تازہ ترین

بھاٹادھوڑیاں مینڈھر میں آپریشن 7ویں روز بھی جاری | طرفین میں4گھنٹے تک نیا تصادم،ماں بیٹے سمیت 5افراد گرفتار

تاریخ    18 اکتوبر 2021 (02 : 12 AM)   


سمت بھارگو+جاوید اقبال
راجوری +مینڈھر// راجوری اور پونچھ کے درمیانی جنگلاتی سلسلے میں اتوار کومجموعی طور ساتویں روز بھی جنگجو مخالف آپریشن جاری رہا جس دوران علاقے میں تازہ فائرنگ بھی ہوئی ہے ۔اس دوران سیکورٹی فورسز نے علاقے میں 45سالہ خاتون کے اس کے بیٹے سمیت5افراد کو آپریشن کے دوران پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا ہے ۔ابھی تک اس آپریشن میں دو فوجی افسر سمیت 9اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔سنیچر اور اتوار کی در میانی شب طرفین میں تھوڑی بہت فائرنگ ہوئی لیکن اتوار کو دن کے ساڑھے 12بجے سے سہ پہر ساڑھے 4بجے تک گھمسان کی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے دوران فورسز نے گرینیڈ راکٹ لانچروں کا بھی استعمال کیا۔لیکن اسکے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔رات کے دوران ڈرونز کا استعمال اور دن میں فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی لی جارہی ہے۔چمراڑ، ڈھیرا کی گلی اور بھنگائی پونچھ میں پچھلے 7روز سے آپریشن چل رہا ہے۔یہاں گذشتہ پیر کو جنگجوئوں کی طرف سے گھات لگا کر کئے گئے حملے میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر(جے سی او) سمیت پانچ فوجی اہلکاروں نے شدید فائرنگ کے تبادلے میں اپنی جانیں دے دیں۔ ایک اور جے سی او سمیت چار سپاہی جمعرات کی شام مینڈھر میں بھاٹا دھوڑیاں کے گھنے جنگلاتی علاقیمیں ایک اور مقابلے میں مارے گئے، یہاں پچھلے 4روز سے آپریشن جاری ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ 45 سالہ خاتون کواس کے بیٹے سمیت 5مقامی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ سنگیوٹ علاقہ کے رہائشی مذکورہ افراد کو مزید تحقیقات کیلئے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے ۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کہا گیا ہے کہ ملی ٹینٹوں کو کچھ مقامی لوگوں کی جانب سے تعاون ملنے کے بعد علاقہ میں مذکورہ نوعیت کی سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں ۔پولیس نے بتایا کہ اس سلسلہ میں کچھ شواہد ملنے کے بعد مذکورہ افراد کو گرفتارکیا گیا ہے تاکہ مزید تحقیقات عمل میں لائی جاسکے ۔عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقہ پہاڑی ہے اور جنگل گھنا ہے جس کی وجہ سے آپریشن مشکل اور خطرناک ہے۔اب تک ، چھپے ہوئے جنگجوئوں سے تین بار رابطہ قائم کیا گیا ہے ۔پہلے 11 اکتوبر کو پونچھ کے سورن کوٹ میں، جس کے بعد اسی دن راجوری ضلع کے ملحقہ تھانامنڈی جنگل میں سیکورٹی فورسز اور فرار ہونے والے جنگجوئوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ تیسرا مقابلہ جمعرات کی شام پونچھ کے مینڈھر علاقے کے نار خاص جنگل میں ہوا۔راجوری پونچھ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس وویک گپتا نے کہا کہ پونچھ اور راجوری کو ملانے والے جنگلاتی علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی ا ڑھائی ماہ قبل دیکھی گئی تھی اور اسی کے مطابق ان کا سراغ لگانے کے لیے حکمت عملی سے آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ ہفتہ کے روزایک مشترکہ سیکورٹی گرڈ جنگجوئوں کے مختلف گروہوں کا سراغ لگا رہا تھا لیکن بعض اوقات علاقے کی  جغرافیائی صورتحال کے لحاظ سے آپریشن میں وقت لگتا ہے۔جنگجوئوںسے رواں ہفتے تین بار انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر رابطہ قائم کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگجو چھپے ہوئے ہیں اور مشترکہ فورسز، آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ مینڈھر سے تھنہ منڈی تک کا پورا جنگلاتی علاقہ سخت محاصرے میں ہے اور بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔فوج نے پیرا کمانڈوز کو تعینات کیا ہے اور ہیلی کاپٹر کو بھی علاقے پر نگرانی کے لیے دیکھا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ جموں راجوری ہائی وے کے ساتھ مینڈھر اور تھنہ منڈی کے درمیان آپریشن کے تناظر میں ٹریفک اتوار کو تیسرے دن بھی معطل رہا۔جموں کے علاقے راجوری اور پونچھ میں رواں سال جون سے دراندازی کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ الگ الگ مقابلوں میں9جنگجو مارے گئے ہیں۔
 

تازہ ترین