تازہ ترین

توہم پرستی کے جال میں پھنساہوا سماج

فکر انگیز

تاریخ    9 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


شیبا کوثر
اکثر اخبار وں اور جریدوں میں کچھ اشتہار آنکھوں سے گزرتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا تا ہے کہ اگر کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے ،گھریلو پریشانی بڑھ رہی ہے، میاں بیوی کے آپسی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ،ساس بہو میں آپسی رنجش بڑھ رہی ہے ،بچے پڑھنے میں دل نہیں لگا رہے ہیں ،گھر سے برکت ختم ہو رہی ہے تو فلا ںبابا ہیں، جو اس کا شرطیہ علاج کرتے ہیں ،انکا یہ دعویٰ رہتا ہے کہ ان سب پریشانیوں کا روحانی علاج کرتے ہیں۔ کہیں کہیں تو یہ بھی دعوی ہوتا ہے کہ کام پورا نہیں ہونے پر پورا کا پورا پیسہ واپس کر دیا جائے گا اور پھر معا ملہ یہ ہوتا ہے کہ جاہل اور کم شعور والے لوگ تو ان بابا ؤں کے چکّر میں اکثر پڑ جاتے ہیں۔ مگر تعجب اور حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب پڑھا لکھا کہلا نے والا گھرانہ بھی ان بابا ؤں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مہا جال ہے، جس کو باضابطہ طریقے سے پورے مینجمنٹ کے ساتھ چلایا جا تا ہے جیسے کہ ایک بڑی کمپنی کو چلائی جاتی ہے۔ اس گورکھ دھندے میں کئی شہر اور گاؤں کے لوگ لگے رہتے ہیں، جن کی ملی بھگت سے یہ پورا کا پورا دھندہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
ہماری ایک قریبی ہیں جن کے گھر سے ہمارے تعلقات بہت پرانے ہیں ۔ادھر کچھ دنوں سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پایا تھا تو میں نے ایک دن ان کی خیریت معلوم کرنے کے لئے کال کیا تو وہ بیچاری کافی پریشان تھیں ،کہنے لگیں کہ ہماری بڑی بیٹی کے لئے دعا کرو، اس کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔ ہر وقت کچھ الٹی سیدھی بات کرتی رہتی ہے۔ ہمارے محلے میں ایک صاحب ہیں، اُن کے مشورے سے میں نے ایک بابا کا علاج شرو ع کیا ہے، ابھی تو کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آرہا ہے۔میں نے جب ان کی پریشانی سنی تو پروگرام بنایا کہ گھر جاکر ان سے ملوں ساتھ ہی اپنی آنکھوں سے بچی کو بھی دیکھ لونگی۔ میں دوسرے دن ان کے گھر پہنچی تو انہوں نے ڈرا ئنگ روم میں بیٹھا دیا اور پھر کہنے لگیں کہ تھوڑی دیر بیٹھو، ابھی کچھ جھاڑ پھونک کا کام چل رہا ہے، جس کے لئے بابا کے شاگرد جو محلے میں ہی رہتے ہیں، آئے ہوئے ہیں۔ میں ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئی،اندر سے بچی کے چیخنے چلّا نے کی آواز آرہی تھی۔ میں سچ مچ بہت پریشان ہو گئی ،میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں ان سے مل سکتی ہوں۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں تمہارا اپنا گھر ہے۔ میں ان کے ساتھ جب روم کے اندر گئی تو عجیب نظارہ دیکھا۔ ایک شخص بچی کا ہاتھ پیر باندھ کر آگ کو مٹی کے برتن میں رکھ کر اس کے چہرے کے بالکل قریب  کئے ہوئے کچھ پڑھ رہا تھا، پڑھنے کی آواز سنائی نہیں پڑ رہی تھی مگر جلنے کے خوف اور آگ کی گرمی کی وجہ سے بچی چیخ رہی تھی۔ میں یہ منظر دیکھ کر حیران ہو گئی خیر تذبذب کی حالت میں کچھ دیر گزرا پھر جب وہ شخص چلا گیا تو میں نے پوچھا کہ آخر ماجرا کیا ہے، اسے کسی ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں لیکر جاتی ہیں آپ ؟ مجھے تو لگتا ہے کہ اسے کوئی ذہنی بیماری ہو گئی ہے، جو شدّت اختیار کر گئی ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ اسے کوئی بیماری نہیں ہے، اسے بھوت نے پکڑ لیا ہے ۔بابا کے شاگرد نے کہا ہے کہ گھبرا نے کی کوئی بات نہیں ،یہ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی۔جب میں نے سوال کیا کہ کب سے اس کی یہ حالت ہے تو انہوں نے بتایا کہ لگ بھگ ایک ماہ سے ۔میں یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ آج بھی اس طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو پریشانی کی حالت میں صحیح فیصلہ نہیں کر پاتے ، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی جان تک چلی جاتی ہے۔میں نے انہیں سمجھا نے کی پر زور کوشش کی تو وہ کسی طرح ڈاکٹر کے پاس لیکر جانے کو تیار ہو گئیں۔میں نے خود شہر کے ایک اچھے نیورولوجسٹ کا پتہ انہیں بتایا اور ان سے کہا کہ اگر آپ کو ضرورت محسوس ہو تو میں بھی آپ کے ساتھ چل سکتی ہوں۔دوسرے دن میں ان لوگوں کو لیکر ڈاکٹر کے پاس گئی، ڈاکٹر نے دیکھتے ہی سوال کیا کب سے اس کی یہ حالت ہے؟ قریب ایک ماہ سے۔ڈاکٹر سنکر حیران تھا ،اُس نے کہا بھگوان کو بہتر کرنا تھا، اس لئے آپ لوگ وقت پر مریض کو لیکر آگئیں ورنہ اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا کیوں کہ اس کے دماغ میں چوٹ لگنے کی وجہ کر بلڈ کلوٹنگ ہو گئی ہے۔خیر آپ لوگ گھبر ا ئیں نہیں ،کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائے گی۔ چند دنوں کے بعد ممجھے معلوم ہوا کہ مرض میں کافی افاقہ ہوا  ہے تومیں نے اللہ پاک کا شکریہ اداد کیا اور پھر سوچنے لگی کہ آج بھی سماج میں ایسے عناصر موجود ہیں جو چند روپے کی خاطر دوسروں کے جان سے بھی کھلواڑ کر نے کو تیار ہو جاتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ایک طرف جہاں دنیا اتنی ترقی کر چکی ہے کہ انسان خلا ؤں میں سفر کرنے کی تیاری کر رہا ہے،نگاہیں گھر بیٹھے بیٹھے دنیا کی سیر کر رہی ہیں ،زمین کی آواز چاند تک پہنچ گئی ہے ۔انسان وائر س سے جنگ لڑ رہا ہے، جسے دیکھنا ہر کے بس کی بات نہیں ،وہاں پر اگر ایک انسان دوسرے انسان کے جھا نسے میں آجا تا ہے تو اپنا بھی کچھ قصور کم نہیں ہے ۔ہمیں سوچنا پڑے گا کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟وجہ ہے ذہنی انتشار ،صبر کی کمی اور غلط رسم و رواج میں جکڑ ا ہوا معاشرہ۔یہ سچ ہے کہ کچھ معاملے میں روحانی علاج کی ضرور ت ہوتی ہے مگر جس طرح ہم علاج کیلئے صحیح  ڈاکٹر کا پتہ لگا کر اس کے ذریعہ علاج کروا تے ہیں اسی طرح روحانی علاج کی بھی اگر ضرورت پڑے تو سب سے پہلے ہمیں دیکھنا چاہئے اور اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ جو شخص اس کا دعویٰ کر رہا ہے، اس کے پاس خود کتنی روحانیت ہے۔ چونکہ اس کے لئے کوئی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، اسکے لئے ایسے شخص کی عملی زندگی کو دیکھ کر ہی ہم اس کی روحانیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں اگر کوئی ایسا شخص ہے جواللہ سے ڈرنے والا ہو ،متقی اور پرہیز گار ہو ،دنیا وی لالچ سے ماورا ہو اور پھر خدمت ِخلق کا جذبہ رکھتا ہو تو پھر ہم اس پر یقین کرسکتے ہیںمگر جس کی زندگی ان سب باتوں سےبالکل خالی ہو ،ہم کیسے یقین کرسکتے ہیں کہ وہ روحانی طاقت کا مالک ہو۔ورنہ ایسے افراد سے زیادہ تر دھوکہ کھانے کا خدشہ بنا رہتا ہے کیونکہ ایسے لوگ دوسروں کے گھروں کو بُرباد کرنے میں ذرا بھی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں ۔اس لئے ہمیں ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
تاریخ کی ورق گردانی سے بھی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ جب جب معاشرہ اس طرح کی بُرائیوں میں پھنسا ہے ،زوال اُس کا مقدر بنا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے عقاید درست کریں اور دل میں اس بات کا پختہ یقین رکھیں کہ جو بھی فیصلہ ہوتا ہے ،وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ہر بات کا فیصلہ انسان کی عمل کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے علم کا دائرہ وسیع کرنے کہ کوشش کرنی چاہئے کیونکہ علم کی بنیاد پر ہمارے اندر صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔
ہمارے ملک میں جو تعلیمی نظام ہے اس میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب سماج اور سا ئنس کیسے ہم آہنگ ہو۔کیوں کہ ہمارا ملک ایک مذہبی روایا ت والا ملک ہے ۔یہاں کی عوام و خاص کو مذہب سے لگاؤ ہے، وہ ہندو ہو یا مسلمان سیکھ ہو یا عیسائی یا کسی دیگر مذاہب کو ماننے والے ہوں۔مذہب یہاں کے لوگوں کی زندگی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور یہ روحانیت کے ارتقا ءکے لئے ضروری بھی ہے۔جس سماج میں لوگ مذہب سے دور ہوجاتے ہیں وہاں سماج میں ترقی کے نام پر بہت سی  خرابیا ں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور ویسا معاشرہ بھی ایک نہ ایک دن تباہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ مغربی معاشرے کے اندر بھی لوگوں کا رجحان مذہب کی طرف کافی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔اس لئے مذہب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ ایک صاف ستھرا پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل ہو ،جہاں لوگوں کے اندر صبر استقامت ،صحیح اور غلط کی پرکھ وسعت نظر ی اور ذہنی بالید گی جیسے اوصا ف پروا ن چڑھیں اور لوگ غلط رسم و رواج ،جلن ،حسد۔بغض و عداوت اور کینہ پر ور ی سے دور ہوکر پازیٹو سوچ کے ساتھ زندگی کے میدان عمل میں اپنا کردار نبھا ئیں ۔اگر کسی مقصد میں فیل ہو رہے ہیں تو صحیح  طریقے سے تجزیہ کریں کہ آخر اس کے پیچھے کون سی کوتاہی اور کمی رہ گئی ہے۔ہمارے معاشرے کا تو یہ عالَم ہے کہ اگر بچہ پڑھنے میں دل نہیں لگاتا ہے تو بھی ہمارا شک دوسروں کی طرف چلا جاتا ہے ہم اس بات کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ ہمارے گھر کا ماحول کیسا ہے ؟کیا ہم بچوں کو ایسا ماحول دے پا رہے ہیں جہاں پر اسکا ذہن پڑھنے کی طرف مائل ہو ،اگر گھر میں آپسی رنجش ہوگی ،میاں بیوی کے بیچ جھگڑ ے ہونگے، ماحول پر سکون نہیں ہوگا تو بھی اس کے اثرات بچوں پر منفی پڑ تے ہیں اور اس کی شخصیت مجرو ح ہوتی ہے اور پھر وہی بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو اس کی نا کامیابی کا ٹھیکرا ہم دوسروں کے سر پھوڑ نے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی کوتا ہیو ں اور غلطیوں کا احساس نہیں ہوتا ہے ۔اس لئے ہر با شعور لوگوں کو اپنے اطراف کے ماحول کو صحیح نہج پر آگے بڑھانے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے ،لوگوں کو صحیح اور غلط کی طرف رہنما ئی کرنی چاہئے اور اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ سماج میں پھیلے غلط رسم و رواج کا خاتمہ ہو مگر اس کے لئے پہلے خود کو اس قابل بنانا پڑے گا کہ لوگ آپ پر اعتماد اور بھروسہ کریں جس کے لئے عملی کردار نبھانا ہوگا۔!!
پتہ۔ آرہ ،بہار
 

تازہ ترین