم ملاقات ہوئی  ہے۔اس ملاقات میں سیکورٹی صورتحال اور دیگر کئی اہم سلامتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ فوج کے شمالی کمانڈ کے سربراہ ،لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے بدھ کو راج بھون سرینگر میں لیفٹیننٹ گورنر ،گریش چندر مرمو سے ملاقات کی۔راج بھون کے ترجمان کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر اور لیفٹیننٹ جنرل جوشی نے جموں و کشمیر میں مروجہ سلامتی منظرنامے اور سیکورٹی کے مجموعی انتظامات سے متعلق مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ترجمان کے مطا بق لیفٹیننٹ گورنر نے انسداد شدت پسندی کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز کے مابین قریبی اور موثر ہم آہنگی کو برقرار رکھنے پرزور دیا ، اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں امن و ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی طرح کی

لیفٹیننٹ گورنر مرمو مستعفی

سرینگر // جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو نے بدھ کی شام استعفیٰ دیدیا ہے۔ بدھ کو دفعہ 370منسوخی کی سالگرہ بھی منائی گئی۔بدھ کی شب سماجی رابطہ گاہوں پر گریش چندر مرمو کے مستعفی ہونے کے بارے میں پیغامات دیئے گئے جس کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے اسکے بارے میں خبریں نشر کرنا شروع کیں۔بعد میں اسکی تصدیق سرکاری طور پر آل انڈیا ریڈیو سے کی گئی۔ آل انڈیا ریڈیو کے ٹویٹر ہینڈل پر کہا گیا ’’ اکتوبر 2019میں لیفٹیننٹ گورنر بنائے گئے گریش چندر مرمو مستعفی ہوگئے ہیں‘‘۔واضح رہے کہ گریش چندر مرمو جموں کشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر تھے۔مرمو کو 31اکتوبر 2019کو لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔وہ 1985 کے گجرات کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ جموں کشمیر میں تعیناتی سے قبل وہ مرکز میں سیکریٹری اخراجات پر تعینات رہے تھے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق کمپٹورل آڈیٹر جنرل راج

جموں کشمیر میں کورونا وائرس کے 559نئے متاثرین،9ہلاکتیں

سرینگر//جموں کشمیر میں بدھ کو کورونا وائرس کے مزید559متاثرین ظاہر ہوئے۔اس طرح مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مہلک وائرس سے متاثرین کی تعداد22955تک پہنچ گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آج وادی کشمیر سے463جبکہ جموں صوبے سے96کیس سامنے آئے۔ مذکورہ ذرائع نے مزید کہا کہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران جموں کشمیر میں کورونا وائرس کی وجہ سے 9افراد جاں بحق ہوگئے۔ان میں ایک ہلاکت جموں میں جبکہ آٹھ ہلاکتیں وادی کشمیر میں واقع ہوئیں۔اس طرح کورونا ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر426ہوگئی ہے۔ان میں جموں میں31جبکہ وادی کشمیر میں 395اموات ہوئیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت جموں کشمیر میں 7285متحرک کیس ہیں۔  

فاروق عبد اللہ کی بلائی گئی میٹنگ پابندیوں کی وجہ سے منعقد نہ ہوسکی:نیشنل کانفرنس

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے بدھ کو کہا کہ پارٹی صدر فاروق عبد اللہ نے دفعہ 370ہٹائے جانے سے پیدا صورتحال پر غور کرنے کیلئے جوکچھ سیاسی پارٹیوں کی میٹنگ بلائی تھی وہ حکام کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے منعقد نہ ہوسکی۔ عبد اللہ نے آج اپنی گپکار روڑ پر واقع اپنی رہائش گاہ پرکئی پارٹیوں کی میٹنگ بلائی تھی جس میں خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے سیاسی لائحہ عمل پر غور کرنے کیلئے بلایا گیا تھا۔ ایک این سی لیڈر کے مطابق پارٹی کے رکن پارلیمنٹ حسنین مسعودی اور پی ڈی پی کے راجیہ سبھا ممبر فیاض میر کو گپکار روڑ سے واپس بھیجا گیا اور اُنہیں بتایا گیا کہ شہر میں کورونا مخالف لاک ڈاﺅن نافذ ہے۔ اس کے علاوہ سی پی آئی (ایم) لیڈر یوسف تاریگامی اور نیشنل کانفرنس کے ایک اور رکن اکبر لون اور عوامی نیشنل کانفرنس کے لیڈر مظفر شاہ کو اُن کی رہائش گاہوں میں ہی روکا گیا۔ سابق وزیر اعلیٰ عم

بھاجپا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال پورا ہونے کا جشن منایا، سرینگر میں مٹھائیوں کی تقسیم

 سرینگر//بھارتیہ جنتا پارٹی کے کشمیر یونٹ نے بدھ کو جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے کی خوشی میں جشن منایا۔ بھاجپا لیڈران نے پارٹی کے صدر دفتر پر ترنگا لہرا کر اور مٹھائیاں تقسیم کرکے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ ”ہم دفعہ370کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے کا جشن منارہے ہیں“، بھاجپا لیڈر الطاف ٹھاکر نے جواہر نگر سرینگر میں قائم پارٹی صدر دفتر پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفعہ370کے خاتمے نے جموں کشمیر کے اندر کافی مثبت تبدیلیاں لائی ہیں۔ انہوں نے کہا”پہلے پتھر بازی ہوتی تھی اورآئی ایس آئی ایس کے جھنڈے لہرائے جاتے تھے، اب ایسا نہیں ہوتا ہے،ہم اسی لئے جشن منارہے ہیں“۔ ٹھاکر نے کہا کہ جو آج کے دن کو ”یوم سیاہ“ کے طور مناتے ہیں وہ” آئی ایس آئی ایس کے ہمدرد ہیں“۔

کورونا وائرس| 10فوت، مہلوکین 417

سرینگر // جموں و کشمیر میں مزید 10افراد کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی جان گنوا چکے ۔ متوفین کی تعداد بڑھکر 417ہوگئی ہے۔ ان میں سے 30جموں جبکہ 387افراد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ منگل کو مزید 390افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 22396تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 5104جموں جبکہ 17292افراد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ تازہ 390متاثرین میں سے 99سرینگر،14بارہمولہ، 14پلوامہ، ایک کولگام، 11شوپیان، 37اننت ناگ، 9بڈگام، 20کپوارہ، 5بانڈی پورہ، 28گاندربل، 41جموں، 21راجوری، 4کٹھوعہ، 26ادھمپور، 11سانبہ، 7ڈوڈہ، 14پونچھ اور 28ریاسی سے تعلق رکھتے ہیں۔   10اموات  جموں و کشمیر میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران مزید 10افراد کورونا وائرس سے فوت ہوگئے۔ مرنے والوں میں سے 3سرینگر، 3بڈگام،2پلوامہ، ایک بانڈی پورہ اور ایک  بارہمولہ سے تعلق رکھتا ہے۔ محکمہ صحت کے ایک سینئر افسر نے بتایا

مذہبی مقامات اور عبادتگاہیں 16اگست سے کھل جائینگے

سرینگر//جموں کشمیر حکومت نے مرکزی زیر انتظام والے علاقے میں16اگست سے تمام مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔جموں کشمیر میں قریب5تک مذہبی مقامات اور عبادت گاہیں بند رہنے کے بعد16اگست کو ایک بار پھر کھل جائیں گی،جموں کشمیر حکومت کے ترجمان کمشنر سیکریٹری منصوبہ بندی روہت کنسل نے اعلان کیا کہ عبادت گاہیں اور مذہبی مقامات کو16اگست سے کھولا جائے گا تاہم مذہبی جلوس اور بڑے مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد رہے گی۔ روہت کنسل نے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر اس کی جانکاری دیتے ہوئے تحریر کیا’’جموں کشمیر حکومت کی جانب سے تمام مذہبی مقامات اور عبادتگاہیں16اگست2020سے کھلیں گی۔مذہبی جلوسوں اور جامع اجتماعات بدستور سختی کے ساتھ ممنوع ہونگے‘‘۔ وادی میں17مارچ کو پائین شہر میں کورونا وائرس میں مبتلا پہلا کیس ظاہر ہونے کے بعد19مارچ جمعہ سے تمام عبادگاہوں اور مذہبی مقا

خصوصی پوزیشن کی منسوخی کا ایک سال مکمل

سرینگر//مرکزی حکومت کی جانب سے آئین ہند میں جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370 کے خاتمہ اور دفعہ 35Aکی منسوخی کیساتھ ساتھ ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں میں تبدیل کرنے کے فیصلے کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ جموں کشمیر کے آئین کی تخصیص اور تقسیم کی پہلی برسی کے موقعہ پر وادی میں2روزہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لانے کا اعلان کیا گیا تھا۔پچھلے سال4اور 5اگست 2019کی درمیانی شب جموں کشمیر میں انٹر نیٹ، فون سروس اور ہر طرح کے مواصلاتی رابطے منقطع کردیئے گئے اور وادی میں خاص کر سخت ترین حفاظتی اقدامات کو بروئے کار لایا گیا اور پوری وادی کی ناکہ بندی کی گئی۔ شہر یا دیہات میں کسی بھی شخص کو فھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 5اگست دن کے 11بجے راجیہ سبھا کے جاری اجلاس میں جموں کشمیر تنظیم نو قانون کو منظور کیا گیا جسکے ساتھ ہی ریاست کا درجہ ختم ہوگیا، دفعہ 370قصہ پارینہ ہوگیا اور ریاست کے آ