تازہ ترین

منشیات کے استعمال کا بڑھتارُجحان | معاشرہ کو بچانے کی اَشد ضرورت

فکرو ادراک

تاریخ    20 ستمبر 2021 (00 : 12 AM)   


محمد توحیدرضا
دورِحاضرمیں نشہ آوراشیاء کا بڑی تیزی سے استعمال اورخریدوفروخت میں بے انتہا اضافہ، اسکے مقبول عام ہونے کا واضح اشارہ ہے۔لاک ڈائون میں شراب نہ ملنے کی صورت میں شرابیوں کاحال تو بے حال ہو گیاتھاپھر جب مختلف ریاستوں میں لاک ڈائون میں تھوڑی سی نرمی کے تحت شراب کی دکانیں کھول نے کا حکم ملا توآنکھ والوں نے بخوبی دیکھاکہ شراب کی دکانوں پرشرابیوں کی لمبی لمبی قطاریںلگیںاور منشیات کی خریدوفروخت میں بے انتہادلچسپی کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں رہی۔ظاہر ہے اب جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی منشیات کےمضرات کے بارے میںکوئی زور و شور نہیں دکھائی دیتا بلکہ منشیات کے متعلق اس انداز سے پرچار کیا جاتا ہے کہ جیسےلوگوں کے لئےمنشیات زندگی کا ایک خاص جُز بن گیا ۔منشیات کےمضر اثرات سے بچنے کی کوئی صلاح نہیںدی جاتی البتہ بلکہ ان کے کم استعمال کی طرف مائل کرنے کا کام کیاجارہا ہے ۔ منشیات کی خرید وفروخت اور اس کے استعمال میں ملوث فلمی ستاروں سے لیکر انکے بیشتر فالورزبھی اس لت کے شکار ہیں۔حالانکہ ڈرگز،چرس و نشہ آور اشیاء کی خرید وفرخت کرنا قانوناََ جرم ہے ،جرم ثابت ہونے پر سزائے قیدکے مستحق بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ اب قومِ مسلم کے لئے بڑی فسوس ناک بات یہ ہے کہ اکثر مسلم نوجوان بھی منشیات کی لت کے شکار ہوتے نظرآرہے ہیں ۔جہاں خلوت دِکھائی دےاور جہاںآمدو رفت نہ ہو، وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ چرس اور دیگرنشیلی اشیاء کا استعمال کرکے اپنی دنیا و آخرت برباد کرنے میں مصروف ِ عمل ہیں ۔
   نشہ ومنشیات سے مرادکیاہے :
 نشہ آور چیزوں سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں ،جنکے استعمال سے وقتی طور پر عقل وخردکی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے نیز جسم بھی اپنے اعتبار سے کارکردگی میں ضعف کاشکارہوجاتاہے ۔اب بہت سی صورتیں نشہ آوراشیاء میں پیدا ہو گئی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اب مختلف کیمیکلزکی ترکیب سے بھی نشہ آورچیزیں بنائی جارہی ہیں۔ ایسے ایسے اسپرے بازاروں میں آگئے ہیںکہ ان کوسونگھنے سے ہی انسان نشہ کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ بہرحال نشہ کیسابھی ہو، خواہ وہ ا لکحل کی شکل میں ہو یا غیر الکحل،چرس،گانجہ ،افیم ،ٹکیہ یا انجکشن وغیرہ ہو، ہرقسم کے نشے پر لعنت و پھٹکار ہے۔ ہر قسم کے نشے کی ممانعت کی گئی ہے۔ شراب کااطلاق خاص طور سے اس موادپرہوتا ہے جو ا لکوحل کی کم از کم اتنی مقدارپرشامل ہو کہ جو عقل کونقصان پہنچائے اورجسمانی امراض کاسبب بنے۔ منشیات کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ۱۔طبعی منشیات،۲۔ غیر طبعی منشیات :طبعی منشیات سے مراد وہ نشہ آور مادہ ہے جونیندکی کیفیت پیدا کرتی ہے۔طبعی منشیات بہت سے پودوں سے حاصل کی جاتی ہیں ،غیر طبعی منشیات (ڈرگز) سے مراد ایسی نشہ آورچیزیں ہیں، جنہیں مصنوعی طورپرتیارکیاجاتاہے۔ سب سے پہلے الکحلی منشیات پر جو لعنت و پھٹکار قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اُسی پر نظر ڈالتے ہیں۔
شراب کی تفصیل :شراب۔لغت میں پینے کی چیزکوشراب کہتے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ہروہ پینے والی چیزجوانسان کومدہوش کردے۔ ہوش وخرد سے بیگانہ کر دے، اسے اردو میں شراب اورعربی میں خمرکہتے ہیں۔خمرکا لغوی معنی ہے ڈھک لینا، چھپالینا ۔چونکہ شراب کانشہ عقل کوڈھانپ لیتا ہے ،پینے والے کوہوش وخردسے بے گانہ کردیتاہے، اس لیے اس کوخمرکہتے ہیں جیسے دوپٹہ اوراوڑھنی کو خمار کہتے ہیں، اس لئے کہ وہ بدن کو ڈھک دیتا ہے ۔               
حرمت ِ شراب وصحابہ کی اطاعت :
 حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس دن شراب کی حرمت نازل ہوئی، اس دن ہمارے پاس فضیخ نامی کھجورکی شراب کے سو ا اور کوئی دوسری شراب نہ تھی ۔اس دن میں حضرت ابو طلحہ کے پاس ساقی بناہواتھا اور کھڑاہوکر حضرت ابو طلحہ اوران کے دوستوں کو شراب پلارہاتھا کہ اسی دوران ہمارے پاس ایک آدمی آیااور کہنے لگاکیاآپ لوگوں تک کوئی خبر نہیں پہنچی ہے؟ شراب پینے والوں نے پوچھاکیسی خبر؟ اس آدمی نے کہاکہ شراب حرام کردی گئی ہے۔ جیسے ہی لوگوں نے یہ سنا کہ شراب حرام کردی گئی ہے، کسی نے اس کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا۔کہنے لگے، انس شراب کایہ مٹکا بہادو۔ میں نے لوہے کااپنایہ دست لیا اورمٹکوں کے نیچے مارمار کرسارے مٹکے توڑدئیے ۔اس دن کاحال یہ تھاکہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں ہرطرف شراب بہہ رہی تھی کہ شراب کی حرمت کوجاننے کے بعدلوگوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شراب پیناچھوڑدیا۔کچھ لوگوں نے کہاکہ وہ لوگ مارے گئے جواس حال میں انتقال کرگئے کہ ان کے پیٹوں میں شراب موجودتھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی( پارہ نمبر 7سورہ مائدہ آیت نمبر 93  )ترجمہ: جو ایمان لائے اور نیک کام کئے، اُن پرکچھ گناہ نہیں، جوکچھ انہوں نے چکھاجبکہ وہ ڈرے اور ایمان رکھے اورنیکیاں کریں پھر ڈرے اورایمان رکھیں پھرڈریں اورنیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتاہے۔یعنی شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے جوکھایا پیاہے ،وہ سب معاف ہیں ،ان پر کچھ مواخذنہ ہوگا(بخاری شریف جلداول. صفحہ 333جلددوم صفحہ 664) رسول اللہ  ﷺ کے اصحاب کا یہ جذبہ اطاعت تھاکہ جیسے ہی انہیں یہ معلوم ہواکہ شراب حرام کردی گئی ہے ،ان لوگوں نے فو راًشراب پینا چھوڑدیااوراس کوبہادیا۔ 
  حرمتِ شراب کی پہلی اسٹیج :
شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے بھی کچھ صحابہ ایسے تھے جو نہ شراب پیتے تھے اور نہ شراب کوپسندکرتے تھے۔ حضرت عمربن خطاب اورحضرت معاذبن جبل انصار کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیایارسول اللہ  ؐ! شراب اور جوایہ دونوں عقل کو سلب کرنے والی اورمال کوبربادکرنے والی چیزیں ہیں۔ آپ اس کے متعلق کچھ فرمائیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔(پارہ نمبر 2 سورہ بقرہ آیت نمبر 219 )ترجمہ:تم سے شراب اورجوئے کاحکم پوچھتے ہیں تم فرمادوکہ ان دونوں میں بڑاگناہ ہے اورلوگوں کیلئے کچھ دنیوی نفع بھی اوران کاگناہ ان کے نفع سے بھی بڑا ہے۔یعنی شراب سے کچھ عارضی سرورحاصل ہوتا ہے، اس کی خریدوفروخت سے تجارتی فائدہ ہوتاہے اورجواکھیلنے سے بغیر محنت ومشقت کے کبھی مفت کا مال ہاتھ آجاتا ہے لیکن شراب اور جوئے کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ اس کے سامنے اس تھوڑے سے نفع کی کوئی قدروقیمت نہیں رہتی۔ شراب اورجواکی وجہ سے آدمی ذلیل وخوار ہوجاتا ہے، عقل زائل ہوتی ہے ،غیرت وحمیت ختم ہوجاتی ہے، دشمنی بڑھتی ہے اورعبادات وریاضات سے محرومی ہوتی ہے۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعدمزیدکچھ لوگوں نے شراب پینا چھوڑدیالیکن شراب کی جس قدربرائیاں لوگوں کے سامنے تھی اس کومدنظررکھتے ہوئے حضرت عمراکثرشراب کی حرمت کے لئے دعائیں کیا کرتے۔
  حرمتِ شراب کی دوسری اسٹیج  :
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کی ایک جماعت کوکھانے کی دعوت دی ۔کھانے کےبعدجب شراب پی گئی تو چونکہ اس وقت تک شراب حرام نہیں کی گئی تھی ،اس لیے صحابہ نے شراب پی لی، ابھی شراب کانشہ ٹوٹابھی نہیں تھاکہ مغرب کی نماز کاوقت ہوگیا،انہیں لوگوں میں سے ایک صاحب امام بن گئے ۔امام صاحب نے سورہ کافرون کی تلاوت شروع کی تونشے کی وجہ سے کئی آیتوں کوغلط پڑھ دیااور غلطی بھی ایسی کہ خداکی پناہ۔ اگرکوئی آدمی ہوش ہواس نے جان بوجھ کر ایسا پڑھ د ے تو دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے مگر وہ نشے میں ایسا مست تھے کہ خودپڑھنے والے کو اپنی غلطی کااحساس بھی نہ ہوسکا،اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو نشے کی حالت میں نمازپڑھنے سے منع فرما دیاگیا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے( پارہ نمبر5  سورۃ النساء آیت نمبر 43 ت)ترجمہ:اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہوکہ جوکہو اُسے سمجھواورنہ ناپاکی کی حالت میں۔
  حرمت ِشراب کی تیسری اور آخری اسٹیج  :
 سن 3ہجری میں غزوہ احزاب سے کچھ ہی دن بعد کی بات ہے کہ گھر میں لوگوں کو مجلس میں شراب بھی پلائی گئی، جب لوگ شراب پی کر مست ہوئے تواپنے اپنے قبیلوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگے، الیٰ آخر۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے شراب کی حرمت کااعلان فرمادیااور یہ شراب کی حرمت کااٹل اعلان تھا (سورہ المائدہ پارہ7آیت نمبر90.91 )اے ایمان والو !شراب اور جوااوربُت اور پھانسی ناپاک ہیں، شیطانی کام ۔تو ان سے بچتے رہناتاکہ تم فلاح پاؤ۔شیطان تو یہی چاہتاہے کہ ڈال دیں تمہارے درمیان عداوت اوربغض، شراب اورجوئے کے ذریعے اورروک دے تمہیں یادِ الٰہی سے اورنماز سے، تو کیاتم بازآنے والے ہو۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کوحکم دیاکہ جاؤں مدینہ کی گلی کوچوں میں پھرکربلندآواز سے شراب کی حرمت کااعلان کردو، جس وقت حضور کے قاصدنے شراب کے حرام ہونے کااعلان کرنا شروع کیاتو اس وقت جتنے لوگ شراب پی رہے تھے ،سب نے شراب کے پیالے زمین پر پٹخ دیے ،مٹکے میں رکھی ہوئی شراب بہادی اوروہ چیزجو انہیں بڑی عزیزتھی گندے پانی کی طرح مدینے کی گلیوں میں بہہ رہی تھی اوراس دن کے بعدپھرکبھی کسی صحابی نے شراب پینے کی خواہش کااظہارنہیں کیااور یہ صحابہ کی اطاعت وفرمابرداری کی ایسی مثال ہے کہ دنیااس کی مثال پیش کرنے سے قاصروعاجزہے ۔ہر بدبوداراورغلیظ چیزکو’رجس‘ کہتے ہیں گویا۔رجس من عمل الشیطان۔کہہ کریہ بتایاجارہاہے کہ شراب پینا ،پانسہ اورجواکھیلنااس قدر غلیظ اورناپاک کام ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت اورنیک طبیعت انسان خود ان کاموں کی طرف مائل نہیں ہوتا،یہ صرف شیطانی وسوسہ ہی ہے جولوگوں کو ان قبیح کاموں کی طرف مائل کرتاہے (تفسیر کبیر۔از امام طبرانی خزائن العرفان از علامہ نعیم الدین مرادآبادی الدرر المنثوراز علامہ سیوطی) 
   ہرنشہ لانے والی چیزحرام ہے  :
 شراب کی مقدارکم ہویازیادہ وہ حرام اورناپاک ہے ۔شراب کاحرام ہونا نصِ قطعی سے ثابت ہے اوراس کی حرمت پرتمام مسلمانوں کااجماع ہے ۔شراب کاپینا بیچنا خریدنا یادوا کے طورپراستعمال کرنا،یہ سب حرام ہے۔ اسلامی ریاست میں شراب پینے والوں پرحدجاری کیاجائیگااگرچہ پینے کے بعدنشہ نہ ہواہو۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کویمن کی جانب بھیجاتوانہوں نے حضورسے ان شرابوں کے بارے میں پوچھا جو وہاں بنائی جاتی تھی، فرمایاکیاہے وہ؟ انہوں نے کہا بتع اورمرز۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کل مسکرحرام۔یعنی ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے  (بخاری شریف جلددوم کتاب المغازی )۔ نوجوانوں میں نشے کی لت کاایک محرک نشے باز ساتھیوں کی صحبت ورفاقت بھی ہے، بری صحبت کے بدترین اثرات عقل و نقل سب سے ثابت ہیں۔ آج منشیات کارواج عام ہونے کابنیادی سبب یہی ہے کہ امت ایمانی قوت سے محروم اوربارگاہ الٰہی میں بازپْرس کی حقیقت سے بے فکری اوربے خوفی میں مبتلاہوناہے اورنشہ آورکے ایمانی جذبات کمزور اور سرد پڑگئے ہیں، بے خوفی اورجرائت بڑھ گئی ہے، اللہ پاک کاخوف رخصت ہورہا ہے، موت کی یادسے غفلت عام ہے، آخرت کی فکراوربارگاہِ رب العزت میں حاضری اورجواب دہی کا استحضار باقی نہیں رہا  اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گناہوں کی طرف لوگ سرپٹ دوڑے جارہے ہیں۔   
   معاشر ے میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رواج کو ختم کرنے اور معاشرے کو اس برائی سے بچانے کے لئے تمام برائیوں کے سدباب اورہر نوع کی مجرمانہ عادتوں کوختم کرنے کیلئے اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایمانی جذبات بیدار کردیئے جائیں اوراللہ کاخوف جگادیاجائے، برائیوں سے نفرت پیداکرنے کاسب سے کارگر نسخہ ایمانی جذبات کی بیداری اوراللہ کی بارگاہ میں پیشی اورجواب دہی کاتصور ہے۔تجربات اورمشاہدات سب سے ثابت ہوچکا ہے کہ جوافرادقرآنی اوردینی تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں اوراسے اپنا مشغلہ بنالیتے ہیں ،وہ بالعموم جرائم سے محفوظ رہتے ہیں اور بطورِخاص نشے بازی اور اس جیسے گناہوں سے توبالکل الگ رہتے ہیں۔ صاحبِ ایمان معاشرے میں ہرفرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے تمام متعلقین کیلئے قرآن کی اور بنیادی دینی تعلیم کو ضروری سمجھےاورگناہوں سے بچنے کاعہد کریں۔
  رابطہ۔9886402786

تازہ ترین