تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    15 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیر احمد قاسمی

تسبیح ہاتھ میں لینا عملِ تعامل

س:۱-یہاں بزرگوں کے ساتھ ساتھ اب نوجوان بھی اپنے ہاتھ تسبیح لئے پھرتے ہیں ۔بظاہر وہ ذکر واذکار کا شمار کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔سعودی عرب اس کی سب سے بڑی منڈی ہے ۔ یہاں کے بازاروں میں قدم قدم پر مختلف اقسام کی تسبیحاں ملتی ہیں ۔دُنیا بھر سے حاجی حضرات یہاں سے کافی تعداد میں ہر سال تسبیحاں لاکر اپنے عزیز واقارب او راحباب میں تبرکاً  پیش کرتے ہیں ۔ اس طرح سال بہ سال اس میں اضافہ ہوتارہتاہے ۔ کچھ لوگوں کا کہناہے کہ تسبیح کا استعمال قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہے تو پھر سعودی عرب میں اس کا کاروبار کیوں کیا جاتاہے ؟ اصل کیا ہے ،رہنمائی کرکے شکرگزارفرمائیں۔
س:۲-بھیڑ، بکری اور دوسرے حلال جانوروں کی طرح مچھلی بھی ایک جاندار ہے ۔جب باقی جانداروں کا ذبیح کرنا لازمی ہے تو مچھلی کے سلسلے میں کیا حکم ہے ؟
احمد اللہ نثار ، پلوامہ (کشمیر)
جواب:- ہاتھ میں تسبیح لے کر تسبیح پڑھنا بالکل دُرست ہے ۔ اس میں شرعاً کوئی اعتراض نہیں ہے ۔یہ تعداد پورا کرنے کا ایک آلہ ہے جیسے گھڑی اوقاتِ نماز جاننے کا ایک آلہ ہے ۔اور مائک آوازِ اذان دور تک پہنچانے کا ایک آلہ ہے ۔یا نقشہ سحری وافطار صرف وقت سحر وافطار جاننے کا آلہ ہے ۔تسبیح مذکرہ بھی ہے ۔یعنی جب یہ ہاتھ میں ہوتی ہے توخود بخود زبان کلمات تسبیح پڑھنے کے لئے متحرک ہوجاتی ہے ۔ جس کاتجربہ بارہا ہو تاہے ۔
اس لئے ہر دور میں تمام اُمت اس پر عمل پیرا رہی ہے ۔ مختلف صحابہؓسے شمار کرنے کے لئے دانے اور دوسرے ذرائع استعمال کرنا ثابت ہے ۔ 
حضرت مولانا عبدالحئی لکھنؤی نے تسبیح کے ثبوت وجواز کے لئے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں احادیث سے ثبوت کے ساتھ تعامل امت بھی نقل فرمایا ہے ۔یعنی ساری امت جس عمل کو اپنا رہی ہے خصوصاً اہل علم اور صالح ومتقی حضرات اُن کا عمل تعامل کہلاتاہے ۔
بہرحال تسبیح ہاتھ میں لینا دُرست ہے ۔جو شخص اس کو ناجائز سمجھتاہے وہ انگلیوں پر اُسی ترتیب کے مطابق شمار کرسکتاہے جو عمل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔ اگرچہ اُس طریقہ کو سیکھنا اور اُس پر عمل پیرا ہونا قدرے مشکل ہے ۔ 
آج کل انگلیوں پر شمار کرنے کا جو طریقہ رائج ہے وہ بھی احادیث سے ثابت نہیں ۔ہاں جو طریقہ احادیث سے ثابت ہے وہ سیکھے بغیر عملانا مشکل ہے ۔اور ہرشخص انگلی کے شمار کرنے کا مسنون طریقہ جانتا بھی نہیں ہے ۔ بلکہ اکثر اہل علم بھی اس سے ناواقف ہیں۔

حلال وحرام کے بارے میں 

اللہ کا حکم اطمینان کے لئے کافی

جواب:۲-حلال جانور کو ذبح کرنے کاحکم اس وجہ سے ہے کہ اُس حلال جانور کے جسم سے حرام خون، جوپورے جسم میںہے،  بذریعہ ذبح باہر نکل جائے ۔ 
مچھلی میں خون ہوتا ہی نہیں ہے اس لئے اس کے لئے ذبح کا حکم نہیں دیاگیا۔خون کے لئے رگوں اور نسوں کانظام ہوتاہے اور مچھلی میں یہ نظام ہوتا ہی نہیں ہے ۔ اس لئے جب خون نہیں تو ذبح کرنے کا حکم بھی نہیں ہے ۔دوسرے جو اللہ ان تمام کاخالق ہے اُس اللہ نے ایک جانور کو حرام قرار دیا دوسرے کو حلال ۔ پھر جس کو حلال قرار دیااُس میں کچھ کو ذبح کرکے کھانے کا حکم دیا اور کچھ کو بغیر ذبح کے کھانے کی اجازت دی ۔اور ہر حکم کے پیچھے ایک اہم مقصد ، مصلحت اور فلسفہ ہے ۔    ll
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱- اگر کسی گھر میں کوئی بھی فرد ،مرد ہویا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا، غرض کوئی بھی نماز نہیں پڑھتاہو ۔ کیا اُس گھر میںدعوت کھانا جائزہے اور پورا یقین ہوکہ اس گھر میں کوئی بھی نماز نہیں پڑھتاہے ۔ 
سوال:۲- ہم ایک ایسی جگہ پر ڈیوٹی دیتے ہیں جہاں سے مسجد شریف میں نماز پڑھنے نہیں جاسکتے ہیں ۔ اب ہم نے ایک کمرہ مقرر کیا ہے اور وہاں پر ہم جماعت قائم کرتے ہیں ۔ کیا وہاں پر اذان دینا ضروری ہے ۔ چونکہ باقی مسجدوں کی اذانیں اچھی طرح سنتے ہیں ۔
سوال:۳- دل سے بُرے خیالات کو نکالنے کی کوئی اچھی ترکیب بیان کریں ۔
غلام نبی ملک، اسلام آباد کشمیر

بے نمازیوں کے گھر میں کھانا جائز مگرتلقین صلواۃ لازم 

جواب:۱-جس گھر کے لوگ نماز نہ پڑھیں اُس گھر میں دعوت کھاناتو جائز ہے مگر اُن کونماز کی تلقین کرنا لازم ہے ورنہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تمہارے یہاں ہم ضرور کھانے میں شریک ہوتے مگر تمہارے ترکِ صلوٰۃ کی وجہ سے ہم بطور احتجاج کے شریک نہ ہوںگے لیکن کھانے کو ناجائز نہیں کہہ سکتے۔

کمرے میں جماعت کیلئے اذان لازم نہیں 

جواب:۲-مسجد سے دور ہونے کی بناء پر کمرے کے اندر جماعت پڑھی جائے تووہاں اذان پڑھنا لازم نہیں ہے ۔اگر پڑھی جائے تو بہتر ہے ۔
بُرے خیالات سے بچنے کی ترکیب 
جواب:۳- جب بھی بُرے خیالات آئیں تو لاحول ولاقوۃ کثرت سے پڑھتے رہیں ۔ نیز بُرے خیالات سے بچنے کی دعا مسلسل کرتے رہیں ۔ جب بُرے خیالات آئیں تواعوذباللہ بھی مسلسل پڑھنے کا معمول بنائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :- کتنے سال کے عمر کے بچوں کو ہم صفوں میں شامل کرسکتے ہیں ؟

نابالغ بچوں کو پچھلی صف میں کھڑا کیا جائے 

جواب:-بچہ اگر بالغ ہوگیا ہو تو اُس کو مردوں کی صف میں کھڑا کرنا دُرست ہے ۔ اگرنابالغ ہو تو پچھلی صف میں کھڑا کیا جائے جس وقت بچے پر غسل فرض ہو جائے اُس وقت وہ بالغ ہوجاتاہے ۔ اگر احتلام نہ ہو اور اسی حال میں عمرپندرہ سال ہوگئی ہو تو پھر پندرہ سال کی عمر ہونے پر بالغ قرار پائے گا اور جب بالغ قرارپائے تو پھر بالغ مردوں میں صف میں کھڑا ہونا درست ہے ۔ دراصل شریعت نماز میں صفوں کی ترتیب اس طرح قائم کرنے کا حکم دیاہے کہ پہلے بالغ مرد صف کھڑی کریں ۔ پھر بچوں کی صف بنائی جائے تاہم اگر کبھی کوئی نابالغ بچہ صف میں کھڑا ہوگیا تو اس سے بالغ مردوں کی نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ll
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱-ہمارے گائوں کی آبادی دس ہزار نفوس پر مشتمل ہے ۔گائوں میں ایک جامع مسجدشریف ہے جو چندسال قبل ایک بہت بڑے میدان میں تعمیر کی گئی ۔ میدان گھاس چرائی گورنمنٹ کی ملکیت ہے ۔قرآن وسنت کی روشنی میں اس بارے میں جانکاری چاہئے ۔ کیا اس جامع مسجد شریف میں جمعہ اور پانچ وقت کی نمازوں کا اہتمام درست ہے ؟
سوال:۲-ہمارے گائوں کی جامع مسجد شریف کے ساتھ ہی تقریباً ایک سو گز کے فاصلے پرایک مدرسہ ہے جس میں تقریباً 30بچے زیرتعلیم ہیں۔یہ بچے اسی مدرسے میں پانچ وقت کی نمازیں اداکرتے ہیں ۔یعنی انہوں نے اسی مدرسے میں ایک کمرہ نماز پڑھنے کے لئے مخصوص کررکھا ہے ۔ کیا مدرسے میں ان بچوں کی نماز اداکرنادُرست ہے ۔ اس بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں علمیت چاہتے ہیں ؟
سوال نمبر:۳-عیدگاہ میں ، جب کہ بستی میں جنازہ گاہ موجود نہیں ہو ،کسی میت کی نمازِ جنازہ پڑھنا درست ہے ؟
حاجی عبدالرشیدخان ، کپوارہ

کاہچرائی پر مسجد تعمیر کرنا دُرست نہیں 

جواب:۱-کاہچرائی کی زمین میں محکمہ اراضی کی باقاعدہ اجازت کے بغیر مسجد تعمیر کرنا دُرست نہیں ہے۔لیکن جو مسجد بنائی گئی ہے اُس میں نماز پڑھنا دُرست ہے ۔ یہ نماز ایسے ہی دُرست ہے جیسے کسی باغ ، سڑک ،میدان ، دفتر ، دوکان یا گھر میں نمازدُرست ہوتی ہے ۔ دراصل مسجد تعمیر کرنا ایک عمل ہے اور نماز پڑھنا دوسرا عمل ہے ۔ اس لئے اس میں نماز تو دُرست ہے مگر اب مسجد کے نمازیوں پر لازم ہے کہ وہ اس کاہچرائی کے عوض اتنی ہی زمین کاہچرائی کے لئے مخصوص کریں جو دراصل اس زمین کا بدل ہوگا اورپھر محکمہ اراضی میں اس مسجد کے نیچے آنے والی زمین کو مسجد کے نام اندرا ج کرائیں تاکہ یہ شرعی مسجد بن سکے ۔
جواب:۲- مدرسہ میں پڑھنے والے بچے مدرسہ کے منتظمین کے ماتحت ہیں ۔ جب منتظمین بذات خود یہ پوچھیں کہ مدرسہ کے معلّمین وطلباء مدرسہ کے کمرے میں ہی نماز اداکرناچاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ کوئی معقول ومعتبر وجہ بیان کریں تو اُس وقت اُن کو جواب بتایا جاسکتاہے ۔ یہ خود اُن کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نمازوں کے متعلق شرعی احکام معلوم کریں ۔

عیدگاہ میں نماز جنازہ پڑھنا درست

جواب:۳- عید گاہ توعیدگاہ ہی ہے ۔ اگر اُس میں جنازہ پڑھایا گیا تو وہ نماز جنازہ دُرست ہے اور اس جنازہ پڑھنے سے وہ جنازہ گاہ نہیں بن سکتا۔ جیسے باغ ،سڑک ،میدان ، پارک میں نماز جناز ہ دُرست ہے ۔ ایسے ہی عیدگاہ میں بھی جنازہ پڑھنا جائز ہے ۔lll
�������

تازہ ترین