تازہ ترین

سالانہ 206.43میٹرک ٹن اخروٹ کی پیداوار، اوسطا ً 4افراد لقمۂ اجل اور درجنوںاپاہچ بنتے ہیں

پرانے درختوں کو بدلنے کی تیاری، فروری میں 20ہزار نئے اقسام کے چھوٹے قد والے پودے تقسیم ہونگے

تاریخ    20 ستمبر 2021 (26 : 12 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //وادی میں اخروٹ اُتارنے کے دوران سالانہ اوسطاً 3سے 4افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ کئی ایک زندگی بھر کیلئے اپاہچ بن جاتے ہیں۔ رواں سال میں بھی ابتک شمالی اور جنوبی کشمیر میں اخروٹ اُتارنے کے دوران  6مزدوروں کی موت واقع ہوئی ہے۔  محکمہ باغبانی کا کہنا ہے کہ پرانے اخروٹ کے درختوں کو کاٹنے کیلئے حکام سے اجازت نامہ موصول ہونے کے بعد ان کی جگہ اعلیٰ معیار کے درخت لگائے جائیں گے جس سے نہ صرف حادثات میں کمی ہو گی بلکہ چھوٹے قد کے درخت چار گناہ زیادہ پیداوار بھی دیں گے ۔معلوم رہے کہ وادی میں اخروٹ جیسا خشک میوہ لوگوں کے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور ایک کثیر آبادی اس صنعت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ شوپیاں ، کولگام ، بانڈی پورہ ، اوڑی ، کپوارہ ، کرناہ ،بڈگام اور دیگر بالائی علاقوں میں سب سے زیادہ  اخروٹ کی پیدوار ہوتی ہے۔2019کے قومی ہارٹیکلچر بورڈ کے اعدادوشمار کے مطابق وادی میںسالانہ 206.43میٹرک ٹن اخروٹ کی پیداوار ہوتی ہے اورجموں کشمیر میں 69.24ہزار ہیکٹیراراضی پر درخت پھیلے ہوئے ہیں۔لیکن یہ درخت اب تک سینکڑوں مزدوروں کی جانیں لے چکے ہیں اور سینکڑوں اپاہچ بن گئے ہیں۔

رواں ماہ 6 کی موت 

شانگس میں جمعہ کی شام 40سالہ شہری اخروٹ کے درخت سے گر کر لقمہ اجل بن گیا ،متوفی کی شناخت فاروق احمد میر ولد غلام احمد میر کے بطور ہوئی ہے۔اوڑی میں منگل کے روز 55سالہ شخص لقمہ اجل بن گیا۔ 11ستمبر کو  ہندوارہ کے آہگام راجوارڑمیں نذیر احمد بٹ ولد علی محمد بٹ اخروٹ اتارنے کے دوران گرپڑا اور جاں بحق ہوا۔ اس سے پہلے ترال علاقے میں ایک 60 سالہ شہری گر کر لقمہ اجل بن گیا۔دوروزقبل ہی ترال کے لام علاقہ میں اخروٹ اُتارنے کے دوران60سالہ شخص محمداکرم ڈار ولدعبدالعزیزشدیدزخمی ہوگیاتھا۔ 2روزقبل ہی ضلع پلوامہ کے چکورہ گائوںمیں ایک45سالہ شخص غلام محمدوانی اخروٹ کے درخت سے گرنے کے بعدشدیدزخمی ہوگیا  اور بد میں چل بسا۔اسی روز ضلع اننت ناگ کے زالنگام علاقہ میں محمدجبار ملک ولدممہ ملک نامی ایک شخص بھی اخروٹ کے درخت سے گرکرزخمی ہوگیا۔

مہارت یافتہ افراد کے تاثرات 

ایک مہارت یافتہ مزدور نذیر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ دیہات میں اس سے قبل اخروٹ اُتارنے کیلئے مہارت یافتہ مزدور کی تلاش کی جاتی تھی اور دیہات میں لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ کہاں پر اخروٹ اُتارنے والا ہے اور اس کی خدمات حاصل کی جاتی تھی ، لیکن دیرے دیرے یہ مزدور یا تو ضعیف ہو گئے یا پھر فوت ہو گئے۔ اب دیہات میں ایسا کوئی بھی شخص نہیں ملتا جو اخروٹ اُتارنے کی مہارت رکھتا ہو۔اخروٹ اُتارنے والے کرناہ کے ایک شہری عبدالرحمان نے بتایا کہ کرناہ میں سب سے زیادہ اخروٹ کی پیدوار ہوتی ہے اور وہاں پر ہر گائوں میں ایسے مہارت یافتہ لوگ ہیں جو یہ کام انجام دیتے ہیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ مزدور 500سے لیکر 1000روپے تک مزدوری لیتے ہیں ۔

محکمہ باغبانی کا منصوبہ 

محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد بٹ کے مطابق 20سے 30سالہ پرانے اخروٹ کے درختوں کو کاٹنے کیلئے محکمہ نے حکام کو ایک تجویز بھیجی ہے اور انہیں اُمید ہے کہ بہت جلد سرکار اس پر غور کر کے اس کو منظوری دے گی ۔انہوں نے کہا کہ اجازت نامہ ملنے کے بعد ان کی کٹائی میں آسانی ہو گی اور ان کی جگہ نئے اعلیٰ معیار کے درخت لگائے جائیں گے جن کی پیدوار زیادہ بھی ہو گی اور حادثات بھی رونما نہیں ہوں گے ۔ اعجاز بٹ نے مزید بتایا کہ کشمیر میں بہت سی جگہوں پر چھوٹے قد والے اخروٹ کے درخت لگائے گئے ہیں اور پچھلے دو برسوں کے دوران ان کو وادی کے مختلف علاقوں میں متعارف کیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ فروری کے مہینے میں شجری کاری کے موسم میں کسانوں کو 20ہزار چھوٹے قد والے پودے دئے جائیں گے اس سے ایک تو چار گناہ زیادہ پیدوار ہو گی وہیں اس سے حادثات میں بھی کمی آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے قد والے درختوں سے میوہ اُتارنے کیلئے مشینوں کے استعمال پر بھی محکمہ غور وخوض کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اخروٹ کے ان نئے پودوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ صرف تین سال بعد ہی پیداوار دیتے ہیں اور کشمیر کے روایتی اخروٹ کے درختوں کے بجائے ان کے درخت نا ہی زیادہ جگہ گھیرتے ہیں اور نہ ہی یہ بہت بڑے ہوجاتے ہیں۔
 
 
 

اخروٹ اتارنے کیلئے حفاظتی بندوست | حکومت کی طرف سے ایڈوائزری جاری

نیوز ڈیسک
سرینگر // اتوار کوڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کے ایمرجنسی آپریشن سینٹرنے اخروٹ اتارنے کے دوران حفاظتی تدابیر اپنانے پر زور دیا ہے ۔ حفاظتی تدابیر میں کہا گیا ہے کہ اخروٹ اتارنے کے موسم کے دوران درختوں سے گرنے  کی وجہ سے اموات کے بدقسمت واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو اونچائی سے گرنا ریڑھ کی ہڈی کیلئے شدید چوٹوں کا سبب بن سکتا ہے۔عوام بالخصوص اخروٹ کے کاشتکاروں سے گزارش کی جاتی ہے کہ اخروٹ اُتارنے کے دوران درختوں پر چڑھتے ہوئے درج ذیل حفاظتی نکات پر عمل کریں۔ ہیلمٹ کا استعمال کریں اور حفاظتی رسی مناسب طریقے سے باندھیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ایک مضبوط اور پائیدار موٹی رسی استعمال کریں۔درختوں پر چڑھنے کے لئے لمبی سیڑھیوں کا استعمال کریں۔غیر مناسب جوتے نہ پہنیں ۔خطرے کو کم کرنے کیلئے درخت کی بنیاد کے ارد گرد ، پتھر وہ دیگر شدید چوٹ پہنچانے والی چیزوں کو ہٹا دیں۔درخت کے ارد گرد حفاظتی جال یا گھاس کے موٹے ڈھیر جمع کر کے رکھیں تاکہ حادثاتی طور پر گرنے کی صورت میں چوٹ سے بچا جا سکے ۔قریبی سول ڈیفنس یونٹ یا ہیلتھ سینٹر سے ابتدائی طبی امداد سیکھیں، اگر کوئی زخمی ہو جائے تو فوری ابتدائی طبی امداد دیں اور زخمیوں کو سخت لکڑی کے تختوں/سخت اسٹریچر پر قریبی ہیلتھ سنٹر لے جائیں۔ اپنے سیل فون کو اپنے ساتھ رکھیں۔ حادثے کی صورت میں مدد کے لیے کال کریں۔فوری طبی امداد/ایمبولینس سروس کیلئے 102 پر کال کریں۔اخروٹ کے درختوں پر چڑھنے سے گریز کریں ، اس کے بجائے لمبی سیڑھی یا لکڑی کے لمبے کھمبے استعمال کریں۔گیلے موسم میں اخروٹ کے درخت پر نہ چڑھیں۔ درختوں پر ننگے پاؤں یا چپل لگا کرنہ چڑھیں۔ جب آپ درخت پر چڑھنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو اخروٹ اُتارنے کیلئے کبھی اکیلے نہ جائیں۔اخروٹ اُتارتے وقت لمبے دھات کے کھمبے استعمال نہ کریں کیوں کہ بجلی کی لائنوں سے حادثاتی طور پر موت ہو سکتی ہے۔ ڈھیلا لباس نہ پہنیں جو شاخوں میں الجھ جائے ۔درخت پر چڑھ کر موبائل فون کا استعمال نہ کریں ۔نابالغ اور ناتجربہ کار افراد کو اخروٹ کے درختوں پر چڑھنے کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ 
 
 
 

تازہ ترین