تازہ ترین

نئے وائرس’ اومیکرون‘ سے نئی تشویش | تیاری کیلئے مزید 2ہفتے درکار | آئندہ چند روز میں مشاوت ہوگی ،احتیاط برتنے کی ضرورت: ڈاکٹر ایم ایس کھورو

تاریخ    29 نومبر 2021 (00 : 12 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی نئی ہیت ’’اومیکرون‘‘ کی وجہ سے کئی ممالک نے  پھر پروازوں پر پابندی عائد کردی ہے اور بھارت میں بھی کئی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے جموں و کشمیر میں آئند چند روز کے دوران  اہم مشاورت کی جائیگی۔ وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایم ایس کھورو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’جنوبی افریقہ سے پیدا ہونے والے نئے وائرس کو عالمی ادارہ صحت نے ’’اومیکرون‘‘کا نام دیا ہے اور اس کو Virus of Concern بھی قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس وائرس کے 50اقسام کی موجودگی کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر کھورو نے بتایا ’’50اقسام میں سے 30 پروٹین(30spike protiens)  تیزی سے پھلتے ہیں جبکہ دیگر 15آہستہ پھلتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر کھورو کا کہنا تھا ’’ اس وائرس کے بارے میں جو بھی جانکاری دستیاب ہے وہ صرف قیاس آرائیوں پر مبنی ہے اور اصل حقائق سامنے آنے میں ابھی بھی 2ہفتوں کا وقت درکار ہے کیونکہ تحقیق کا عمل جاری ہے‘‘۔ڈاکٹر کھورو کا کہنا ہے ’’ میں کوئی بھی پختہ جانکاری دینے سے قاصر ہوں،لیکن کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ وائرس ان لوگوں کو بھی کافی تیزی سے نشانہ بناتا ہے جو پہلے سے ہی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر کھورو نے بتایا ’’بھارت میں پیدا ہونے والے ڈیلٹا وائرس کے صرف 4سے 5اقسام ہیں اوراس نے ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصہ کو متاثر کرنے کے بعد بیرون ممالک میں بھی لوگوں کو متاثر کیا ۔ڈاکٹر کھورو نے بتایا ’’ امریکہ برطانیہ اور متحدہ عرب امرات نے بھی افریقہ سے آنے والے لوگوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ مرکزی سیکریٹری صحت نے تمام ریاستوں کے نام ہدایات جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا’’ جموں و کشمیر میں ابھی اس حوالے سے کوئی بھی  اعلیٰ سطحی مشارت نہیں ہوئی ہے لیکن آئندہ  چند روز میں متوقع ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ موجود ادویات کام کریں گی یا نہیں اور وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری کتنی شدید ہوگی ‘‘۔ڈاکٹر کھورو نے بتایا ’’ پہلے ہم چار ہفتوں میں ایک مرتبہ genome Sequencingکرتے تھے لیکن اب وائرس کے پھیلائو پر نظر رکھنے کیلئے ہر ہفتہ genome Sequencing کرنی پڑے گی‘‘۔صوبائی نوڈل آفیسرڈاکٹر طلعت جبین نے کہا ’’ ایئر پورٹ اور لوور منڈا میں ٹیسٹنگ سہولیات پہلے سے ہی دستیاب ہیں اور ہر آنے والے کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے‘‘۔ڈاکٹر طلعت نے بتایا ’’ بیرون ممالک سے آنے والے تمام لوگوں کا آر ٹی پی آر سی ٹیسٹ کیا جاتا ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کا ریپڈ ٹیسٹ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جبین نے کہا کہ ابھی یہ وائرس بھارت نہیں آیا ہے لیکن پھر بھی ہم نے تمام متعلقین کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے اور کورونا مخالف قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
 
 
 

مسلسل تیسرے دن بھی 2فوت | 145متاثر، سرینگر شہر میں پھر اضافہ

پرویز احمد 
سرینگر // جموں و کشمیر میںاتوار کو مسلسل تیسرے دن بھی کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا سلسلہ جاری رہا ۔ پچھلے 24گھنٹوں کیت دوران کورونا وائرس سے وادی میں 2افراد فوت ہوگئے۔ اسطرح پچھلے 3دنوں کے دوران کشمیر میں 8افراد وائرس سے فوت ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں متوفین کی مجموعی تعداد 4475ہوگئی ہے۔ اس دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 53ہزار 533ٹیسٹ  کئے گئے جن میں 7مسافروں سمیت مزید 145افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں و کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 36ہزار 531تک پہنچ گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے 145افراد میں جموں میں 18جبکہ کشمیر میں 127افراد شامل ہیں۔ کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے سبھی 127افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے127افراد میں سب سے زیادہ سرینگر میں 61، بارہمولہ میں 31، بڈگام میں 5،پلوامہ میں 7، کپوارہ میں 3، اننت ناگ میں 5، بانڈی پورہ میں 7، گاندربل میں 7،شوپیان میں 1جبکہ کولگام میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے۔ کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 11ہزار 543تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران مسلسل تیسرے دن بھی کشمیر میں اموات کا سلسلہ جاری رہا اور مزید 2افراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ کشمیر میں فوت ہونے والے 2دونوں افراد کا تعلق سرینگر ضلع سے  ہے۔ وادی میں متوفین کی مجموعی تعداد 2290ہوگئی ہے۔ جموں صوبے کے ادھمپور، کٹھوعہ اور کشتواڑ میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جبکہ دیگر 7اضلاع میں 18افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں صوبے میں مثبت قرار دئے گئے 18افراد میں 7بیرون ریاستوں سے سفر کرکے جموں پہنچے جبکہ دیگر 11افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے میں مثبت قرار دئے گئے18افراد میں جموں میں 4، راجوری میں 2، ڈوڈہ میں 2، سانبہ میں 1، پونچھ میں 1، رام بن میں 1 جبکہ 7افراد ریاسی میں متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 24ہزار 988تک پہنچ گئی ہے۔ اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی جموں صوبے میں کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ جموں صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد 2185بنی ہوئی ہے۔ 
 
 
 
 

ملک میں600 سے زائد لقمہ اجل  | مزید 8,774کیسز درج

یو این آئی
نئی دہلی//ملک میں ہلاکت خیز کورونا وائرس (کووڈ-19) کے نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں نشیب و فراز مسلسل جاری ہے۔ اگرچہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نئے کیسز میں کمی آئی ہے، تاہم مرنے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 73 لاکھ 58 ہزار 17 کووڈ افراد کو ویکسین لگائی گئی۔ اس کے ساتھ ہی اب تک 121 کروڑ چھ لاکھ 58 ہزار 262 افراد کو کووڈ ویکسین دی جا چکی ہے۔ ہفتہ کی آدھی رات تک کورونا وائرس کے 8774 نئے کیسز درج ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ 45 لاکھ 72 ہزار 523 ہو گئی ہے۔ اسی دوران 9481 مریض صحت یاب ہونے کے بعد مہلک ترین وبا کو مات دینے والوں کی تعداد تین کروڑ 39 لاکھ 98 ہزار 278 ہوگئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں مہلک وائرس سے مزید 621 مریضوں کی موت کے بعد ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 68 ہزار 554 ہو گئی ہے۔
 

تازہ ترین