تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    5 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


تمہاری نظر سے گرایا گیا ہوں
تمہاری نگہ سے چُرایا گیا ہوں
 
چراغوں کے من میں اُتارا گیا ہوں
ہوائوں کی شہ پر جلایا گیا ہوں
 
میں تیرے لبوں کے مقدر کا نغمہ
کسی کے لبوں سےسُنایا گیا ہوں
 
میں اک آئینہ ہوں شکایت ہے مجھ کو
فقط اندھوں کو کیوں دِکھایا گیا ہوں
 
سکندر سے جیتے بہت جنگ عادلؔ
میں ہارے ہوئوں سے ہرایا گیا ہوں
 
اشرف عادلؔ
کشمیر یونیورسٹی، سرینگر
موبائل نمبر؛7780806455
 
 
چاند کے گرد جو یہ ہالہ ہے 
میری الفت کا اک حوالہ ہے 
مجھ کو رکھتا ہے ہر گھڑی بے کل 
زیرِ پائے طلب جو چھالا ہے
مجھ کو بھی نیند اب نہیں آتی 
 مجھ کو بھی عشق ہونے والا ہے
اب کے کوئی خوشی نہیں دیکھی 
غم نے ڈیرا جو گھر میں ڈالا ہے 
جن کو خوفِ خدا ذرا بھی نہیں 
ایسے لوگوں سے اپنا پالا ہے
جو زمانے کو درس دیتے تھے 
ان کے ہونٹوں پہ آج تالا ہے 
چاند تنہا سفر نہیں کرتا 
ساتھ ، تاروں کی ایک مالا ہے
وہ کہیں بے وفا نہ ہو جائے 
دال میں ایسے کالا کالا ہے 
شہرِ پٹنہ تو اپنا ہے انجم ؔ
شہرِ دہلی بھی دیکھا بالا ہے
 
فریدہ انجمؔ
 پٹنہ سٹی ، بہار
 
 
اُجڑے ہوئے چمن کو باغ و بہار کر دے
سینہ فگار کر دے لیلیٰ عذار کر دے
عقلِ سلیم میری جائے قرار کر دے
تاریکِ دل کو میرے شمس النہار کر دے
دل پھاڑ کر جسے ہے خستہ رواں دکھایا
اس کا بھروسہ کیا ہے سینے پہ وار کر دے
کروٹ بَدل بَدل کر حالت بَدل گئی ہے
دل چاک سینہ زن ہے ان کا غبار کر دے
دل ڈھونڈتا ہے میرا جائے پناہ خدایا
من کا سکون و راحت قرب و جوار کر دے
تعبیرِ خواب میرا کوئی مجھے بتا دے
دل کے شدید غم جب خود پہ ہی وار کر دے
سانپوں کے دیش میں جینا ہے کیا کریں گے
یاورؔ چلو یہ صحرا ہی کوئے یار کر دے
 
☜ یاورؔ حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ کپوارہ
☜ متعلم؛ شعبۂ اردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر
☜ موبائل نمبر؛6005929160
 
 
بارہا شہرِ تمنا سے کنارا کرکے 
چین آیا نہ کہیں اور گزارا کرکے 
 
سر ہتھیلی پہ ترے پاس چلا آئوں گا
آ کسی روز ذرا دیکھ اشارہ کرکے
 
داغِ فرقت کے سوا کچھ نہ ملا ہے مجھ کو
شوق میں تیغِ ستم دل پہ گوارا کرکے
 
سنگِ ساحل نہ مقدر میں مرے لکھا ہے
کہہ دیا اس نے سمندر میں اُتارا کرکے 
 
آنکھ کو اور تجلی نہ کوئی بھاتی ہے
ان کی دہلیز کا اک بار نظارہ کرکے
 
راحتیں بخت میں عارفؔ نہ کبھی آئی ہیں 
زندگی کاٹ دی صدموں کو سہارا کرکے 
 
جاوید عارفؔ
 شوپیان کشمیر
موبائل نمبر؛ 7006800298
 
 
کبھی تلاش لکھو اور کبھی جنون لکھو 
اگر لکھو تو اکثر جگرکاخون لکھو 
خشک پلکوں کو بھی اشکوں میں ڈبوتے جاؤ
نتیجہ یہ ہے کہ قرطاس پر سکون لکھو
اک فسانہ جو لکھو عنوان جس کا "بد قسمت"
ایسے کردار کا تم نام بس مجنون لکھو 
ان کو کہنے دو جو کہتے ہیں بنی خود دنیا 
تم مگر اس کی وجہ "کن فیاکون " لکھو
ہے وجہ کونسی کی ان کی قسم کھاتا ہے
ایک چنگاری لکھو طور لکھو زیتون لکھو 
ایسا ممکن ہے کیا برسائے خدا گرم برف
جنوری کو اگر اب سے ہی ماہِ جون لکھو
ایک صف پر لکھو گے تم زنا کی آزادی 
اب کرونا لکھو اور پھر طاعون لکھو
جن کو تنقید کے کنوئے سے فتویٰ کی عادت 
بس ادب کے یہی تو ہیں افلاطون لکھو
 جس کو الفاظ کی تسبیح کو پِرونا آئے 
اے فلک اس کو ہی بس صاحبِ فنون لکھو
 
فلکؔ ریاض 
حسینی کالونی چھتر گام،کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109

تازہ ترین