تازہ ترین

میوہ صنعت کو چار چاند لگانے کے دعوے سراب،1947سے ابتک ایک لیبارٹری قائم نہ ہوسکی

۔2سال بعد ایک دوائی غیر معیاری قرار، دو برس قبل فرید آباد میں 30نمونے بھیجے گئے، صرف11کی رپورٹ حاصل

تاریخ    19 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


خالد گل
اننت ناگ //مارکیٹ میں دستیابی کے 2 سال بعد محکمہ باغبانی نے اب ایک کیڑے مار ادویات کو ’غلط برانڈ'‘قرار دیا ہے اورکسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مزید اس کا استعمال نہ کریں ۔Score difenoconazole نامی دوائی ،جس کو سکیب اور دیگر بیماریوں کیلئے موثر سمجھا جاتا ہے کو 27جنوری2020کو تیار کیا گیا تھا اور اس کی معیاد 26جنوری2023مقرر کی گئی تھی۔ اس دوائی کے نمونے ڈائریکٹوریٹ آف پلانٹ پروٹیکشن فرید آباد لیبارٹری کو 2020 میں بھیجا گیا تھا اور اس کی تجزیہ رپورٹ گزشتہ ہفتے موصول ہوئی ہے۔ کیڑے مار ادویات کے نمونے کی وائس نمبر CCC/RPTL/TF/AK1133 /2021-22 موصول ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیڑے مار ادویات کو اکاؤنٹ میں غلط برانڈ قرار دیا گیا ہے۔یہ کیڑے مار دوائی ایکٹ ، 1968 کے مطابق کئے گئے ٹیسٹوں میں متعلقہ تصریحات کے مطابق نہیں ہے۔اس کے بعد کشمیر کے تمام اضلاع کے چیف ہارٹیکلچر افسران نے احکامات جاری کئے ہیں۔ ضلع کے معائینہ کاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مذکورہ بیچ کے اسٹاک پر روک لگائیں۔ افسران کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں باغوں کے وسیع تر مفاد میں اس مسئلے کی وسیع تشہیر کریں۔سی ایچ او کولگام ، ڈاکٹر محمد اقبال بابا نے کہا کہ ان کے پاس جموں وکشمیر میں جانچ کے لیے مطلوبہ لیب نہیں ہے اور انہیں نمونے سنٹرل لیبارٹری فرید آباد بھیجنے ہوتے ہیں،وہاں کی رپورٹوں کے لیے بہت وقت لگتا ہے، پچھلے سال صرف ہم نے کیڑے مار ادویات کے 30 نمونے بھیجے تھے لیکن اب تک صرف گیارہ کی رپورٹ موصول ہوئی ہے‘‘۔ تاہم کاشتکاروں نے لیبارٹری سے تجزیاتی رپورٹ حاصل کرنے سے پہلے کیڑے مار ادویات کو مارکیٹ میں لانے کیلئے محکمہ باغبانی پر سوال پر وال اٹھایا ہے ۔کولگام کے ایک کاشتکار خورشید احمد نے بتایا ’’ہم نے دو مسلسل سیزن میں اپنے باغات میں کیڑے مار ادویات چھڑکیں،اب ، جب ہم دوبارہ سیب اتارہے ہیں ،  محکمہ باغبانی بتا رہا ہے کہ یہ غیر معیاری ادویات تھی ،کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہے؟۔‘‘انہوں نے کہا کہ کیڑے مار ادویات کا مقصد ٹن سائز سکاب اور سان جوز سکیل سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا لیکن یہ دوسری صورت میں ثابت ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس سال سیب کے پھل میں بہت سی بیماریاں لگیں جس سے باغبانوں کو بہت نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جموں وکشمیر میں کیڑے مار ادویات کے معیار کو جانچنے کیلئے لیبارٹری قائم کی جائے۔بجبہاڑہ کے دچھنی پورہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور باغبان بشیر احمد نے کہا ’’ہر ضلع میں ایک لیب ہونی چاہیے تاکہ باغبان اپنے باغات میں استعمال کرنے سے پہلے اس کے معیار کو جان سکیں۔‘‘محکمہ باغبانی کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ محکمہ کے پاس دو لیبارٹریاں کپوارہ اور کولگام میں بنانے کا منصوبہ ہے اور اس کو پائپ لائن میں رکھا گیا ہے ۔