تازہ ترین

پونچھ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مزدوری کرنے پر مجبور | سرکاری نوکریوں کی امیدیں ختم ،انتظامیہ پر نظر انداز کرنے کا الزام

تاریخ    20 ستمبر 2021 (22 : 01 AM)   


عشرت حسین بٹ
منڈی//سرحدی ضلع پونچھ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد انتظامیہ کے فیصلوں سے تنگ آکر خود سے ہی محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے بعد ان سرکاری نوکریوں کی امیدیں ہی ختم ہو گئی ہیں ۔ضلع پونچھ میں متعدد اعلی تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری نوکریاں نہ ملنے کے بعد مزدوری پیشہ اپنائے ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پال سکیں ۔ضلعمیں متعدد نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے ماسٹر آف آرٹس اور سائنس مضامین میں ماسٹر ڈگریاں حاصل کی ہیں اور سرکاری نوکری نہ ملنے پر مزدوری کر کے اپنا وقت گزار رہے ہیں۔والدین نے بتایا کہ انہوں نے خود مزدوری کرکے اپنے بچوں کو اس امید کیساتھ اعلیٰ تعلیم دلائی تھی کہ وہ ان کا سہارہ بن سکیں گے تاہم انتظامیہ کی غیر معیاری کارکردگی کی وجہ سے نوجوانوں کو روز گار ہی مہیا نہیں ہیں جس کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی وہ مزدوری کررہے ہیں ۔ان اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں کئی ایسے بھی ہیں جو اپنی نوکریوں کی عمر کی حد پار کر چکے ہیں مگر ان کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے۔تحصیل منڈی کے ایک اعلی تعلیم یافتہ نوجوان محمد ارشدنے کشمیر عظمی کو بتایا کہ انہوں نے فارسی میں ماسٹر ڈگری کرنے کیساتھ ساتھ بی ایڈ بھی کی ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ سرکاری نوکریوں کے فارم بھرنے کے باوجود بھی ابھی تک ان کو کوئی روز گار نہیں مل سکا ۔انہوں نے بتایا کہ والدین نے محنت کر کے ان کو تعلیم دلائی تھی لیکن اب وہ مزدوری کر کے والدین کا سہارہ بننے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اس کے باوجود بھی انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کے کورس کو جاری رکھا ہوا ہے ۔سرحدی ضلع پونچھ میں محمد ارشد جیسے سینکڑوں نوجوان ہیں جنہوں نے پڑھائی مکمل کرکے مزدوری پیشہ اختیارکرلیا ہے ۔نوجوانوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ان کو روز گار فراہم کرنے کیلئے ایک جامع پالیسی اپنائی جائے تاکہ نوجوانوں کی پریشانیاں کم ہو سکیں ۔
 

تازہ ترین