تازہ ترین

عکس

افسانہ

تاریخ    19 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ساحل احمد لون
ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے مجھے کبھی کبھی منافقت کا لبادہ اوڑھنا پڑتا ہے۔کبھی کبھارکوئی غم اندر سے نڈھال کردیتا ہے لیکن اپنے کیبن میں بیٹھتے ہوئے اکثر ہونٹوں پر بناوٹی مسکراہٹ سجاتا ہوں تاکہ پیشے کے ساتھ انصاف ہو سکے۔اپنی ننھی سی بچی کی بیماری نے مجھے اندر سے نچوڑ کر رکھا تھا مگر آج مجھے ہونٹوں پر بناوٹی مسکراہٹ سجانے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ میں کیبن میں اکیلا بیٹھاتھا۔
    موسمِ خزاں دستک دے چکا تھا اور میں اپنی کرسی پر دراز ہوکر کیبن کی داہنی طرف کی کھڑکی سے خزاں رسیدہ چنار کا مشاہدہ کررہا تھا،جو میرے کیبن سے چند سو میٹروں کے فاصلے پر ہی واقع تھا۔اُس کے زرد پتے یکے بعد دیگرے ہچکولے کھا کھا کر زمین پر گررہے تھے۔آج ہوا کے معمولی جھونکوں کے سامنے دیو قامت چنار بے بس نظر آرہا تھا۔فرش پر زرد پتوں کے انبار نے ایک قالین کی شکل اختیار کی تھی،ایک ایسا قالین جس سے نظرٹکراتے ہی دل میں یاس کی ایک لہر سی اُٹھتی تھی۔پتے مسلسل گررہے تھے۔ایک ،دو،سات،نو۔۔۔اور بارہواں پتا ابھی ہچکولے کھاتا ہوا  زمیںکی طرف محوِ سفرہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
اس دستک نے مجھے گویا کسی گہرے خواب سے بیدار کیا اور میںنے ہڑبڑاتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا۔
’’آئیے آئیے۔‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ ایسے نکلے جیسے کسی نے تیز دھار والا چھرا میرے حلق پر رکھا تھا اور ذبح ہونے کے بالکل قریب میں اب خود کو بچانے کی خاطر آخری دہائی دے رہا تھا۔
دروازہ وا ہوا تو میری نظریں ایک عمر رسیدہ بزرگ سے چار ہوئیں۔ملگجی سفید شلوار قمیض،کمرخمیدہ،ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور کپکپاتے داہنے ہاتھ میں عصا۔اُس کا چہرہ دیکھ کر نہ جانے کیوں درد کی ایک ٹیس سی میرے دل میں اُٹھی کیونکہ جھریوں بھرے اُس چہرے کے خدوخال ایسے تھے گویا ابھی رونا شروع کردے۔
پہلے عصا کمرے میں داخل ہوا۔پھر اُس بزرگ کے لڑکھڑاتے قدم اور اُن قدموں کا تعاقب کرتے ہوئے کسی اور شخص کے قدم۔یہ ایک تیس بتیس سالہ جوان تھا۔ بال ایسے بے سلیقہ گویا ابھی غنڈوں کے کسی بڑے گروہ سے مارکھا کے آیا ہو۔آنکھیں ایسی جن کی طرف دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ شاید یہ بیداری کی حالت میں ہی خواب دیکھ رہا ہے۔کپڑے گرچہ پرانے نہیں تھے پر ہاں سلیقے سے زیب تن نہیں کیے گئے تھے ،ایک آستیں مڑی ہوئی اور دوسری کھلی۔کالر بھی گردن کے ساتھ استادہ ہونے کی بجائے شانوں پر لٹک رہا تھا اور جب اس کے قدم اُٹھتے تو معلوم ہوتا تھا کہ کالر کوئی نوزائید روتا بچہ ہے جسے اب اپنے پیارے سلانے کے جتن کررہے ہیں۔چہرہ یاس سے بھرا ہوا تھا گویا چنار کے پتوں سے بُنے اُس زرد قالین میں روح پھونک دی گئی ہو۔
 دُنیا و مافیہا سے بے نیاز اس نوجوان کے خدوخال دیکھ کر مجھے حیرت نہیں ہوئی،کیونکہ ماہر نفسیات ہونے کے ناطے تقریباً ہر روز ہی اس طرح کے لوگوں سے میرا پالا پڑتا ہے۔میرے لیے تو حیرانی کی بات بس یہ تھی کہ اس کے ہاتھ میں ایک آئینہ تھا جس کی طرف وہ بار بار دیکھ رہا تھا،چلتے چلتے بھی۔اپنے کرئیر کے اتنے سالوں میں یہ پہلا موقعہ تھا جب میں نے کسی شخص کو ایسے ہاتھ میں آئینہ لے کر آتے دیکھا۔
شائد اتنے سالوں کے میرے تجربے اور تربیت کا عمل دخل تھا کہ میں نے اس حیرت کو اپنے چہرے پر نمودار نہیں ہونے دیا اور ایک مرتبہ پھر منافقت کا لُبادہ اوڑھ کر ہونٹوں پر جعلی مسکراہٹ سجائی اور دونوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔دونوں میری پیشکش پر میری میز کے سامنے والی کرسیوں پر بیٹھ تو گئے پر میری جعلی مُسکراہٹ کا اُن پر کوئی اثر نہ ہوا ،جو اُن کے چہروں سے صاف ظاہر تھا۔
   رسمی علیک سلیک کے بعدحسبِ معمول کچھ سوالات پوچھے تو یہ بات مجھ پر آشکارا ہوئی کہ دراصل دونوں باپ بیٹے ہیں اور نفسیاتی مریض یہ جوان ہے۔ویسے مجھے کم ہی لوگوں سے یہ سوال پوچھنا پڑتا ہے کہ مریض کون ہے،پر یہاں دونوں کے خدوخال ایسے تھے کہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ مریض کون ہے۔اپنے پیشے کے اصولوں پر کاربند ہوتے ہوئے میں نے بزرگ سے شفقت بھرے لہجے میں باہر جانے کے لیے کہا تاکہ میں بنا کسی رکاوٹ کے مریض سے بات کرکے اُس کے مرض کی صحیح تشخیص کرسکوں۔اس پر بزرگ کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگا اور مجھ سے کہنے لگا،’’بیٹے! یہ کیا بات کر پائے گاآپ سے،یہ تو ایک زندہ لاش کی طرح ہے،اپنے آپ سے بے خبر۔‘‘
’’پر کاکا ! اِس کی اس حالتِ زار کی کوئی وجہ تو ہوگی؟‘‘میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
میرا سوال سُن کربزرگ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا۔اُس پر گھبراہٹ سی طاری ہوئی اورپھر نظریں چراتے ہوئے کہنے لگا،’’ اچا۔۔اچانک ہی اس کی ایسی حالت بن گئی،ورنہ تو ٹھیک تھا۔اب بس یہی آئینہ ہاتھ میں لے کر دن بھر اسی میں کھویا رہتا ہے۔‘‘
   مجھے مرض کا اندازہ لگانے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔۔۔یا شاید وہ میری غلط فہمی تھی۔
’’ارے کاکا! یہ تو کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔آپ بے فکر رہیں،آپ کا بیٹا بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔یہ ایک نفسیاتی مرض ہے جسے ہم Body Dysmorphic Disorder کہتے ہیں۔آپ آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے کہ اس مرض میں مبتلا مریضوں کو اپنے جسم کی حالت دیکھنے کی لت لگ جاتی ہے،اُنہیں ایسا لگتا ہے کہ شاید اُن کے جسم میں کوئی نقص ہے اور اسی لیے وہ بار بار آئینہ دیکھتے رہتے ہیں۔‘‘میں نے بزرگ کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
’’جھوٹ جھوٹ ۔۔۔مجھے اپنے جسم کی لت نہیں ہے،مجھے تو اپنے آپ سے نفرت ہے۔مجھے بس اُس عکس کی لت ہے جو مجھے اس آئینے میں دکھتا ہے۔کتنا زندہ ضمیر ہے۔‘‘ دفعتاً جوان کی زبان کا قفل کھل گیا۔میری بات نے گویا ایک چابی کا کام کیا تھا۔
’’پر آئینے میں تو اپنا وجود ہی نظر آتا ہے،اپنے جسم کا عکس؟‘‘میں نے قدرے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں نہیں ،وہ میرا عکس نہیں ہوسکتا ۔میں تو خود درندہ ہوں،بے ضمیر ہو۔۔۔پر وہ عکس۔۔۔وہ عکس بے ضمیر نہیں ہے،درندہ نہیں ہے۔‘‘
’’پر آپ کو کیوں اپنا آپ بے ضمیر لگتا ہے،آپ تو بہت اچھے انسان ہیں۔‘‘
جوان یہ سن کر خاموش رہا اور اپنے پاؤں پر نظریں جما نے لگا۔میں نے تالا کھولنے کے لیے ایک اور چابی کا سہارا لیا اور میں کامیاب ہوا۔
’’اصل میں وہ عکس ہی بے ضمیر اور گندا ہے۔‘‘میں نے کہا۔
اس پر وہ تلملا اُٹھا اورگرج کر کہنے لگا،’’ وہ بے ضمیر نہیں ہے،گندا نہیں ہے۔گندا تو میں ہو،بے ضمیر تو میں ہوں ۔میں بے ضمیر اور درندہ نہ ہوتا تو اپنی بہن کا قتل کیسے کرتا؟ وہ بھی بس اس لیے کہ ہم اونچی ذات کے تھے اور وہ اپنی ذات سے باہر شادی کرنا چاہتی تھی۔گندے تم ہو،گندا میرا باپ ہے ،گندے سارے دُنیا والے ہیں،گندے میرے رشتہ دار ہیں،جنہوں نے میرے ہاتھ روکنے کے بجائے اس گھٹیا کام کے لیے مجھے اور زیادہ اُکسایا۔ وہ بھی بس اس لیے کہ سماج میں کہیں اس شادی سے ان کی ناک نہ کٹے! جب میں نے اُسے تفریح کے بہانے برف باری میں پہاڑ پر سیر کرنے کے لئے گیا تو وہاں اسے پہاڑ سے دھکا دے کر موت کے آغوش میں سُلا دیا۔ تب کہاں تھا میراضمیر،میرے باپ کا ضمیر،میرے رشتہ داروں کا ضمیر؟ ۔۔۔یہاں بس اس عکس کا ضمیر زندہ ہے۔۔۔جب اپنی حیوانیت کے بعد یہ آئینہ دیکھا تو اس میں نظر آرہا وہی عکس تھا جس نے میری ملامت کی،مجھ پر کوڑے برسائے اور آپ اسی کو گندا اور بے ضمیر کہہ رہے ہیں۔‘‘ 
جوان نے ایک ہی سانس میں سب کچھ اُگل دیا۔بزرگ نظریں جُھکا کر خاموش بیٹھا تھا۔میں دونوں کو مبہوت ہوکر دیکھنے لگا اورنہ جانے سوچوں کی کن وادیوں میں کھو گیا۔وقت کتنا بیت گیا، مجھے اس کی خبر نہیں ۔ہاں اتنا یاد ہے کہ مجھے ایک ڈراؤنی چیخ نے خیالوں کی وادیوں سے باہر لایا۔
’’خون خون خون‘‘ جوان چلانے لگا۔
’’ کہاں ہے خون؟‘‘میں نے چونک کر پوچھا۔
’’اُدھر۔۔اُدھر‘‘ اُس نے کیبن کی ایک دیوار کی طرف اشارہ کیا، جس پر سیاحتی مقام گلمرگ کے برف پوش پہاڑوں کی پینٹنگ آویزاں تھی۔
 
���
برپورہ پلوامہ کشمیر
 lonesahilahmadkmr@gmail.com
 

تازہ ترین