تازہ ترین

کاش ہماری زندگی قرآن کی تفسیر ہوجائے

فکرو فہم

تاریخ    17 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


شکیل مصطفی
خالقِ کائنات انسان کو پُر خطر راہوں اور کفر و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکالنے کے لیے کچھ محبوب ہستیوں کو مبعوث فرماتا رہا تاکہ وہ انسان کو انسانیت کا درس دے سکیں۔ آپس میں اُخوت و محبت کا چراغ جلاکر اپنے پیدا کرنے والے معبودِ حقیقی سے بچھڑے بندوں کو قریب کرسکیں۔ 
چناں چہ خدا کا دستور رہا ہے کہ جب بھی اس نے کسی پیغمبر کو بھیجا تو اِسے گمراہوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے کچھ نہ کچھ ایسے عاجز کن، انسانی عقل سے بعید دلائل و معجزات عطا کیے تاکہ انسان اُن کی طرف متوجہ ہوجائیں، اُن کی باتوں کو سننے لگیں اور ان کے پیغام کو قبول کرکے عہد کریں کہ ماضی سے ہٹ کر حال و مستبقل سنوار سکیں۔ لہٰذا جب بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو فن سحر میں وہ کمال و معجزہ عطا فرمایا کہ بڑے بڑے جادوگروں کو شکست دے کر محو حیرت کردیاجس سے متاثر ہوکر وہ ایمان لانے پر مجبور ہوگئے۔ 
ساتھیو! مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک، آسمان سے زمین تک، ازل سے ابد تک ڈھونڈتے جائیے کہیں بھی آپ کو ایسی شخصیت نظر نہ آئے گی۔ ان تمام گوناگوں اوصاف سے متصف صرف اور صرف ایک ذات ہے جسے ہم آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اخلاقِ عظیم کی گواہی قرآن پاک نے دی ہے۔ ’’وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ‘‘ میں اپنی چھوٹی زبان سے جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات و اُسوۂ حسنہ کو کیا آپ کے سامنے پیش کروں، جب کہ بڑے بڑے علماء و اہل قلم حضرات نے تھک کر یہ کہہ دیا    ؎
کیا نور کی بارش ہوتی ہے اللہ غنی لکھتے لکھتے
سو راتیں کاش گذر جائیں اک نعت نبی لکھتے لکھتے 
چلتا ہی رہا صدیوں کا قلم، پورے نہ ہوئے ابوابِ کرم 
دریاؤں کا پانی سوکھ گیا اوصافِ نبی لکھتے لکھتے 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق حسنہ: 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اِس قدر اونچے تھے کہ جو کوئی دیکھ لیتا تو آپ کے اخلاق و اخلاص سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ایک عورت جو آپ کی کٹّر دشمن تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں کانٹے، کوڑا کرکٹ اور گندگی ڈالتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینا اس کے نزدیک گناہ عظیم تھا مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ضعیفہ بیمار ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے پہنچتے ہیں تو ضعیفہ کہتی ہے کہ اے محمد! تو مجھ سے بدلہ لینے آیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نہیں، میں تو عیادت کرنے آیا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خدمت کرتے اور اخلاق مندی سے پیش آتے تو فوراً اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے دامنِ اسلام سے چمٹ جاتی ہے اور عفو و درگذر کا خواست گار ہوتی ہے۔ 
صادق، الامین: کوئی ایسا نبی نہیں کہ انھیں ان کی قوم نے باوجود مخالفت کے صادق کا خطاب دیا ہو لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی اس سے متصف ہے اور اس وقت بھی اس صفت سے متصف تھی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے درمیان گھرے ہوئے تھے۔ ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس امانت رکھا کرتے تھے۔ 
مکّی زندگی کے آخری ایام میں جب (نعوذ باللہ) آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا تھا، کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی سے مایوس ہوکر قتل کے در پے ہوئے تھے تو اس وقت بھی ان کی امانت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرنے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ امانت دے گئے کہ یہ امانت، امانت والوں کے سپرد کردینا، اس سے بڑھ کر صادق او رامین ہونے کی اور کیا نظیر ہوسکتی تھی کہ دوست تو دوست دشمن بھی آپ کے پاس امانت رکھتے تھے۔ 
رواداری: رواداری کا یہ عالم تھا کہ کسی ناپسندیدہ آدمی کی آمد پر بھی خندہ پیشانی سے پیش آتے اور اِسے عزت دیتے۔ چناں چہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہمراہ نہایت بے تکلفی سے بات کی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو اس پر تعجب ہوا تو آپﷺ نے فرمایا ’’قسم ہے کہ قیامت کے دن خدا کے حضور وہ شخص بدترین مقام پائے گا جس سے لوگ اس کی بدسلوکی کے ڈر سے ملنا جلنا ترک کردیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے یہاں ملاقات کے لیے جاتے تو دروازے کے دائیں یا بائیں کھڑے ہوکر اطلاع دیتے اور اجازت لینے کے لیے تین مرتبہ سلام کرتے، جواب نہ ملنے پر بغیر کسی تکدر کے واپس چلے آتے۔ رات میں اگر کسی سے ملنے جاتے تو اتنی دھیمی آواز سے سلام کہتے کہ اگر وہ جاگتا ہو تو سن لے اور سو رہا ہو تو اس کی نیند میں خلل نہ آئے۔ 
تاریخ شاہد ہے کہ اللہ کے رسولؐ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوتے ہیں اور آپ کے سامنے وہ تمام مجرمین اپنے جرائم کے تصور سے کانپ رہے ہیں۔ جنہوں نے آپﷺ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو طرح طرح سے ستایا تھا، بے بسی و بے کسی کے عالم میں اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ ایک ایک جرم کا تصور آپ ﷺ کے دشمنوں کو یاد آرہا تھا اور وہ سوچ رہے تھے کہ آج ہمیں کسی بھی طرح بخشا نہیں جائے گا مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو انتقام لینے کے بجائے ان کو معاف کردیتے ہیں اور فرماتے ہیں ترجمہ ’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں، تم لوگ جہاں چاہو جاسکتے ہو، تم آزاد ہو۔‘‘ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کو صفحۂ قرطاس پر بکھیرنا ممکن نہیں۔ ایک مرتبہ چند صحابی حضرت عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا ام المومنین! حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات بیان کیجئے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ جواب میں فرماتی ہیں کہ کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا، قرآن پاک الفاظ و عبارت ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اُس کی عملی تفسیر!
نبی کا اُسوۂ حسنہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہماری زندگی قرآن کی تفسیر ہوجائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کو حقیقی معبود کی عبادت کا سبق دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سماج کے پچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کی پرہیزگاری کے سبب اونچے مقام پر بٹھایا۔ امیر، غریب، غلام، آقا، سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نے برابر کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیغام لایا اُس پیغام نے ظالم بادشاہوں کی حکومت ختم کرکے انصاف پسند حکمرانوں کو عوام اور خواص میں مقبول بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی پیروی سے معاشرے میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی فرشتوں کی دعا اور اذان کے کلمات میں گونجتا رہتا ہے۔ حفیظ جالندھری کہتے ہیں   ؎
وہ جس کا ذکر ہوتا ہے زمینوں آسمانوں میں 
فرشتوں کی دعائوں میں موذن کی اذانوں میں
: رابطہ۔ 9145139913
 

تازہ ترین