تازہ ترین

بے قصورافراد کیخلاف تشدد قابل مذمت

سوزکاکشمیرمیں مذاکرات شروع کرنے پرزور

تاریخ    19 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


سرینگر//سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے  مرکزی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ کشمیرکی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیپلز کانفرنس،اپنی پارٹی ،کانگریس،کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ اوردوسری کئی جماعتوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے مذاکرات کاراستہ کھولیں تاکہ کشمیر کی سیاسی گھٹن ختم ہوجائے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا،’’بے قصور اور غیر مسلح افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی خاص طور تشدد قابل مذمت ہے۔ کشمیری سماج کی روایات میں کسی قسم کا تشدد جائز نہیں ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ میں 10 اکتوبرکومقتول مس سُپندر کور کے گھر کے افراد کو ڈھارس بندھانے اور اُن کے ساتھ ہمدردی کااظہار کرنے کیلئے اُن کی رہائش گاہ واقع آلوچی باغ سرینگر گیا۔ اس سے قبل میں مکھن لال بندرو کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کیلئے بھی گیا تھا۔ واپسی پرمیڈیا سے وابستہ کئی نمائندوں نے مجھے کئی سوالات کئے اور میں نے جواب بھی دیا۔مگر بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک نیوزادارے نے میرے بیان کو توڑ مروڑ کر بددیانتی سے پیش کیا اورگمراہ کن طریقے سے میرے خلاف استعمال کیا ہے۔میں نے برملا طور بے قصور شہریوں کی ہلاکت کیلئے قاتلوں کی مذمت کی تھی اور اُن کے خلاف انتظامیہ سے بھر پور کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔سوزنے کہا کہ میں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ کشمیر کے لوگ تشدد کو مسترد کرتے ہیں خاص طور پر لوگ ایسے تشدد کی کاروائی کو رد کرتے ہیں ،جو بے قصور اور بے ہتھیار لوگوں کے خلاف کی جاتی ہے۔اور باتوں کے علاوہ میں نے یہ کہا تھا کہ انتظامیہ کو قانون کے تحت کاروائی کرنے کے علاوہ کشمیر میں مذاکرات شروع کرنا چاہئے تاکہ تشددکا ماحول ختم ہو جائے ۔میںنے اس سلسلے میں یہ بھی کہا تھا کہ مودی سرکار کو کشمیر کی مین اسٹریم جماعتوں یعنی این سی، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، اپنی پارٹی ، کانگریس ، سی پی آئی ایم اور دوسری کئی جماعتوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کر کے مذاکرات کا راستہ کھولنا چاہئے تاکہ کشمیر میں سیاسی گھٹن بھی ختم ہو جائے اور تشدد بھی ۔اس واضح بیان کے باوجود نیوز ادارے نے غیر ذمہ داری سے میرے بیان کو توڑ مروڑ کے پیش کیا ہے۔