تازہ ترین

بھٹہ دھوریاں میں کوٹ بلوال کا قیدی جاں بحق | زینہ پورہ میں شہری ہلاک

کراس فائرنگ میں مارا گیا: پولیس/ فورسز نے ہلاک کردیا: لواحقین

تاریخ    25 اکتوبر 2021 (00 : 12 AM)   


شاہد ٹاک+سمت بھارگو+جاوید اقبال
شوپیان+راجوری +مینڈھر/ /زینہ پورہ شوپیان میں سی آر پی ایف کیمپ کے نزدیک فائرنگ کے ایک واقعہ میں آرونی بجبہاڑہ کا 20سالہ نوجوان جاں بحق ہوا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان کراس فائرنگ کے دوران مارا گیا۔ تاہم لواحقین کا کہنا ہے کہ اسے فورسز نے جنگجو سمجھ کر نزدیک سے گولیاں مار کرہلاک کردیا۔ اسکی ہلاکت کیخلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کیا۔ ادھربھٹہ دھوریاں مینڈھر پونچھ میں 14ویں روز ایک ڈرامائی پیشرفت کے دوران کوٹ بلوال جیل میں نظر بند ایک پاکستانی قیدی کو عسکریت پسندوں کے ممکنہ ٹھکانے ی نشاندہی کیلئے لیجانے کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں مذکورہ قیدی مارا گیا اور سیکورٹی فورسز کے 3اہلکار زخمی ہوئے۔

شوپیان

 بابا پورہ زینہ پورہ میںسی آر پی ایف  کیمپ کے نزدیک اتوار کی صبح ایک عام شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ضلع پولیس شوپیان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ مذکورہ شہری کی ہلاکت کا واقعہ جنگجوئوں اور سی آر پی ایف کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں پیش آیا ۔اس میں کہا گیا  ’’نامعلوم ملی ٹینٹوں نے اتوار کی صبح ساڑھے دس بجے بابا پورہ شوپیان میں 178 بٹالین سی آر پی ایف کی ایک ناکہ پارٹی پر حملہ کیا۔ سی آر پی ایف نے جوابی فائرنگ کی اور کراس فائرنگ کے دوران ایک عدم شناخت شخص مارا گیا ہے‘‘۔ مہلوک شہری کی شناخت اننت ناگ کے رہنے والے شاہد احمد کے طور پر کی گئی ہے۔شاہد اعجاز ولد اعجاز احمد نامی یہ 20سالہ نوجوان کھار پورہ آرونی بجبہاڑہ کا رہنے والا ہے ، جو دو روز قبل مزدوری کی غرض سے گھر سے زینہ پورہ کی جانب نکلا تھا۔مقامی لوگوں کے مطابق نوجوان کی موت سی آر پی ایف کی فائرنگ سے ہوئی ہے۔مہلوک کے آبائی گاں میں ہر آنکھ نم ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق مہلوک گھر کا واحد کما ئوتھا اور وہ مزدوری کیلئے شوپیان گیا تھا۔انہوں نے معاملہ کی باریک بینی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پونچھ

پونچھ کے مینڈھر سب ڈویژن کے بھٹہ دھوریاں نار جنگل علاقے میں جاری انکانٹر میں ایک ڈرامائی پیش رفت کے دوران ، کوٹ بلوال جیل میں بند پاکستانی عسکریت پسند، جسے پولیس نے 10 روزہ ریمانڈ پر لیا تھا ، ہلاک ہوگیا جبکہ اتوار کو جنگل میں ہونے والی فائرنگ میں تین سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔اس فائرنگ میں مارے گئے جنگجو کی شناخت ضیا مصطفی کے طور پر ہوئی ہے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ کا رہنے والا تھا اور اسے 2003 میں جنوبی کشمیر سے گرفتار کیا گیا تھا۔زخمی ہونے والے تین سیکورٹی اہلکاروں میں دو پولیس اہلکار اور ایک فوجی شامل ہے۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ  جمعرات کو بھٹہ دھوریاں گائوں کے نار خاص جنگلاتی علاقے میں انکانٹر شروع ہونے کے فورا ًبعد ، جس میں چار فوجی جوان مارے گئے۔اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اس علاقے میں نقل و حرکت اور عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق اس کیس کی تفتیش کے دوران ، تحقیقاتی ایجنسیوں اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی طرف سے کچھ اہم سراغ موصول ہوئے جن کی بنیاد پر کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران تحقیقاتی اداروں کے سامنے یہ شبہ پیدا ہوا کہ علاقے میں موجود عسکریت پسند گروپ ایک موبائل نمبر پر رابطہ کر رہا ہے جس کا تعلق ضیا مصطفی نامی عسکریت پسند سے ہو سکتا ہے جو کہ کوٹ بھلوال جیل میں قید ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس شبہ کی تحقیقات کے لیے اور عسکریت پسند گروپ اور جیل میں بند عسکریت پسند ضیا مصطفی کے درمیان کسی ایسے براہ راست رابطے کا پتہ لگانے کے لیے ، تحقیقاتی ایجنسیوں نے قانونی عمل کی پیروی کی اور جیل میں بند عسکریت پسند کا 10 روزہ ریمانڈ حاصل کیا ،جسے ہفتہ کو مینڈھر منتقل کیا گیا۔جیل میں بند عسکریت پسند سے مینڈھر میں پوچھ گچھ کی گئی اور کچھ اہم سراغ موصول ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح فوج اور پولیس کی ایک ٹیم جیل میں بند جنگجو کو بھٹہ دھوریاں گائوں کے نار خاص جنگلات میں لے گئی جہاں گزشتہ دس دنوں سے انکانٹر جاری ہے،اسے جنگل میں لے جایا گیا تاکہ اس جگہ کی شناخت کی جاسکے جہاں عسکریت پسندوں کے ممکنہ ٹھکانے موجود ہیں۔جیسے ہی جنگجو کو جنگل کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو پولیس اور فوج کی ٹیم پر فائرنگ کی گئی جس میں دو پولیس اہلکار اور ایک فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ جنگجو ضیا مصطفی بھی زخمی ہو گیا تاہم وہ شدید گولہ باری کے باعث موقع سے جانبر نہ ہو سکے۔سرکاری ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ زخمی اہلکاروں کو موقع سے نکال کر قریبی آرمی میڈیکل سینٹر لے جایا گیا جہاں وہ زیر علاج ہیں اور خطرے سے باہر ہیں۔زخمی پولیس اہلکاروں میں دلیپ کمار اور شفیق احمد شامل ہیں۔بعد میں ، تلاشی کے دوران جنگجو کو جنگل میں مردہ حالت میں پایا گیا اور اس کی لاش برآمد کی گئی ۔ایک سینئر پولیس افسر نے  بتایا کہ جیل میں بند جنگجو اس وقت مارا گیا جب اسے جنگلوں کی طرف لے جانے والی ایک ٹیم نے جنگل سے گولی چلائی جس میں تین سیکورٹی فورس اہلکار اور جیل میں بند جنگجو زخمی ہوئے اور بعد میں جنگجو کی موت ہوگئی۔دریں اثنا ، اس علاقے میں آپریشن اتوار کو مسلسل دسویں دن داخل ہوا جس میں اتوار کی صبح کئی گھنٹوں تک فائرنگ ہوئی۔