تازہ ترین

موٹر سائیکل ، سکوٹر اور سکوٹیاں اندھا دھند طریقے پر ضبط

لالچوک میں زنانہ فورسز اہلکار دوسرے روز بھی تعینات، خواتین راہگیروں کی تلاشیاں

تاریخ    21 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// بلال فرقانی//شہر میں بدھ کو  دوسرے روزبھی خواتین سی آر پی ایف اہلکاروں کی جانب سے خواتین راہ گیروں کی تلاشیوں کا سلسلہ جاری رہا،جبکہ نوجوانوں کے موٹر سائیکل ضبط کرنے کا سلسلہ بھی تھما نہیں۔ شہری ہلاکتوں کے بعد شہر کے قلب لالچوک اور اس کے گر دونواح میں خواتین سی آر پی ایف اہلکاروں نے ناکے لگائے اور خواتین کی تلاشیاں دن بھر لیں۔ پلیڈیم سنیما کے نزدیک سی آر پی ایف خواتین اہلکاروں نے دن بھر ڈھیرا ڈالا اور خواتین کے علاوہ موٹر سائیکل پر سوار بچیوں کی بھی تلاشیاں لیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ1990کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے۔ خواتین اہلکار بیگ،لفافے اور جامعہ تلاشیاں بھی لی رہی تھیں۔ خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں تلاشیوں سے کوئی اعراض نہیں ہے تاہم سر راہ خواتین کی تلاشیاں لینا اخلاقیات کے منافی ہے۔ سمیرہ نامی ایک خاتون نے کہا’‘ خواتین اور بچیوں کے پرس میں کافی ذاتی چیزیں ہوتی ہیں،اور انہیں بیگ سے باہر نکالنے میں شرمندگی ہوتی ہے، اس لئے انہیں چاہے تھا کہ اگر سڑکوں پر ہی تلاشی لینی ہے تو کچھ عارضی اوٹ کھڑا کرتے جہاں تلاشیاں لی جاتی‘‘۔اس دوران بدھ کو بھی شہر میں موٹر سائیکلوں کو ضبط کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور دن بھر سینکڑوں موٹر سائیکلوں کو تھانوں میں پہنچایا گیا۔ لالچوک میں ایک موٹر سائیکل سوار رمیز احمد نے بتایا کہ ان کے پاس تمام دستاویزات تھے اور وہ ایک پروجیکٹ منیجر ہے،تاہم سڑک کے بیچوں بیچ اس کو روک کر موٹر سائیکل ضبط کیا گیا۔
 

تازہ ترین