تازہ ترین

دوپہیوں والی گاڑیوں کی ضبطی کا شاخسانہ

سرینگرمیں ہوم ڈیلیوری کاکام بری طرح متاثر

تاریخ    23 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سرینگر//تجارتی مصنوعات گھر پہنچانے کے تجارت سے وابستہ متعدد اداروں نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ تین روز سے پولیس کی طرف سے دوپہیوں والی گاڑیوں کو ضبط کرنے کی مہم کی وجہ سے ان کی تجارت پرکافی برے اثرات پڑے ہیں۔شہر کے لوگوں نے بھی الزام لگائے ہیں کہ متوسط طبقے ،نچلے متوسط طبقے اورطلباء پولیس کی مہم سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور بہت سے لوگوں نے اپنی دوپہیوں والی گاڑیوں کو گھرمیں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’فاسٹ بیٹل ‘نامی ایک ادارے کے معاون بانی  سمیع اللہ نے ٹوئٹر پر لکھا،’’ہماری سرگرمیاں مسلسل رکی ہوئی ہیں کیوں کہ ہمارے ڈیلیوری بوائز(گھروں تک مصنوعات پہنچانے پر مامورلڑکے)کی دوپہیوں والی گاڑیاں مسلسل طور پولیس ضبط کررہی ہیں ۔سلسلہ وار ٹوئٹس میں انہوں نے کہاکہ جب کشمیرمیں تجارت نے دفعہ370کی منسوخی اورکووِڈ- 19لاک ڈائوںسے ہوئے نقصانات کے بعددوبارہ رفتار پکڑنی شروع کی تھی،اب امن وقانون کابندوبست تجارتی طبقہ کو’’مسل ‘‘رہا ہے۔انہوں نے پوچھا ،’’کشمیرمیں500سے زائدلڑکے ڈیلیوری ایگزیکیٹوز(گھر مصنوعات پہنچانے کاکام) کے طور کام کرتے ہیں،وہ اب کہاں جائیں گے؟‘‘کمپنی نے ٹوئٹر ہینڈل پراپنی سرپرستی کرنے والوں سے تعاون طلب کیا ہے۔اس میں کہاگیا ہے،’’اس ہیبت ناک صورتحال کے بیچ ،ہم اپنی طرف سے بھر پور کوششیں کررہے ہیں کہ ہم اپنی خدمات کسی بھی ممکن طور انجام دیں،لیکن ہماراکام کاج دوپہیوں والی گاڑیوں کی مسلسل ضبطی سے بری طرح متاثرہوا ہے۔ہم آپ کے ساتھ ہمیشہ سے ہیں ،ان حالات میں بھی کوششیں کررہے ہیں،لیکن ہمیں آپ کا تعاون چاہیے ،مہربانی کرکے ہمیں تعاون دیجئے‘‘۔سمیع اللہ نے کہا کہ ایسے حالات حکومت کے اِن دعوئوں پر سوالیہ لگاتے ہیں کہ حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کوراغب کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔انہوں نے مزیدکہا،’’مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کیسے غیرملکی سرمایہ کاری کوکشمیرراغب کرنے اقدام صبح شام کئے جاتے ہیں اوردوسرے طرف مقامی اداروں کوغیرضروری سرگرمیوںسے نیچے گرایا جارہا ہے‘‘۔کورئر تجارت سے وابستہ محمد اسلم نے کہا کہ سرینگر کے لوگوں نے آن لائن جو خریداری کی ہے اُن کے پارسلوں کے انبار گوداموں میں لگے ہیں کیوں کہ گھر و ں تک مصنوعات پہنچانے والے لڑکے شہرمیں آزادانہ طور گھوم پھر نہیں سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر یہی صورتحال مزید کچھ اوردنوں جاری رہی توبڑی ای کامرس کمپنیاں متاثرہ پن کوڈ سے آن لائن آرڈرلینا بند کریں گی۔پولیس کاکہنا ہے کہ مذکورہ مہم عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کا معمول کا حصہ ہے لیکن بڑے پیمانے پردوپہیوں والی گاڑیوں کو ضبط کرنے پر تبصرہ نہیں کیا۔ سوشل میڈیاکااستعمال کرنے والے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی یہ کارروائی وزیرداخلہ امت شاہ کے وادی کا دورہ کرنے سے تعلق رکھتی ہے،پولیس نے تاہم اس سے انکار کیا ہے۔کشمیرصوبے کے پولیس سربراہ وجے کمار نے جمعرات کو ایک ٹوئٹ میں لکھا،’’کچھ دوپہیوں والی گاڑیوں کو ضبط کرنااورکچھ انٹرنیٹ ٹاوروں کو بندکرنا،جنگجویت سے جڑ اہے۔اس کا معززوزیرداخلہ کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔