تازہ ترین

ریلوے کمپنیاں تمام ملبہ کرتی ہیں دریا برد،ڈیمپنگ بھی غیرقانونی | سنگلدان،داڑم گول میں گیمون کمپنی کاکارنامہ،زرعی اراضی پرڈیمپنگ سے پورے علاقے کو خبرہ لاحق

تاریخ    20 ستمبر 2021 (22 : 01 AM)   


زاہدبشیر
گول//کٹرہ بانہال ریلوے لائن پر کئی مقامات پرتعمیری کام شد و مد سے جاری ہے تاہم قومی تعمیری کمپنیاں بناء کسی ڈر و خوف کے یہاں پر من مرضی سے کام کرتی ہیں ۔ جہاں ندی نالوں سے غیر قانی طو رپر پتھر وغیرہ لئے جارہے ہیں وہیں ٹنل سے نکلنے والا ملبہ دریا برد کیاجارہا ہے جس وجہ سے علاقہ داڑم کو خطرہ لا حق ہے ۔ داڑم علاقے کے بیچوں بیچ ریلوے تعمیری کمپنیوں نے زرعی اراضی کے اوپر غیر قانونی طور پر ڈمپنگ کی ہے جس وجہ سے پورے علاقے کو خطر لا حق ہے ، 2010میں یہاں پر پورے علاقہ اسی ڈمپنگ کی وجہ سے کھسک گیا تھا جس وجہ چالیس گھروں ، ایک مسجد اور ایک سکول کو نقصان پہنچا اور یہاں سے پوری بستی کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا لیکن جس وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا تھا اس کو نہیں روکا گیا بلکہ آج بھی زرعی اراضی کے بیچ ٹنل سے نکلنے والے ملبے کو رکھا جا رہا ہے ۔ یہاں پر پہلے دھان کے کھیت ہواکرتے تھے اور کسی بھی زرعی اراضی میں ڈمپنگ کی بات دور اس پر تعمیری کام کرنا بھی غیر قانونی ہے اور اس کی اجازت محکمہ زراعت سے لینی پڑتی ہے لیکن داڑم علاقے میں جہاں اس طرح سے ڈمپنگ پورے علاقے کو لے ڈوبی وہیں آج کل گیمن تعمیری کمپنی بناء جھجھک ٹنل سے نکلنے والے ملبے کو دریا میں پھینک رہی ہے اور محکمہ مچھلی پالن یہاں کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے ۔ اندھ کے مقام پر بھی ریلوے کی تعمیری کمپنیاں ایسا ہی کچھ کررہی ہیںجس کو نہ ہی انتظامیہ روکتی ہے اور نہ ہی محکمہ جنگلات، محکمہ مچھلی پالن کوئی دھیان د ے رہا ہے ۔ اندھ میں ریلوے کمپنیوں نے ہزاروں سر سبز درخت اور پورے علاقے کو ایک ریگستان کی طرح بنا لیا ہے اور یہاں پر جو بھی ملبہ نکلتا ہے اُسے یہاں ندی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے اور پورے جنگلات کو تہس نہس کر رکھا ہے جس وجہ سے ماحول کو کافی خطرہ لا حق ہے ۔ اگر چہ مقامی لوگوں نے کئی مرتبہ اس پر آواز بھی بلند کی تھی لیکن کوئی کاروائی نہیں ہو سکی اور اس وقت بھی ریلوے کمپنیاں مختلف جگہوں پر اس طرح کے غیر قانونی کام کر رہی ہیں جسے کوئی بھی روکنے میں آگے آنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے ۔
 

تازہ ترین