تازہ ترین

وزیر داخلہ امیت شاہ کی آمد آج

یونیفائیڈ کمانڈ میٹنگ کی صدارت کریں گے،شارجہ کیلئے پروازوں کا افتتاح ہوگا

تاریخ    23 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
 سرینگر//مرکزی وزیر دزخلہ امیت شاہ آج یعنی سنیچر کو تین روز دورہ پر سرینگر پہنچ رہے ہیں۔داخلہ وزیر کی آمد کے پیش نظر شہر سرینگر میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں ۔ وزیر داخلہ دورے کے پہلے دن سرینگر سے شارجہ تک بین الاقوامی پروازوں کا افتتاح کریں گے۔ایس کے آئی سی سی میں انکے اعزاز میں ایک صوفی کلچرل پروگرام کا انعقاد ہوگا جس میں وادی کے معروف گلوکار حصہ لے رہے ہیں۔یہاں وہ کم سے کم 3ایسے کنبوں کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے جن کے لخت جگر حال ہی میں کی گئی ہلاکتوں میں شامل ہیں۔مکھن لعل بندرو، سپیندر کوراور سب انسپکٹر ارشد احمد میر کے اہل خانہ ممکنہ طور پر ملاقات کریں گے۔اسی روز وہ لیفٹیننٹ گورنر کیساتھ ملاقات کے علاوہ راج بھون میں اعلیٰ سیکورٹی و انٹلی جنس سربراہوں کی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔اس یونیفائیڈ کمانڈ میٹنگ میں آئی بی سربراہ اروند کمار،ڈائریکٹر جنرل سی آر پی ایف کلدیپ سنگھ، ڈائریکٹر جنرل قومی سلاتی گارڈ ایم اے گنہ پتی،بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل پنکج سنگھ،ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ،فوجی کمانڈر، وادی اور جموں کے آئی جی پیز اور فوج کے کور کمانڈربھی میٹنگ میں شریک ہونگے۔دورے کے دورے روز امیت شاہ جموں روانہ ہونگے جہاں وہ پارٹی ہیڈکوارٹر پر بھاجپا ورکروں کیساتھ میٹنگ کریں گے اور بعد میں بھگوتی نگر میں ایک عوامی ریلی سے خطاب بھی کریں گے۔ممکنہ طور پر وہ کئی وفود کیساتھ بھی بات چیت کریں گے۔اسی روز وہ واپس وادی آئیں گے اور سی آر پی ایف گروپ سینٹر لیتہ پورہ پلوامہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ پلوامہ حملے میں مہلوک فورسز اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔تیسرے روز وہ مرکزی سلامتی فورسز کے مہلوک جوانوںکو خراج پیش کریں گے اور ایس کے آئی سی سی میں مختلف وفود کیساتھ ملیں گے اور یہاں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے جس کے بعد 25کی شام وہ واپس نئی دہلی روانہ ہونگے۔دریں اثنائامیت شا ہ کے دورے جموں کشمیر کے پیش نظر ڈرون خدمات بھی استعمال میں لائی جا رہی ہیں ۔شہر میں مسافروں اور گاڑیوں کی باریک بینی سے چیکنگ کی جا رہی ہے۔5اگست2019میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد مرکزی وزیر داخلہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔حکام نے پچھلے کئی دنوں سے شہر سرینگر میں سینکڑوں موٹر سائیکل ، سکوٹی اور سکوٹر ضبط کئے۔ اگر چہ پولیس کا اصرار ہے کہ دو پہیوں والی گاڑیوں کی ضبطی کا اس دورے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن پچھلے کئی روز سے ٹو وہیلر اندھا دھند طریقے سے ضبط کئے گئے اور انکی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔شہر میں جمعہ شام تک مختلف مقامات پر ناکہ چیکنگ کے ذریعے گاڑیوں کی تلاشی لینے کے علاوہ مسافروں کی  پوچھ تاچھ کی جا ری تھی ۔حکام نے بڈیاری چوک ڈلگیٹ سے بلیواڑد روڑ پر نشاط تک اور گپکار روڑ پر ہر طرح کی آمد و رفت 23سے 25اکتوبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔صرف ان گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ہوگی جن کے پاس سیکورٹی کلیرنس ہوگی۔حالیہ چند روز میں شورش کے 30برسوں میں پہلی بار لالچوک اور گردو نواح میں خواتین سیکورٹی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی جو خواتین کی جامع تلاشی لیتی ہوئی نظر آ رہی تھیں ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے دورے کے دوران موصوف لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، فوج، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ میٹنگیں کریں گے۔وزیر داخلہ بی جے پی لیڈروں اور امکانی طور پر پنچایتی راج کارکنوں کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے۔مرکزی وزیر داخلہ اپنے تین روز دورہ کے دوران 23اکتوبر کو سری نگر پہنچیں گے اور پھر اگلے دن جموں کا دورہ کریں گے۔ وہ یہاں پبلک ریلی سے خطاب کرنے کے علاوہ مقامی بی جے پی لیڈران اور دیگر گروپوں سے ملاقاتیں کریں گے’۔میڈیا رپوٹس  میں بتایا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کے دورے کے پیش نظر جموں میں بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔شہر میں مختلف مقامات پر عارضی ناکے بٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں نگرانی بڑھائی گئی ہے۔
 
 
 

شہر میں اضافی سیکورٹی فورسز تعینات ، نئے بنکر قائم   

۔50اضافی فورسز کمپنیاں حفاظتی گرڈ میں شامل

اشفاق سعید
 
سرینگر //تقریباً8 برسوں کے بعد شہر کی سڑکوں پر سیکورٹی بنکروں کی واپسی ہو رہی ہے اور کشمیر میں عسکریت پسندوں کی طرف سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے بعد نیم فوجی دستوں کی تعیناتی پھر سے ہورہی ہے۔مرکزی نیم فوجی دستوںکے زیر انتظام سیکورٹی بنکر  کے کئی علاقوں میں قائم کئے جا رہے ہیں جہاں 2011 اور 2014 کے درمیان کشمیر بھر میں سکیورٹی کی صورتحال میں مجموعی بہتری کے بعد ان کو ہٹا دیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کی آزاد نقل و حرکت کو کم کرنے کے لیے نئے بنکروں کی تعمیر اور مزید اہلکاروں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا ، "ملی ٹینٹوںنے دکھایا ہے کہ وہ جرائم کے ارتکاب کے بعد کچھ ہی عرصے میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہو رہے ہیں، اسے صرف آزادانہ نقل و حرکت سے چیک کیا جا سکتا ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں اضافی نیم فوجی دستوں کی 50 کمپنیاں خاص طور پر سرینگر میں حفاظتی گرڈ کو مضبوط بنانے کے لیے وادی میں شامل کی جا رہی ہیں۔2010میں کشمیر کا دورہ کرنے والے ایک آل پارٹی وفد کی سفارشات پر ، سرینگر میں 50 سے زائد سکیورٹی پِکٹس اور بنکرز کو ہٹا دیا گیا تھا ۔اسی طرح کی سفارشات مرکز کی جانب سے 2010 میں مقرر کردہ مذاکرات کاروں کی ایک ٹیم نے بھی کی تھیں۔صورتحال اس حد تک بہتر ہوچکی تھی کہ اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جموں و کشمیر سے مسلح افواج کے خصوصی اختیارات ایک(افسپا) کو مرحلہ وار طریقے سے منسوخ کرنے کے لیے سازگار ہیں۔تاہم ، اس بار نئے بنکر ان جگہوں پر آئے ہیں جہاں 1990 کی دہائی میں وادی میں عسکریت پسندی کے عروج پر بھی ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔اس طرح کے دو بنکر سرینگر میں ائیرپورٹ روڈ پر برزلہ پل پر بنائے گئے ہیں۔تاہم پولیس حکام نے وادی میں اٹھائے گئے نئے اقدامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔پولیس نے سرینگر کے کچھ حصوں اور جنوبی کشمیر کے ایک دو علاقوں میں انٹرنیٹ بھی منقطع کر دیا ہے اور شہر میں دو پہیہ گاڑیوں کے خلاف مہم شروع کی ہے۔آئی جی پی ، کشمیر زون ، وجے کمار نے کہا تھا کہ یہ اقدامات خالصتا ًدہشت گردی کے تشدد سے متعلق تھے۔انہوں نے جمعرات کو ٹویٹ کیا ، "کچھ موٹر سائیکلوں کو ضبط کرنا اور کچھ ٹاورز کا انٹرنیٹ بند کرنا خالصتادہشت تشدد سے متعلق ہے۔