تازہ ترین

زنانہ کالج سرینگرنے آئیکونِک وِیک فیسٹول منایا | علمدارِ کشمیر اور لل دید کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی

تاریخ    25 اکتوبر 2021 (26 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// کشمیر کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین کے آئیکونک وِیک فیسٹول کے موقعہ پر ’آزادی کا امرت مہااُتسو‘ کے تحت وادی کے دو مشہور روحانی شخصیات شیخ نور الدین ولی ؒ اور لل دید کو یاد کرنے کے لئے ایک روزہ پروگرام کا اِنعقاد کیا گیا۔ اِس کے علاوہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، محبت اور بقائے باہمی ، ہمدردی کے لئے ان کی شراکت کو اُجاگر کیا۔پروگرام کے آغاز میں کالج کے طلباء نے اِستقبالیہ گیت حمد باری تعالیٰ اور قوالی پیش کی جس سے پروفیسر ، سکالر، ماہرین تعلیم ، طلباء ، ادباء ، شعراء اور دیگر سامعین محظوظ ہوئے۔کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر نسیم اَمان نے مہمانوں اور سامعین کا اِستقبال کرتے ہوئے شیخ العالم ؒ اور لل دید کی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا ’’ہم دو روحانی شخصیات کی شراکت اور صدیوں سے کشمیری ثقافت پر ان کے اثر و رسوخ پر ایک پروگرام کا انعقاد کر نے میں فخر محسوس کر تے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ ان دو روشن دانوں کی زندگی کے پہلوئوں پر روشنی ڈالنے کا ایک بہترین موقعہ ہے۔اِس موقعہ پر کلسٹر یونیورسٹی سرینگر کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر قیوم حسین مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجودتھے۔ انہوں نے لل دید اور شیخ العالم ؒ کے لئے اَپنے احترام کا اِظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر چہ علمدار کشمیر اور لل دید کا تعلق کشمیر سے ہے لیکن ان کا پیغام عالمگیر ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اِپنی ثقافت ، ادب کو فروغ دینے اور اَپنی بھرپور ثقافت پر فخر کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مغربی ادباء اور شعراء کا حوالہ دینے کے بجائے اَپنے آئیکنز کے محاورات ، اقتباسات اور دانشمندانہ اقوال استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ذریعے کشمیر ی نوجوانوں کو بااِختیار بنانے اور ترقی کے لئے کلسٹریونیورسٹی روزگار اور پیشہ ورانہ کورسز متعارف کرے گی جو جدید دور کا تقاضا ہے۔سابق چیئرمین شیخ العالم چیئر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر بشر بشیر نے دو روحانی شخصیات ،واکھ اور شروک کے فلسفہ ، روحانی روشن خیالی کے لئے مخفی اور خفیہ پیغامات ، ان کے عصری دور کی عکاسی ، سماجی میل جول ، رسومات اور سماجی طبقات کی ادبی شراکت پر روشنی ڈالی۔اِس موقع پر ممتاز علماء ، ادیبوں ، شاعروں اور ماہرین تعلیم نے حاضرین کو لل عارفہ اور شیخ العالم ؒ کی شخصیات کے مختلف جہتوں سے روشنا س کیا۔تکنیکی سیشن اوّل میں پیپر پیش کرنے والوں نے’ ’ لل دید کے زیر استعمال زبان اور ڈکشن‘‘ ، لل دید کا آئیڈیا برائے سماجی اِنصاف اور خواتین کی آزادی ‘‘،’’لل عارفہ کی شاعری میں جمالیات ‘‘ اور ’’ لل عارفہ کی شاعری میں اِنسانیت کا آئیڈیا ‘‘ جیسے موضوعات پر بحث کی ۔ اِس سیشن کی صدارت معروف ادیب اور براڈ کاسٹر محمدامین بٹ نے کی۔تکنیکی سیشن دوم میں پیپر پیش کرنے والوں نے ’’ شیخ العالم : امن کا پیامبر‘‘، موجودہ دور میں شیخ العالم ؒ کی تعلیمات کی مطابقت ‘‘ ،’’ شیخ العالم اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی ‘‘ ، شیخ العالم ؒ کے خطبات ‘‘ کے موضوعات پر غور وخوض ہوا۔اِس نشست کی صدارت سابق ڈائریکٹر جنرل ریڈیو کشمیر بشیر عارف نے کی۔ایک اور سیشن میں سابق سربراہ شعبہ کشمیری کشمیر یونیورسٹی پروفیسر شاد رمضان نے افتتاحی خطا ب کیا جبکہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ پروفیسر نسیم شفائی سیشن کے کلیدی مقرر تھے ۔ڈائریکٹر کالجز جے اینڈ کے پروفیسر ( ڈاکٹر ) یاسمین عشائی نے خصوصی خطاب پیش کیا۔اِس سے قبل پروگرام کا آغاز کالج کے شعبہ موسیقی کے طلباء نے رنگارنگ ثقافتی پرفارمنس سے ہوا۔ پروگرام کا اِختتام صوفی مشاعرہ سے ہوا۔