تازہ ترین

کورونا کی تیسری لہر آنے کا خطرہ فی الحال ٹل گیا

آنے والے سال کے ابتدائی مہینوں تک احتیاط برتنے کی ضرورت: ڈاکٹر کھورو

تاریخ    16 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //بھارت کی مختلف ریاستوں میں تیسری لہر پیدا کرنے والے ڈیلٹا وائرس کی جموں و کشمیر میں پہلے سے موجودگی، 80فیصد لوگوں کے خون میں کورونا مخالف اینٹی بادڈیز کی تصدیق اورتیزی سے جاری ٹیکہ کاری مہم کی وجہ سے تیسری لہر کے آنے کے امکانات کافی کم ہوگئے ہیں۔ جموں و کشمیر سرکار کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلائو پر نظر رکھنے کیلئے بنائی گئی 10رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایم ایس کھورو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ بھارت کی مختلف ریاستوں میں تیسری لہر پیدا کرنے والا ڈیلٹا وائرس پہلے سے ہی جموں و کشمیر میں لوگوں کو متاثر کرچکا ہے‘‘۔ڈاکٹر کھورو نے بتایا کہ ڈیلٹا پلس وائرس کے 3معاملات سامنے آئے ہیں لیکن اس کے بعد وائرس کی کوئی نئی ہیت جموں و کشمیر نہیں پہنچی۔ ڈاکٹر کھورو کا کہنا تھا کہ پہلے ڈیلٹا وائرس نے دلی اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو متاثر کیا تھا اور یہاں دوسری لہر شروع ہوئی تھی لیکن چند ریاستوں مثلاً تروندرم( Trivendrum) میں ڈیلٹا وائرس اب پھیلا ہے اور پورے بھارت کے 50فیصد کیس وہیں سے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیلٹا وائرس نے ہمیں پہلے سے ہی متاثر کیا ہے اور اسلئے یہاں کورونا وائرس کی تیسرے لہر کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر کھورو نے مزید بتایا کہ برطانیہ اور برازیل میں دوسری لہر پیدا کرنے والا MUوائرس بھارت نہیں پہنچا اور اسکی وجہ سے بھی تیسری لہر کے امکانات کافی کم ہے لیکن ہمیں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر کھورو نے بتایا’’دوسری بڑی وجہ 70فیصد لوگوں میں کورونا مخالف اینٹی باڈیز کی موجودگی ہے لیکن  Herd immunityکیلئے ہمیں 95فیصد آبادی میں اینٹی باڈیز کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی وجہ سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر کھورو نے بتایا ’’ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں کمی آنے کی تیسری وجہ ٹیکہ کاری مہم ہے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ ابتک 18سال سے زیادہ عمر کے 100فیصد لوگوں کو ویکسین کا پہلا ڈوز دیا گیا ہے جبکہ 40فیصد آبادی نے   دونوں ڈوز لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی تعداد کو قابو کرنے میں سماجی و مذہبی تقریبات میں احتیاط نے ایک بڑا رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ مجھے نہیں لگتا کہ کھلی جگہ یا سڑک پر ماسک نہ پہنے سے وائرس پھیلتا ہے بلکہ شاپنگ مالز ، سپر مارکٹ اوردیگر جگہوں پر وائرس پھیلنے کا خطرہ برقرار ہے اور ایسی صورت میں قوائد و ضوابط پر عمل آوری ضروری ہے۔ ڈاکٹر کھورو نے بتایا کہ مساجد اور دیگر مذہبی مقامات پر ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے بھی وائرس لوگوں سے دور رہا ۔انہوںنے کہا کہ کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی بہت خوش آئند بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آنے والے سال کے ابتدائی 2مہینوں تک احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ روزانہ متاثر ہونے والی کیسوں کی تعداد 80سے 120تک محدود ہوگئی ہے اور ان کیسوں میں بھی 1فیصد مثبت کیسوں کی تعداد سرینگر شہر سے ہوتی ہے، جموں و کشمیر کے دیگر اضلاع میں مثبت کیسوں کی شرح صرف0.3ہے۔
 
 

۔7ماہ بعد متاثرین کی تعداد سب سے کم

۔51متاثر،10ویں دن بھی کوئی فوتیدگی نہیں،جموں کے 8اضلاع میں متاثرین صفر

پرویز احمد 
 
سرینگر //جموں و کشمیر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ جمعہ کو 10فروری کے بعد پہلی مرتبہ متاثرین کی تعداد کم ہوکر 51تک پہنچ گئی ہے۔ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 46ہزار 59ٹیسٹ کئے گئے جن میں 5مسافروں سمیت 51افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین کی مجموعی 3لاکھ 30ہزار 885تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل10فروری کو جموں و کشمیر میں سب سے کم 45افراد کی رپورٹیں مثبت آئی تھیں۔ اس دوران جموں و کشمیر میں مسلسل 10ویں دن بھی وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4426بنی ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں مزید 51افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے جموں میں 4جبکہ کشمیر میں 47افراد متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں متاثر ہونے والے 47افراد میں سے 3بیرون ریاستوں سے سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ دیگر 44مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں متاثر ہونے والے 47افراد میں سرینگر میں سب سے زیادہ 27، بارہمولہ میں 4، بڈگام میں 5، پلوامہ میں 2، کپوارہ میں 4، اننت ناگ میں 1، بانڈی پورہ میں 3 اور گاندربل میں 1متاثر ہوا ہے جبکہ کولگام اور شوپیان میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے۔ کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 6ہزار 735تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران جمعہ کو مسلسل 10ویں دن بھی وادی میں کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 2252بنی ہوئی ہے۔ جموں صوبے کے 8اضلاع میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جن میں ادھمپور، ڈوڈہ ، کٹھوعہ، سانبہ، کشتواڑ،پونچھ،رام بن اور ریاسی شامل ہیں جبکہ جموں اور راجوری میں 4افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں صوبے میں مثبت قرار دئے گئے 4افراد میں 2بیرون ریاستوں سے سفر کرکے جموں پہنچے جبکہ 2مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں ضلع میں 3جبکہ راجوری میں 1شخص کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ جموں صوبے میں متاچرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 24ہزار 150ہوگئی ہے۔ جموں صوبے میں بھی جمعہ کو 10ویں دن بھی کوئی شخص فوت نہیں ہوا ۔ جموں صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد 2174بنی ہوئی ہے۔