تازہ ترین

بھارت میں اومیکرون کی دستک| کرناٹک میں 2کیسز کی نشاندہی

۔30واں ملک بن گیا،نئی دہلی اور ممبئی میں14شک آورافراد قرنطین

تاریخ    3 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


مانٹیرنگ ڈیسک
بنگلورو// ہندوستان میں پہلی بار اومیکرون قسم وائرس کے دو کیسزکی نشاندہی ہوئی ہے۔وزارت صحت نے جمعرات کو کہا، یہ دنیا کا 30 واں ملک بن گیا ہے جس نے کورونا وائرس  کے نئے قسم کی اطلاع دی ہے جس نے عالمی خطرے کو جنم دیا ہے۔وزارت صحت کے جوائنٹ سکریٹری لاو اگروال نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ دونوں معاملات کرناٹک میں رپورٹ ہوئے ہیں مریضوں میں دو مرد ہیں جن کی عمریں 66 اور 46 سال ہیں۔ لاو اگروال نے مزید کہا کہ ان کی رازداری کے تحفظ کے لیے ان کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق، 66 سالہ شخص غیر ملکی ہے جس کی جنوبی افریقہ کے سفر کی تاریخ ہے اور 46 سالہ بوڑھا بنگلورو میں ہیلتھ ورکر ہے۔ پہلا مریض  نتائج مثبت آنے کے سات دن بعد ہندوستان چھوڑ گیا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام افراد کا سراغ لگایا گیا ہے جو ان دونوں افراد کے رابطے میں آئے تھے ،ان کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں کیسز ہلکے ہیں اور ابھی تک کوئی شدید علامات نہیں ہیں۔اس دوران بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نئی دلی بین الاقوامی ائر پورٹ پر بر طانیہ  اور فرانس سے آنے والی دو پروازوں کے مسافروں کے تیسٹ کئے گئے جن میں 4افراد کورونا مثبت پائے گئے اور انہیں فوی طور پر قرنطین کرلیا گیا۔ بدھ کو ہی ہالینڈ کے 3اور لندن سے آئے ایک شخص کو بھی  کورونا مثبت پایا گیا، ان پر بھی اومیکرون میں مبتلا ہونے کا شبہ ہے۔ ادھر ممبئی ائر پورٹ پر گذشتہ روز 6افراد کرونا مثبت پائے گئے جنہیں قرنطین کیا گیا۔ سبھی 10افراد کے نمونے لئے گئے ہیں اور انکے اومیکرون وائرس میں مبتلا ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ادھر اگروال نے کہا، "ہمیں Omicron کی کھوج کے بارے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن آگاہی بالکل ضروری ہے۔ کوویڈ کے لیے موزوں رویے پر عمل کریں اور اجتماعات سے گریز کریں‘‘۔مرکز کے COVID-19 ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر وی کے پال نے کہا، "جلد کسی بھی وقت کوئی سخت پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی، صورتحال اچھی طرح قابو میں ہے،ابتدائی اشارے یہ بتاتے ہیں کہ بہت زیادہ تبدیل شدہ Omicron پچھلی قسموں کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ متعدی ہو سکتا ہے، تاہم، اس تنا کے کسی جان لیوا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ اگروال نے کہا، "یہ اندازہ لگانا بہت جلد ہے کہ آیا اومیکرون زیادہ شدید انفیکشن کا سبب بنتا ہے یا ڈیلٹا سمیت دیگر اقسام کے مقابلے میں کم ہوگا۔پہلی بار جنوبی افریقہ میں دریافت کیا گیا، اومیکرون وبائی مرض سے لڑنے کی عالمی کوششوں کے لیے ایک تازہ چیلنج ہے جس میں متعدد ممالک پہلے ہی دوبارہ پابندیاں عائد کر رہے ہیں ۔یہ وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے ابھرنے والا تازہ ترین کورونا وائرس ہے، جس میں فی الحال غالب ڈیلٹا ویرینٹ بھی شامل ہے، جس کا پہلی بار اکتوبر 2020 میں ہندوستان میں پتہ چلا تھا۔ہندوستان نے 15 دسمبر کو طے شدہ تجارتی بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لئے تیار ی کی تھی ، لیکن بدھ کے روز اس فیصلے کو ختم کردیا اور کہا کہ بحالی کی تاریخ کا مقررہ وقت پر اعلان کیا جائے گا۔حکومت نے ریاستوں کو جانچ میں تیزی لانے کا مشورہ دیا ہے، ایک ہفتہ بعد جب وزارت صحت نے کہا کہ جانچ میں حالیہ کمی وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے ہندوستان کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔اپریل اور مئی میں انفیکشن اور اموات میں ریکارڈ اضافے سے لڑنے کے بعد، ہندوستان میں کورونا وائرس کے معاملات میں کافی کمی آئی ہے۔

تازہ ترین