تازہ ترین

بھاجپاجموں و کشمیر کے مزید حصے کرنے کی خواہشمند

قریب 800لوگ گرفتار،دفعہ 370کی واپسی کیلئے مل کر لڑنا ہوگا:محبوبہ مفتی

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


محمد تسکین
بانہال// پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے مزید حصے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو بانہال میں پارٹی کارکنوں سے خطاب اور بعد میں  نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔محبوبہ مفتی نے کہا’’بی جے پی نے جموں و کشمیر کو پہلے ہی دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اب وہ اس کو تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے ‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’جموں ڈیکلریشن اور دیگر ڈیکلریشنز کا مقصد یہی ہے ، وہ لوگوں کو بانٹنا چاہتے ہیں،ہمارے سیکولر کردار کو متاثر کرنا چاہتے ہیں‘‘۔محبوبہ مفتی نے بی جے پی کو ایسٹ انڈیا کمپنی کا نام دیتے ہوئے کہا’’ہمارے یہاں بھی ایک ایسٹ انڈیا کمپنی آئی ہے ،جس کا نام بی جے پی ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی باہر کی تھی لیکن یہ لوگ اسی ملک کے رہنے والے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ہمیں جموں و کشمیر کو ان سے آزادی دلانی ہے، ہمارا ملک کے ساتھ جھگڑا نہیں ، ہمارا جھگڑا ان کی پالیسیوں اور ایجنڈا کے ساتھ ہے ‘‘۔محبوبہ مفتی نے سابق ایم ایل اے انجینئر رشید کی مسلسل قید و بند کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا’’مجھے امید ہے کہ انجینئر رشید کو الیکشن سے پہلے رہا کیا جائے گا، وہ بھی ایک جمہوری عمل کا حصہ ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’وہ عام لوگ، جنہیں ملک کی مختلف جیلوں میں بند رکھا گیا ہے ، مجھے ان کی فکر ہے ، ان کے گھر والوں کو ان کے کیس لڑنے یا ان سے ملاقات کے لئے جانے کے لئے پیسے بھی نہیں ہیں، جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کم کرنے کی بجائے بڑھائی جا رہی ہے ‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’حالیہ ہلاکتوں کے بعد 700 سے 800 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پکڑ دھکڑ کی وجہ سے جموں و کشمیر کا ماحول مزید بگڑ رہا ہے ، اس سے جموں و کشمیر میں جو خاموشی آئی ہے وہ قبرستان کی خاموشی ہے ‘‘۔ موجودہ حکومت گاندھی جی کے ملک کو گوڈسے کا ملک بنانا چاہتی ہے جس کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے انکے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ  دفعہ 370 کی واپسی کیلئے ، خون خرابہ اور پکڑ دھکڑ بند کرانے اور جموں و کشمیر، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کا پل بننے کیلئے نکلی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سیز فائر کا فیصلہ بات چیت کے زریعے ممکن ہوا اور بھارتیہ جنتا پارٹی اس بات چیت کو لوگوں سے چھپا رہی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 جموں وکشمیر کی آن بان اور شان ہے اور اس کی بحالی کے لئے ہم سب کا ایک ہونا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست جموں و کشمیر اور وادی چناب کو بھگوا رنگ میں رنگنا چاہتی ہے۔ انہوں نے ہندو، مسلم، سکھ اتحاد پر زور دیتے ہوئے عوام سے متحد ہو کر اپنے حقوق کیلئے جمہوری طریقے سے جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان کا ساتھ دیں تاکہ دفعہ 370 کو بحال کیا جاسکے ۔