تازہ ترین

محبت کا تحفہ

افسانہ

تاریخ    24 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


گلشن رشید لون
نسیم آرا ء  دوڑتے بھاگتے گھبرائے گھبرائے شہزاد کے روم  میں  پہنچی تو دیکھا شہزاد کی کلائی سے خون بہہ رہا ہے۔ نسم آرا نے فورا اپنے دوپٹے سے شہزاد کی کلائی کو زور سے باندھا اور زور زور سے روتے ہوئے بولی! 
’’ آپ نے یہ کیا کیا؟ میری غلطی کی سزا مجھے دو آخر خود کو کیوں؟‘‘ شہزاااااااد ،  پکارتے ہوئے لمبی سانس لی اور پھر سے بولنا شروع کیا۔
’’آپ اور آپ ، آپ کا ریسرچ ورک، آپ کا فیوچر ، آ پ کی ہر پرابلم ، آپ کی ہر خواہش ہر تمنا صرف آپ سے شروع ہوکر آپ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ آپ نے صرف ہمیشہ خود کے بارے میں سوچاہے۔ کتنے خود غرض ہیں آپ شہزاد!!!  آپ نے کبھی مجھے اپنے احساس کے دائرے میں محسوس کیا ہے؟ جبکہ آپ میری زندگی میں جب سے آئے ہیں مجھے خود کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ملا۔ جانتے ہیں کیوں؟ بولئے!!! کبھی سوچا ہے ؟ میری زندگی کی ہر خوشی ہر غم ہر ضرورت آپ تک ہی محدودو ہو کر رہ گئی ہے۔ آپ میری زندگی بن گئے ہیں۔ کاش!!! آپ نے میرے احساس کو میری محبت کی گہرائی اور سچائی کو محسوس کیاہوتا تو آپ کبھی بھی یہ قدم نہیں اٹھاتے‘‘۔  ’’اوہ ! ‘‘نسیم آراء نے  بہت افسوس ظاہر کرتے ہوئے شہزاد سے پھر کہا ’’ایکچوّلی ! میں آپ کی آخر ہوں ہی کون ؟ کوئی بھی تو نہیں۔ آپ کے لئے غیر ہی تو ہوں۔ ‘‘ 
یہ سنتے ہی شہزاد نے نسیم آراء کو  گلے سے لگانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا’’ تم  اورغیر!!! جس سے پیار کیا جاتا ہے  وہ غیر نہیں ہوتا۔ اف ! خدایا!
نسیم آراء نے خود سے دور کرنے کے لئے شہزاد کو  دھکادیا۔  ’’شہزاد ! مجھ سے دور ہو جاؤ ‘‘ ۔اور روتے ہوئے بولی ’’آپ کو کیا لگتا ہے آپ کی زندگی صرف آپ کی ہے؟ اس پر میرا کوئی حق نہیں؟ آپ جو چاہیں گے وہ کریں گے؟ یہ بھی کبھی سوچا ہے اللہ بچائے ، آپ کو کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا؟میں کیسے زندہ رہتی؟‘‘ نسیم آرا ء مسلسل رورہی تھی۔ ’’ اور ہاں! یہ جو میری محبت کا انمول تحفہ ہے آپ اس کو واپس کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ اس کے واپس کرنے سے کیا آپ میری محبت کو بھی واپس کر سکتے ہیںجو میں آپ سے کرتی ہوں اور قیامت تک کرتی رہوں گی۔ محبت کا احساس میں نے آپ سے ہی محسوس کیا ہے۔ شہزاد ! پلیز ! میری غلطی کو معاف کردو ۔ مجھ سے دور مت جاؤ۔ میں آپ کے بغیر بہت اکیلی ہوں۔ میرے لئے آپ سے زیادہ کوئی اہم نہیں۔ میں آپ کے لئے دنیا چھوڑ سکتی ہوں پھر یہ واٹس اپ اور فیس بک کیا چیز ہے۔ دیکھو!! شہزاد!! میں اب کبھی ان کو  پھر سے یوز نہیں کروں گی۔ میں آپ کی قسم کھاتی ہوں۔ لیکن۔۔۔۔‘‘
’’ میں نے تمہیں کبھی بھی اپنے ساتھ خوش نہیں دیکھا۔ بولو!!! جواب دو!!! کوئی ایک ایسا دن بتاؤ جس میں تم میرے ساتھ خوش تھی۔ شاید میرے پیار میں ہی کوئی کمی رہ گئی ہوگی۔ یا پھر میں تمہاری اُمیدوں پر کھرا نہیں اُتر پایا۔ بولو!!! یہی بات ہے نا۔‘‘ شہزاد نے شکایت کرتے ہوئے کہا
’’ نہیں شہزاد !!! پلیز ایسا مت کہو ۔ اللہ قسم میں آپ کے ساتھ بہت خوش ہوں ۔ لیکن مجھے ایک انجانہ سا ڈر بھی ہے‘‘۔ نسیم آرا نے روتے ہوئے کہا
’’ پہلے رونا بند کرو۔ پھر بولو ‘‘ شہزاد نے ذرا سختی سے کہا
’’ میں آپ کو کھونے سے ڈرتی ہوں۔ مجھے نہ جانے ایسا کیوں لگتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں دھوکا دوں گا!!! آخر تم نے میرے بارے  میں کبھی پوزیٹیو سوچا ہے ؟تم کچھ بھی سوچو ، لیکن میں ہمیشہ وفا نبھاتا رہوں گا اور میں تمہیں وفا کرکے دکھاؤں گا۔‘‘نسیم آراء کی بات کاٹتے ہوئے شہزارد نے کہا۔
’’ نہیں! نہیں! بلکہ آپ کے دور جانے سے میں! میرا مطلب ہے میں نہیں رہ پاؤں گی۔ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی اور یہ جو آنسو آپ دیکھ رہے ہیں نا ! یہ دکھ کے آنسو نہیں ہیں بلکہ آپ کو جب جب دیکھتی ہوں تو خوشی  سے چھلک پڑتے ہیں۔لڑائی کے بعد کل ساری رات آپ کے لئے تڑپتی رہی۔ آپ سے دوری کے احساس نے مجھے جیسے مار ہی ڈالا۔ کل کی رات میرے لئے قیامت کی رات سے کچھ کم نہیں تھی۔ پلیز! آپ میرے احساس کو ڈرامہ کا نام مت دینا اور میرے ان آنسوؤں کو مگرمچھ کے آنسو۔‘‘
چپ! ایک دم چپ! شہزاد نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ پھر شہزاد نے ایک دم اچانک اپنے ہاتھ سے گھڑی نکال کر نسیم آرا ء کے سامنے ٹیبل پر غصے زور سے پٹخ دی۔ 
’’ شہزاد!!! یہ کیا کیا آپ نے؟ یہ صرف تحفہ نہیں ہے ۔ میری بے پناہ محبت کی نشانی ہے اور آپ نے آج۔۔۔۔ نسیم آرا ء زور زور سے رونے لگی اور بولی’’ کیا آپ جانتے ہیں۔ آپ کی قلائی میں اس گھڑی کو دیکھتی ہوں تو مجھے کیا محسوس ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں آپ کے پاس ہوں اور آپ میرے ساتھ ہیں۔ یہ وقت  اس گھڑی کے ساتھ بس ایسے ہی تھم جائے ہمارے لئے۔ لیکن آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔، مجھے معلوم ہے آپ کا ارادہ۔۔۔۔۔‘‘!!!
’’ ہاں ! تمہیں سب معلوم ہے !  شہزاد نے زور سے ٹیبل کو لات  ماری۔’’ تم تو انتریامی ہو‘‘
’’ نسیم آرا ء ڈر گئی اور بولی! شہزاد! میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ۔ پلیز! مجھے معاف کر دو ۔ اب ایسا نہیں کروں گی۔‘‘
’’ میں نے تم سے یہی کہا نا کہ جب میرے آس پاس کوئی اورہو تو فون مت کرو۔ میسج مت کرو، لیکن تم!! تمہیں یہ بات آخر سمجھ کیوں نہیں آتی؟میں جو کچھ بولتا ہوں تمہاری عزت کی خاطر بولتا ہوں۔اگر میری یہی بات تمہیں بری لگتی ہے تو پھر میں کبھی۔۔۔۔۔‘‘ اور شہزاد نسیم آراء کی طرف دیکھنے لگا۔
’’ نہیں شہزاد! پلیز ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے اس لئے۔۔۔ ایکچولی! آپ سے کتنی بھی باتیں کروںلیکن میرا دل نہیں بھرتا۔ ہر وقت آپ کے فون ،آپ کے میسج کا انتظار رہتا ہے وہ میرے لئے جینے کی اُمید ہے۔ لیکن میں آئندہ اس بات کا خیال رکھوں گی۔ مجھے معاف کر دو ‘‘۔ اور نسیم آرا شہزاد کے پیروں میں گرکرگڑگڑانے لگی۔
شہزاد نے نسیم آرا ء کو اٹھایا۔
شہزاد!!!
ہاں بولو!!! میں  آپ کی زندگی میں کہاں ہوں؟ میرا مطلب ہے آپ کی زندگی میں میری جگہ کہاں ہے؟
’’تم میرے دل میں ہو‘‘۔ شہزاد نے جواب دیا
یہ سنتے ہی نسیم آرا ء رونے لگی۔
’’مجھے تمہارا بس یہ رونا اچھانہیں لگتا‘‘۔
’’ اچھا! میں اب کبھی نہیں روؤں گی‘‘ نسیم آراء نے آنسو پوچھتے ہوئے کہا اور پھر شہزاد نے بہت ہی پیار سے نسم آرا ء کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ 
’’شہزاد!!! میں نے آج تک آپ کو بہت ستایا ہے۔ مجھے معاف کردو پلیز! میرے دل پر بہت بوجھ ہے‘‘۔
’’ اللہ قسم میں نے تمہیں اسی دن معاف کردیا تھا۔ میرا موٹو!!!  کہتے ہوئے شہزاد نے نسیم آرا کے آنسوؤں کو پوچھ دیا۔
’’شہزاد! آپ سے ایک بات کہوں؟‘‘
’’ہوں ! بولو‘‘
’’شہزاد! آپ کو معلوم ہے  میں نے زندگی میں بہت کچھ کھویا ہے۔ سب کچھ کھو کر آپ کو پایا ہے اور اللہ نے مجھے میرے سارے دکھوں کے بدلے میں آپ کو تحفہ کی شکل میں مجھے دنیا ہی میں اجر دیا ہے۔‘‘اور نسیم آراء شہزاد کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ تو شہزاد اُس کے بالوں کو سنوارتے ہوئے بولا’’ اچھا اور بتاؤ؟ کچھ خاص؟‘‘
نسیم آراء نے جواب دیتے وقت ایسا محسوس کیا جیسے اس نے شہزاد کے اس سوال کا جواب اپنے دل سے پوچھ کر دیا ہو اور دل کہہ رہا ہو کہ ’’شہزاد! خاص تو آپ ہیں۔ صرف اور صرف آپ اور ہمیشہ آپ۔ آپ سے زیادہ تو میرے لئے کوئی خاص نہیں۔‘‘
شہزاد نسیم آراء کے جذبات کو محسوس کرتے ہوئے بولا ’’نسیم ! تم مجھ سے اتنا پیار کرتی ہو‘‘؟
’’ہوں! لیکن مجھے آپ سے کچھ چاہئیے‘‘؟
شہزاد نے بغیر کوئی سوال پوچھے کہا ’’ میں نے تمہیں دیا‘‘۔
’’لیکن مجھے آپ سے !!! نسیم آراء بولتے ہوئے رُک گئی اور کچھ سوچ میں پڑ گئی۔
’’تم سوچ کیا رہی ہو؟ بولو! کیا چاہئیے تمہیں؟‘‘
’’میں سوچ رہی ہوں کہ آپ نے کہیں انکار کر دیا تو‘‘!!!
’’بولو! اب جلدی!!کیا چاہئیے تمہیں؟ شہزاد نے پھر سے کہا
’’آپ‘‘ اور نسیم آراء نے مایوسی سے نظریںجُھکا لیں۔ شہزاد مسکرانے لگا اور بولا’’ میں تو تمہارا ہی ہوں‘‘۔
’’لیکن کب تک‘‘؟ شہزاد
شہزادنسیم آراء کو چھیڑتے ہوئے پیار سے بولا’’ جب تک تم چاہو؟ کمینی!!!
’’آپ مجھے قیامت تک چاہیں۔اور اب اللہ سے مجھے آپ کے علاوہ کچھ نہیں چاہئیے‘‘۔
’’اچھا! تو میں تمہارا ہوں قیامت تک‘‘۔ تم بس خوش رہویار ‘‘‘۔ 
’’سنو!!! شہزاد ، آپ غصے میں بالکل بھی اچھے نہیں لگتے۔‘‘ 
’’اچھا!! شہزاد مسکرانے لگا اور پھر نسیم آراء سے کہا’’دیکھو میری طرف ‘‘۔
’’نہیں! مجھے شرم آتی ہے‘‘ ۔ نسیم آراء نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا
’’دیکھو میری طرف‘‘ شہزاد نے نسیم آراء سے پھر ضد کی۔تو نسیم آراء نے شرماتے ہوئے شہزاد کو دیکھا اور اپنے چہرے کو ہاتھوں سے چھپاتے ہوئے بولی’’شہزاد!!! اللہ کی قسم آپ کی آنکھوں میں بہت کشش ہے۔ آپ کی نظریں مجھے اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔آپ کی آنکھیں دیکھ کر مجھے کچھ یاد آتا ہے‘‘۔
’’کیا‘‘؟ شہزاد نے پوچھا
نسیم آراء چہرے کو چھپائے ہوئے گنگانے لگی۔
’’یہ آنکھیں دیکھ کر ہم ساری دنیا بھول جاتے ہیں
انہیں پانے کی دھن میں ہر تمنا بھول جاتے ہیں‘‘
شہزاد نے نسیم آراء کے چہرے سے ہاتھوں کو ہٹاتے ہوئے کہا’’ تم جانتی ہو؟ تم کتنی اچھی ہو؟‘‘
نسیم آراء نے پھر شرماتے ہوئے نظروں کو جھکاتے ہوئے پوچھا۔ ’’کتنی‘‘؟
’’بہت ت ت ت ، اچھی ! لیکن مجھ سے کم‘‘ شہزاد نے شرارت سے جواب دیا۔ پھر بات کو بڑھاتے ہوئے بولا’’ مجھے آج تک کسی نے تم سے زیادہ پیار نہیں دیا‘‘۔
’’شہزاد!! آپ شاید نہیں جانتے ؟ آپ بس آپ ہیں۔ آپ بہت پیارے ہیں ۔ میں آپ کی تعریف نہیں کر رہی ۔بلکہ آج تک آپ کی اچھائیوں ، خوبیوں اور آپ کے پیارے سے دل کو میں نے محسوس کیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے نسیم آراء کی آنکھوں میں آنسوجھلکنے لگے اور پھر رندھے ہوئے گلے سے بولی
’’ شہزاد! میرے دل میں بھی دوسری لڑکیوں کی ہی طرح شوق اور ارمان ہیں۔ میرا دل آپ سے بہت ساری باتیں کرنے اور ملنے کو کرتا ہے۔ آپ کے ساتھ جینا چاہتی ہوں۔ آپ کے قدموں میں ساری زندگی گذارنا چاہتی ہوں۔ میں نے اللہ سے وعدہ کیا ہے کہ اب آپ کو کبھی نہیں ستاؤں گی۔ بس آپ کو پیار کروں گی۔ آپ کی ہر بات میرے لئے آخری با ت ہوگی۔ آپ کا فیصلہ ہی میرا فیصلہ ہوگا۔ ‘‘
’’ہاں! مجھے معلوم ہے میری بھی تمہاری ہی طرح خواہشیںہیں، تمنائیں ہیں لیکن میں صبر کرتا ہوں‘‘
’’شہزاد! مجھے زندگی بھر ایسے ہی اپنے سینے سے لگے رہنے دو‘‘ پلیز!
’’میرا موٹو!]‘ شہزاد نے نسیم آرا کو بہت پیار سے چومتے ہوئے کہا۔
’’شہزاد! آنکھیں کھولو‘‘
’’ہاں بولو!!‘‘
’’جب ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو اتنا پیار کرتے ہیں تو یہ چھوڑنے کی بات بیچ میں کہاںسے آتی ہے؟‘‘
’’ تم ہمیشہ بولتی ہو۔ میں نے کبھی بولا یہ لفظ؟ بولو‘‘ شہزاد نے تھوڑا غصے میں کہا
’’نہیں شہزاد!  میں نے ہمیشہ غصے میں کہا۔ اور مجھے اس رات آپ سے جدا ہونے کا احساس ہوگیا تھا۔ شہزاد! وہ رات۔۔۔۔‘‘
’’اُف ! پھر وہی بات، تم کبھی یار۔۔۔‘‘شہزاد چڑ سا گیا
’’اوکے! اوکے! آپ پلیز غصہ مت ہوں۔ دیکھو میں کان پکڑتی ہوں۔ اچھا! شہزاد ایک بات کہوں؟‘‘
’’ کوئی فتنہ نہیں ہونا چاہئے۔ فتنہ کے بغیر بولو‘‘شہزاد نے نسیم آراء کو انگلی دیکھائی
’’ ہمیں ملے آج پورا ایک سال ہوگیا ہے اور اس ایک سال میں ، میں نے ایک زندگی جی ہے۔ ایسی خوبصورت زندگی جو میں نے کبھی سوچی بھی نہیں تھی۔ آپ ریلی(Realy)! بہت اچھے اور پیارے انسان ہیں سچ شہزاد۔ آپ کا پیار پانا خوش قسمتی ہے اور وہ خوش قسمت انسان میں ہوں۔‘‘
’’اب بس بھی کر و! یار‘‘شہزاد نے لمبی سانس لی
’’شہزاد ! مجھے ایسے ہی اپنے سینے سے لگے رہنے دو پلیز!‘‘
’’اوکے‘‘!
’’شہزاد! بولونا ! آپ کو مجھ سے کتنا پیار ہے؟‘‘
’’ہمیں تم سے پیار کتنا یہ ہم نہیں جانتے
مگر جی نہیں سکتے تمہارے بنا‘‘
  شہزاد ہنسنے لگا۔ ہنستے ہنستے  بولا ’’سمجھی محترمہ‘‘!!!
’’ہوں ! سمجھی‘‘
’’کیا؟‘‘شہزاد نے پوچھا
’’یہی کہ آپ کومجھ سے بالکل بھی پیار نہیں‘‘ نسیم آرا نے شرارتی انداز میں شہزاد کو چھیڑتے ہوئے کہا
’’اچھا ! تو بتاؤں؟ مجھے تم سے پیار ہے کہ نہیں؟ بولو!! آؤ قریب پھر۔۔۔۔‘‘اور  شہزاد نے نسیم آراء کو اپنی طرف کھینچا۔
’’جی نہیں! چھوڑو مجھے ! بس۔۔۔۔۔‘‘ نسیم آرا نے خود کو شہزاد کی گرفت سے چھڑاتے ہوئے  پیار سے چھیڑتے ہوئے کہا’’ شہزاد ! سنو!!! آپ بہت خراب ہیں۔ اس لئے میں آپ کو بہت پیار کرتی ہوں ۔ 
 شہزاد نے نسیم آراء کو پھر سے اپنی طرف زور سے کھینچا اور اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے پیار سے بولا ’’اچھا! ہم خراب ہیں تو خراب ہی سہی ، تم  اچھے ہو تو وفا کیوں نہیں کرتے؟ اور دونوں ہنسنے لگے۔
اچانک نسیم آراء خاموش ہو گئی اور کچھ سوچنے لگی ۔ نسیم آراء کو اچانک خاموش دیکھ کر شہزاد نے پوچھاکہ ’’تمہیں اب کیا ہوا؟ بولو!‘‘
’’کچھ نہیں ۔ بس ایسے ہی۔ ‘‘ نسیم آراء نے بات کو چھپاتے ہوئے بہانہ بنانے کی کوشش کی۔
’’کچھ نہیں مت بولو۔ جو بات ہے وہ بولو۔ ‘‘شہزادنے نسیم آراء سے بار بار پوچھا تو نسیم آراء نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔
’’شہزاد! کبھی کوئی اور لڑکی آپ کی زندگی میں آگئی تو۔۔۔۔‘‘؟
’’نہیں آئے گی!  ‘‘شہزاد نے نسیم آراء کو جواب دیتے ہوئے کہا’’کیونکہ میں نے اپنے دل کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ اور اگر میں ایسا کروں گا تو یہ دھوکہ ہوگا۔ اور میں دھوکے باز نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں جب کسی کا دل ٹوٹتا ہے تو اس پر کیا گذرتی ہے اور یہ تکلیف میں تمہیں ہرگز نہیں دے سکتا۔‘‘
’’شہزاد ! آئی ریلّی لو یو! آپ میں میری جان ہے ۔ آپ کو معلوم ہے  اس سمسٹر کے دوران میں اپنے گھر نہیں گئی تو مجھے گھر والے بلا رہے تھے۔ لیکن میں آپ سے ایک منٹ بھی دور نہیں رہ سکتی۔ اس لئے نہیں گئی۔‘‘
’’دیکھو! یہ زندگی ایک گلدستہ ہے اور یہ گلدستہ بہت سارے پھولوں سے مل کر بنتا ہے۔ اسی طرح ہماری زندگی میں پیار کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بھی حق ہے اور تمہیں سب کا حق ادا کرتے ہوئے گھر ضرور جانا چاہئے۔ سمجھیں محترمہ!!  شہزاد نے نسیم آراء کو بہت پیار سے سمجھایا۔
’’ہاں شہزاد! شاید آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن میری زندگی میں آپ سے زیادہ کوئی اہم نہیں ہے ۔ لیکن اب آپ نے مجھے گھر جانے کے لئے کہا ہے تو میں ضرور جاؤں گی۔ لیکن آپ کو کبھی ایسا تو نہیں لگے گا کہ مجھے کسی اور انسان سے۔۔۔۔۔ شہزاد! آپ سے ایک بات اور کہنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ  آپ کے علاوہ ہر غیر مرد میرے لئے حرام ہے۔ ‘‘
’’مجھے معلوم ہے اور تم پر بہت بھروسہ ہے میں نے تمہاری اتنی لڑائیوں کے باوجود بھی کبھی بھی تمہارے بارے میں ایسا نہیں سوچا۔ لیکن ہاں! پیار میں ایک دوسرے کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے‘‘شہزاد نے اپنی بات کو پوری کی۔
’’ہاں! میں سمجھی! آپ کا مطلب بندش!!!‘‘
’’ہاں ! بندش ہی سمجھو! پیار میں انسان آزاد نہیں بلکہ بندھ جاتا ہے‘‘۔
’’مجھے آپ سے آزادی نہیں بندش چاہئیے۔ اور آپ کی اس بندش کے لئے میں نے آپ سے بہت بار جھوٹ بولا تاکہ آپ مجھے ڈانٹیں، آپ مجھ سے پوچھ تاچھ کریں۔ کیونکہ مجھے اپنے اوپر آپ کا  حق محسوس ہوتا ہے اور یہی پوچھ تاچھ ، ڈانٹ ڈپٹ اور بندش آپ کا حق ہے اور یہ حق ہی دراصل آپ کا پیار ہے۔ اور مجھے صرف آپ کا پیار چاہیئے‘‘۔ شہزاد!!
’’ہوں !!! میرا جگر‘‘
’’شہزاد ! آپ اس وقت کوروک لو۔ پلیز! میرے لئے، خود کے لئے ۔ اور ہمارے پیار کے لئے اور اس وقت کو اور بھی خوبصورت بنا دو ۔ پلیز!!!‘‘
یہ کہتے ہوئے نسم آراء نے کمرے کی لائٹ آف کردی۔
���
ریسرچ اسکالر شعبئہ عربی، 
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، راجوری
موبائل نمبر؛7006922871
 

تازہ ترین