تازہ ترین

رام بن ضلع میں آبی وسائل کی فراوانی کے باوجود پینے کے پانی کی شدید قلت | محکمہ جل شکتی کی طرف سے مرمت نہ کئے جانے کی وجہ سے متعدد و اٹر سپلائی سکیمیں خستہ حال

تاریخ    20 ستمبر 2021 (22 : 01 AM)   


محمد تسکین
بانہال//ضلع رام بن کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے جبکہ پینے کے پانی کے موجود وسائل کے باوجود پائپ لائینوں کی سالہاسال سے مرمت نہ کئے جانے کی وجہ سے پینے کا قیمتی پانی ضائع ہورہا ہے۔ اگرچہ ایک طرف سے جل جیون مشن اور گھر گھر جل پہنچانے کیلئے سرکاری سطح پر ایک بڑی مہم شروع کی گئی ہے تاہم اس سکیم کی عمل آوری کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر کام کرنے والے محکمہ جل شکتی کے ملازمین اور انجینئروں کو پہلے جوابدہ بنانا ضروری ہوگا۔ رام بن ضلع کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع میں بھی جل جیون شکتی کے تحت سرگرمیوں کی بازگشت ہے لیکن بانہال ، رامسو گول اور رام بن کے درجنوں علاقوں اور دیہات شہر و گام میں پہلے ہی سے قائم بیشتر واٹر سپلائی سکیموں کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور ان پرانی سکیموں پر مرمت کے نام پر لاکھوں روپئے کی رقومات خرچنے کے کے باوجود کوئی سدھار نہیں آیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ درجنوں علاقوں میں نلکے کا ساکٹ اور یونین نہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ قیمتی پانی ضائع ہورہا ہے اور لوگ موم جام لگا لگا کر پینے کی پانی کی بحالی کا انتظام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی یا پی ایچ سی کے ملازمین اور افسروں سے جب بھی پائپ لائنوں کی مرمت کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ محکمہ جل شکتی کے پاس ٹینڈروں کے بغیر ایک پائپ اور ساکٹ لگانے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی کونسلر امتیاز احمد کھانڈے کی قیادت میں چند مہینے پہلے یہ معاملہ گورنر کے مشیر آر آر بھٹناگر سے دورہ بانہال کے دوران اٹھایا تو انہوں نے کہا تھا کہ مرمت کیلئے ایسے چھوٹے موٹے کام کرنے کیلئے محکمہ جل شکتی کو اجازت ہے لیکن زمینی سطح پر ایک ساکٹ اور ایک پائپ بھی دستیاب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر رامسو ، نیل، بہوردار ، پوگل ، سینابتی ، کھڑی ، بانہال،ٹھاچی امکوٹ ، بنکوٹ چھاناڑ ، ڈگری کالج کالونی بنکوٹ بانہال ، رام بن کے ٹنگر ، کبھی ، ڈتھن اور چمار سوئی کے علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی یا عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے اور پانی کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود ان سکیموں سے لوگوں کو کوئی خاص فائیدہ نہیں پہنچایا جاسکا ہے اور ابھی بھی لوگوں کو ندی نالوں کا پانی فراہم کیا جاتا ہے اور کئی فلٹریشن پلانٹ مکمل کئے گئے لیکن عوامی کی باری آنے کیلئے بیشتر ابھی بے فائیدہ ہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی بے بسی کی وجہ سے  معمولی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی پانی ضائع ہورہا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے پانچ سات سال کے دوران سب ڈویژن بانہال ، سب ڈویژن گول اور رام بن سب ڈویژن میں سرکاری رقومات کو مبینہ طور پر ٹھکانے لگانے کیلئے بِنا مطلب کی درجنوں پائپ لائینیں بچھائی گئی ہیں ، واٹر سپلائی سکیمیں بنائی گئی ہیں اور ہزاروں گیلن کی صلاحیت والے پانی کے ریزروائر اور فلٹریشن پلانٹ بھی تعمیر کئے گئے ہیں لیکن بیشترکو مختلف بہانوں کی وجہ سے قابل استعمال نہیں بنایا گیا ہے اور ابھی تک ان لائنوںسے لوگوں کو کوئی فائیدہ پہنچ نہیں سکا ہے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ اور چیف انجینئر محکمہ جل شکتی جموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضلع رام بن میں پینے کے پانی کی سپلائز کو بہتر بنانے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی پائپ لائینوں اور واٹر ورکس سکیموں کی تجدید و مرمت کیلئے اقدامات کریں تاکہ پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کے محتاج ہزاروں لوگوں کو راحت مل سکے۔اس سلسلے میں اتوار کے روز ایگزیکٹو انجینئر محکمہ جل شکتی ڈویژن رام بن سنیل شرما سے رابط کیا گیا لیکن انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت گوارانہیں کی ہے۔
 

تازہ ترین