ڈبلیو ایچ او نے کورونا مریضوں پر ایچ سی کیو ٹیسٹ پر روک ہٹالی

جنیوا/نئی دہلی//عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے سالیڈیریٹی ٹرائل کے تحت کورونا وائرس ’کوویڈ 19‘ کے مریضوں پر ہائی ڈروکسیکلوکوین کے ٹیسٹ پر لگائی گئی روک ہٹا لی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر تیدروس گیبرئیسس نے کوویڈ 19 پر باقاعدہ پریس کانفرنس میں بدھ کو یہ اطلاع دی۔انہوں نے بتایا کہ سالیڈیریٹی ٹرائل میں ہائیڈروکسیکلوکوین (ایچ سی کیو)کےسلسلے میں پیدا فکروں کے درمیان پچھلے ہفتے اس دوا کے استعمال پر عارضی روک لگائی گئی تھی۔ایسا احتیاط کے طورپر کیا گیاتھا۔اس دوران سالیڈیریٹی ٹرائل کی ڈاٹا سیفٹی اور نگرانی کمیٹی نے ٹیسٹ کے اعدادو شمارکا مطالعہ کیا ہے۔کمیٹی کی سفارش میں کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ کے پروٹوکول میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ڈبلیو ایچ او سربراہ نے کہا،”کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر سالیڈیریٹی ٹرائل کےایگزیکیوٹو گروپ نےایچ سی کیو سمیت سالیڈیریٹی ٹرائل

دنیا میں کوورنا سے 64.98 لاکھ لوگ متاثر، 3.86لاکھ کی موت

بیجنگ / جنیوا / نئی دہلی//عالمی وبا کوورنا وائرس (کووڈ 19) دنیا بھر میں اب تک 64.98 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور 3.86 لاکھ سے زائد لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنس اور انجینئرنگ سینٹر (سی ایس ایس ای) کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق کوورنا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 6498486 لوگ متاثر ہوئے ہیں اور 385649 اموات ہو چکی ہیں۔ اس وائرس سے متاثرین 2706352 مریض ٹھیک ہو چکے ہیں۔ کوورنا وائرس سے متاثر ہونے کے معاملے میں امریکہ دنیا بھر میں پہلے اور برازیل دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہے۔ دوسری طرف اس وبا سے ہوئی اموات کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ پہلے، برطانیہ دوسرے اور اٹلی تیسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوورنا انفیکشن کے ریکارڈ 9304 نئے معاملے درج کئے گئے ہیں اور اب کل کوورنا متاثرین کی تعداد 216919 ہو گئی ہے۔ وہی اس دوران 260 اف

کورونا کا بڑھتا قہر

جنیوا // عالمی وبا کوروناوائرس (کووڈ 19) سے دنیا بھر میں اب تک 63.78 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور 3.80 لاکھ سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے ۔امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کوروناوائرس سے دنیا بھر میں اب تک 63،78،239 افراد متاثر ہوئے ہیں اور 3،80،250 لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے معاملہ میں امریکہ دنیا بھر میں اب بھی پہلے ، برازیل دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہے ۔ دوسری طرف اس وبا سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ پہلے ، برطانیہ دوسرے اور اٹلی تیسرے نمبر پر ہے ۔دنیا کی سپر پاور مانے جانے والے امریکہ میں کورونا وائرس سے اب تک 18لاکھ31ہزار806 لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور 1لاکھ06ہزار180 اموات ہو چکی ہے۔ برازیل میں اب تک 5لاکھ55ہزار383 لوگ اس کی زد میں آ چکے ہیں اور 31ہزار199 افراد کی موت ہو چکی ہے ۔روس میں بھی

مسجد نبوی کو کھول دیا گیا

ریاض //حرمین شریفین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مسجد نبوی کے کھلنے کے پہلے ہی روز 93 ہزار 774 نمازیوں نے وہاں نماز ادا کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسجد نبوی کے گیارہ  دروازے31مئی کی صبح کی نماز سے ایک گھنٹہ قبل ہی کھول دیے گئے تھے اور تمام نمازیوں کو سخت حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کے بعد ہی مسجد میں جانے کی اجازت دی گئی۔مسجد کے کھلنے کے پہلے ہی دن سب سے زیادہ 40 ہزار سے زائد نمازیوں نے مغرب کی نماز ادا کی اور اس دوران سماجی فاصلے کو اختیار کیا گیا۔خیال رہے کہ مسجد نبوی سمیت سعودی عرب کی دیگر مساجد کو 20 مارچ کو بند کیا گیا تھا، تاہم30 اور 31مئی کے بعد سعودی عرب کی ہزاروں مساجد کو کھول دیا گیا۔  

امریکہ میں سیاہ فام شہری کے قتل کیخلاف مظاہرے جاری

 ہیوسٹن// امریکہ کی مختلف ریاستوں میں کرفیو کے باوجود لوگ گھروں سے باہر نکل کرسیاہ فام شہری کے قتل کیخلاف مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں بدھ کو ہزاروں لوگوں نے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس حراست میں موت کے خلاف سڑکوں پر اتر کر پرامن مظاہرہ کیا۔یہ احتجاج ومظاہرہ جارج فلائیڈ کے خاندان کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے پرامن طریقے سے ایک پارک سے ہیوسٹن سٹی ہال کی جانب مارچ کیا۔مظاہرے کے دوران لوگوں نے کچھ لمحے کیلئے خاموشی رکھی اور امن وامان کی اپیل کی۔ جارج فلائیڈ کے خاندان کے لئے مقامی چرچ کے ایک پادری نے دعا بھی کی۔ اس مظاہرہ میں جارج فلائیڈ کے خاندان کے 16 ارکان کے علاوہ کئی سیاستدان اور مقامی آرٹسٹ بھی موجود تھے ۔خیال رہے ، امریکہ کے مینی پولس میں سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی گزشتہ پیر کو پولیس حراست میں موت ہو گئی تھی۔جارج فلائیڈ پر جعلی

۔52فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کو نسل پرست قرار دیا

 واشنگٹن//امریکہ کی آدھی سے زیادہ آبادی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نسل پرست قرار دے دیا۔ اس بات کا انکشاف حالیہ سروے میں ہواہے جہاں 52 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نسل پرست سمجھتے ہیں۔ سروے میں شامل 37 فیصد امریکیوں کے خیال میں ٹرمپ نسل پرست نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ کو حریف سیاسی جماعت ڈیموکریٹ کے سینیٹرز بھی نسل پرست قرار دے چکے ہیں۔ سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کو نسل پرست سمجھنے والوں میں ڈیمو کریٹس، سیاہ فام اور لاطینی امریکیوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ ری پبلکنز میں سے بھی تیرہ فیصد نے صدر ٹرمپ کو نسل پرست قرار دیا۔ سفید فام امریکیوں کی اس بارے میں منقسم رائے سامنے آئی ہے ۔ دریں اثناء امریکی شہریوں کی اکثریت سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی حامی ہے اور صدر ٹرمپ کے جوابی سخت اقدامات کی طرفدار نہیں۔ یہ بات ایک سروے میں سامنے آئی ہے ۔ امریکہ میں مظاہرے ر

تازہ ترین