تازہ ترین

مخدوم صاحب سے اسلامیہ کالج تک ڈرین بلاک

متبادل کیلئے منصوبہ سرکار کو بھیجا گیا ہے: میونسپل حکام

تاریخ    26 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //باچھی دروازہ نوہٹہ سے اسلامیہ کالج گوجورہ تک نبارڈکی جانب سے تعمیر کی گئی ڈرین بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ڈرین میں گندہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے سڑکیںپانی سے بھرجاتی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میںمیونسپل حکام کو کئی بار مطلع کیا گیا لیکن ڈرنیج سسٹم کو ٹھیک کرنے کا کوئی بھی انتظام نہیں کیا گیا ۔ادھر میونسپل حکام کا کہنا ہے کہ باچھی دروازہ سے اسلامیہ کالج تک متبادل ڈرین کیلئے منصوبہ منظوری کیلئے سرکار کوبھیجا گیا ہے۔ اس ڈرین کو نہ کسی پمپ اور نہ ہی کسی دوسری ڈرنیج نظام سے جوڑا گیا ہے ۔ باچھی دروازہ کے ایک باشندے ڈاکٹر گوہر بابا نے بتایا ’’علاقے میں گندے پانی کی نکاسی کیلئے مکانات کی پائپوں کو اس ڈرین سے جوڑ ا گیا ‘‘۔انہوں نے کہا’’ڈرین اسلامیہ کالج گیٹ اور باچھی دروازہ پر بلاک ہے لیکن اس کی صفائی نہیں ہورہی ہے‘۔ڈاکٹرگوہر نے بتایا کہ ڈرین بلاک ہونے کی وجہ سے گندہ پانی سڑک پر جمع ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے مقامی لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’’گندہ پانی سڑک پر جمع ہونے کی وجہ سے نہ صرف بچوں بلکہ لوگوںکو مساجد پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔انہوںنے مزید بتایا کہ سخت سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا ہے اور راہگیروں خاصکر خواتین کو چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سپر انٹنڈنگ انجینئر ڈرینیجز(Drainages) سرینگر میونسپل کارپوریشن محمد احسان نے اس سلسلے میںکشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ شہر خاص کے کئی علاقوں میں نبارڈ نے ڈرینیں تعمیر کی ہیں اور اسی طرح مخدوم صاحب سے لیکر اسلامیہ کالج تک بھی ڈرین بنائی گئی لیکن ان  کو ابھی جوڑا نہیں گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ مقامی لوگوں نے گھروں سے نکلنے والے پانی کواسی ڈرین کے ساتھ جوڑ دیا ہے حالانکہ ڈرین ابھی بلاک ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’ ڈرین میں پانی جمع رہنے کے بعد وہ باہر آجاتا ہے اور لوگوں کو چلنے پھر میں تکلیف ہوتی ہے‘‘۔ ایس ای موصوف نے کہا کہ لوگوں کی اسی تکلیف کو دور کرنے کیلئے میونسپلٹی نے علاقے میں ایک متبادل ڈرین تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور منظوری کیلئے سرکار کو بھیجا گیا ہے لیکن منصوبہ ابھی منظور نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ابھی بھی وقت لگ سکتا ہے۔