تازہ ترین

جموں کشمیر میں کورونا کی دوسری لہر | ایک کروڑ ٹیکہ کاری کا ہدف پار | 71لاکھ 96ہزار421کو پہلا اور 28لاکھ 85ہزار335کو دونوں ڈوز دیئے گئے

تاریخ    20 ستمبر 2021 (26 : 12 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں اتوار کو مزید 87ہزار 260 افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ دیئے گئے، اسطرح ابتک مجموعی طور جموں و کشمیر میں ایک کروڑ 74 ہزار 221افراد کو کورونا مخالف ویکسین لئے ہیں۔ کورونا مخالف ویکسین لینے والے 10074221 افراد میں71لاکھ 96ہزار 421افراد کو پہلا ڈوز جگہ 28لاکھ 85ہزار 335افراد کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ اتوار کو ویکسین لینے والوں میں اننت ناگ میں 15ہزار 819 اور اسطرح یہاں مجموعی طور پر 7لاکھ 18 ہزار 965 افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے۔ کولگام ضلع میں3279کو ویکسین دیا گیا اور یہاں مجموعی طور پر ابتک 3لاکھ 89 ہزار 379 کو ویکسین دیا گیا ہے۔ شوپیان ضلع میں 880 2  افراد کو ٹیکہ دئے گئے اور اسطرح ابتک مجموعی طور پر 2لاکھ 32ہزار807افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے۔ پلوامہ میں 2793 افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا اور ضلع میں ابتک 4لاکھ 35 ہزار 508افراد کو کورونا مخالف ٹیکے دئے گئے ہیں۔ سرینگر میں 15429افراد کو ٹیکہ دئے گئے ہیں اور یہاں مجموعی تعداد 8لاکھ 94ہزار898ہوگئی ہے۔ بڈگام ضلع میںاتوار کو 6603افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا اور یہاں مجموعی تعداد 6لاکھ 15ہزار959ہوگئی ہے۔ بارہمولہ میں 4103افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے اور8لاکھ 44ہزار285تک پہنچ گئی ہے۔ کپوارہ میں 3828کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا اور یہاں بھی 6لاکھ 5ہزار15افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے۔ بانڈی پورہ میں 1210افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ دیا گیا ہے اور یہاں 2لاکھ 95ہزار756 کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے۔ گاندربل میںمیں475افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ دیا گیا ہے اور یہاں ٹیکہ لینے والوں کی تعداد 2لاکھ 43ہزار 40ہوگئی ہے۔ جموں ضلع میں اتوار کو 7697افراد کو کورونا مخالف ٹیکہ دئے گئے اور مجموعی طور پر یہاں 15لاکھ7ہزار137ہوئی ہے۔ ادھمپور میں  1055ویکسین کئے گئے  اور اس طرح یہاں ویکسین لینے والوں کی تعداد4لاکھ 84ہزار466، راجوری میں 3500افراد کو ٹیکہ دئے گئے ہیں  اور یہاں ویکسین لینے والوں کی تعداد 4لاکھ 48 ہزار588ہوگئی۔ کٹھوعہ میں اتوار کو 2750افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا اور یہاں ویکسین لینے والوں کی تعداد 5لاکھ 47ہزار382ہوگئی ہے۔ پونچھ میں 5873افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا جبکہ یہاں مجموعی طور پر 4لاکھ 10ہزار844افراد کو ویکسین دیا گیا ہے۔ رام بن میں 2198افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے جبکہ یہاں مجموعی طور پر ابتک 2لاکھ 66  ہزار250ہوگئی ہے۔ ڈوڈوہ میں2452افراد کو ٹیکہ دیا گیا ہے جبکہ یہاں مجموعی تعداد3لاکھ 45ہزار610ہوگئی ہے۔ کشتواڑ میں1867افراد کو ٹیکہ دئے گئے اور یہاں مجموعی تعداد1لاکھ 64ہزار330ہوگئی ہے۔ ریاسی میں 2138افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے جبکہ یہاںویکسین لینے والوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 74ہزار654تک پہنچ گئی ہے۔ سانبہ میں 1114افراد کو کورونا مخالف ویکسین دئے گئے اور یہاں ویکسین لینے والوں کی مجموعی تعداد 3ہزار49ہزار 348ہوگئی ہے۔  
 
 
 

چھٹے دن بھی اضافہ کا سلسلہ برقرار |  168متاثر، 54فیصد کا تعلق سرینگر سے

پرویز احمد 
سرینگر //جموں و کشمیر میں اتوار کومثبت قرار دئے گئے 168کورونا وائرس متاثرین میں  92یعنی 54فیصد متاثرین کا تعلق سرینگر شہر سے ہے ۔پچھلے 24گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں کورونا مخالف 54 ہزار 342 ٹیسٹ کئے گئے جن میں 7مسافروں سمیت 168افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں و کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 27ہزار941ہوگئی ہے۔ اس دوران مسلسل دوسرے دن بھی جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے اور متوفین کی مجموعی تعداد 4416بنی ہوئی ہے۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 168افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں 15جموں جبکہ 153 کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 153افراد میں 3 بیرون ریاستوں سے سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ دیگر 150 افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر کے 153متاثرین میں سب سے زیادہ سرینگر میں 92، بارہمولہ میں 12، بڈگام میں 20، پلوامہ میں 4، کپوارہ میں 3، اننت ناگ میں8 ، بانڈی پورہ میں 2، گاندربل میں 12 جبکہ کولگام اور شوپیان میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے۔ وادی میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 4ہزار469تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران کشمیر میں مسلسل دوسرے دن بھی کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 2247بنی ہوئی ہے۔ جموں صوبے کے 6اضلاع میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جن میں ادھمپور، کٹھوعہ، کشتواڑ، پونچھ، رام بن اور ریاسی میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جبکہ دیگر 4اضلاع میں 15افراد کو مثبت قرار دیا گیا ہے جن میں سے 4بیرون ریاستوں سے سفر کرکے جموں پہنچے جبکہ 11افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 23 ہزار472ہوگئی ہے۔ اس دوران جموں میں مسلسل چوتھے دن بھی کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ جموں صوبے میں متوفین کی تعداد 2169بنی ہوئی ہے۔ 
 
 
 

ملک میں یومیہ کیسز30,773 |  کورونا سے ہلاکتیں309

یو این آئی
نئی دہلی // ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے نئے کیسز کے مقابلے میں اس وبا کو شکست دینے والے لوگوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے ایکٹیو کیسز کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے ، جبکہ شفایابی کی شرح بتدریج بڑھ رہی ہے ۔دریں اثنا ء، ہفتے کے روز ملک میں 85 لاکھ 42 ہزار 732 افراد کو کورونا کی ویکسین دی گئی اور اب تک 80 کروڑ 43 لاکھ 72 ہزار 331 افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے ۔اتوار کی صبح مرکزی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 30،773 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ، جس سے کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ 34 لاکھ 48 ہزار 163 ہو گئی ہے ۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 38،945 مریضوں کی صحت یابی کے بعد کورونا سے شفایاب مریضوں کی تعداد تین کروڑ 26 لاکھ 71 ہزار 167 ہو گئی ہے ۔ ایکٹیو کیسز 8481 سے گھٹ کر تین لاکھ 32 ہزار 158 رہ گئے ہیں۔ اسی عرصے میں 309 مریضوں کی موت کی وجہ سے اموات کی تعداد بڑھ کر 4،44،838 ہو گئی ہے ۔ملک میں کورونا وائرس سے صحت یابی کی شرح بڑھ کر 97.68 فیصد، فعال کیسز کی شرح 0.99 فیصد جبکہ اموات کی شرح 1.33 فیصد رہ گئی ہے ۔
 
 
 
 

’سرینگر والو ! احتیاط کریں، کہیں صورتحال بگڑ نہ جائے‘ |  ملک دشمن عناصر سے نمٹنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے: منوج سنہا

بلال فرقانی
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے عوام کو وباء بیماری کووڈ 19 کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے معیاری عملیاتی طریقہ کار پر عمل کرنیکا مشورہ  دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نئے جموں کشمیر کے معمار ہیں اور انہیں ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر ، اور معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے مستعدی سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ سرینگر میں’’پیڈل فار پیس‘‘ سائیکل دوڑ کی تقریب پرمنوج سنہا نے کہا ’’ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مجموعی طور پر 50 فیصد مثبت کیس سرینگر سے آرہے ہیں، میں لوگوں سے گزارش کرتا ہوں ، میں سرینگر کے لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ وہ معیاری عملیاتی طریقہ کار کی پیروی کریں ، ورنہ ہم واپس اسی صورتحال میں جائیں گے جہاں ہم پچھلے سال تھے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرینگر کے لوگ معیاری عملیاتی طریقہ کار پر عمل نہیں کریں گے تو انتظامیہ دوبارہ سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ منوج سنہا نے کہا’’آپ (سرینگر کے لوگ) تعلیم یافتہ ہیں، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں پر زور دیں کہ وہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کووڈ سے متعلق معیاری وعملیاتی طریقہ کارپر عمل کریں‘‘۔  انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ملک کی وحدت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم امن اور بھائی چارہ چاہتے ہیں ، لیکن ہم ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد یا جموں و کشمیر میں امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے میں ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کریں گے۔جموں و کشمیر پولیس کی قربانیوں کی تعریف کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ یو ٹی میں اہم سنگ میل ، ادارے یا سڑکیں پولیس یا دیگر فورسز کے اہلکاروں کے نام پر رکھی جائیں گی جنہوں نے قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ایل جی نے کہا متعلقہ کمیٹی نے ایک فیصلہ کیا ہے اور یہ عمل 30 ستمبر سے شروع ہوگا۔سنہا نے کہا کہ اگرچہ یہ درست ہے کہ یو ٹی میں حالات بدل گئے ہیں ، پالیسی میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ایک وقت تھا جب امن خریدنے کی کوشش کی جاتی تھی ، لیکن میرے خیال میں وہ وقت اب ختم ہوچکا ہے اور سب کو سمجھنا چاہیے کہ یہ انتظامیہ امن کے قیام کے واحد مقصد پر کام کرتی ہے اور سول انتظامیہ اور پولیس دونوں کام کر رہے ہیں ،یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو ماضی قریب میں ہوا ہے‘‘۔منوج سنہا نے کہاکہ جموں و کشمیر پولیس نے ملک کے امن اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے کام کیا ہے اور مختلف مشکلات کے باوجود اپنا فرض ادا کیا۔ سنہا نے کہا کہ پولیس منشیات کے استعمال سے بھی لڑ رہی ہے اور ان نوجوانوں کو، جو کہ منشیات کا غلط استعمال کرتے ہیں ، قومی دھارے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا ، "میں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس سے باز آئیں اور اپنی توانائی کو اپنے ، اپنے خاندانوں ، معاشرے اور یوٹی کے لیے کسی اچھی چیز میں تبدیل کریں۔"
 
 
 

کووڈ 19کیلئے سابقہ گائیڈ لائنز برقرار | نجی تقریبات میں منفی ٹیسٹ 

آنے والوں کی شرکت مشروط

بلال فرقانی
سرینگر//انتظامیہ نے کووڈ کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اندرون و بیرون اجتماعات میں شام کو لوگوں کی تعداد اور شبانہ کرفیو میں نرمی کا مشروط اضافہ کیا ہے۔ چیف سیکریٹری کی طرف سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی اندرونی یا بیرونی اجتماع کیلئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کی حد25ہی رہے گی تاہم ان اضلاع جہاں پر مثبت شرح0.2اور ہفتہ وار کیسوں کی تعداد250سے کم ہوگی،وہاں پر لوگوں کی جمع ہونے کی تعداد کو50کردیا گیا ہے تاہم اس کو بھی صد فیصد ٹیکہ کاری اور72گھنٹوں سے قبل ’آئی اے ٹی‘  اور ’آر ٹی پی سی آر‘ منفی ٹیسوں کے ساتھ مشروط رکھا گیا ہے۔ میٹنگ کے دوران تعلیمی اداروں کے بارے میںسابقہ فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔شبانہ کرفیو کا نفاذ شام8بجے سے صبح7بجے تک جاری رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے تاہم جن اضلاع میں مثبت شرح0.2سے کم ہو اور ہفتہ وار مثبت کیسوں کی تعداد250سے کم ہو گی، ان اضلاع میں شبانہ کرفیو رات10بجے سے صبح6بجے تک جاری رہے گا۔آرڈر میں کہا گیا ہے کہ ضلع سرینگر میں کرونا کیسوں میں ٹیکہ کاری کی خصوصی مہم چلائی جائے گی تاکہ پہلی خوراک کے صد فیصد ہدف تک پہنچا جاسکے۔پارکوں اور باغات میں بھی ٹیکہ لگائے گئے افراد کو ہی داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
 

تازہ ترین