تازہ ترین

خوشی

افسانہ

تاریخ    5 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


رئیس احمد کمار
اپنا نام کامیاب امیدواروں کی فہرست میں دیکھ کر وسیم نہایت ہی خوش تھا ۔ اب اسکو سرکاری نوکری بھی ملی ، اچھے عہدے پر بھی فائض ہو رہا ہے اور جس دفتر میں اسکو کام کرنا ہے وہاں ملازمین کو ہر قسم کی سہولیات ہمیشہ میسر رہتی ہیں ۔ قسمت والوں کو ہی ایسے عہدے اور دفاتر نصیب ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
وسیم اپنی تنگدستی اور مفلسی کی پرانی داستان اب یکدم بھول رہا ہے کیونکہ اسکے جسم میں اب نئی جان آگئی ۔۔۔۔
اپنے دوستوں اور دیگر لڑکوں ،جو پڑھائی کے دوران اسکے ہم جماعتی تھے، کو وسیم نے شہر کے سب سے بڑے ہوٹل میں دعوت پر مدعو کیا ہے ۔ وسیم کے سب دوست اور دیگر لڑکے دعوت میں شرکت کرتے ہوئے خوشیاں منارہے ہیں ۔ سب دوست اسکو نئی گاڑی ، شہر میں ہی ایک خوبصورت مکان خریدنے اور کسی بڑے آدمی کی بیٹی سے شادی رچانے کی صلاح دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔
پاس ہی دو اور آدمی ہوٹل کے اسی کمرے میں کھانا کھاتے ہوئے کچھ باتیں کررہے تھے ۔ وسیم انکی گفتگو بغور سن رہا تھا ۔۔۔۔۔
’’ پتہ نہیں سجاد کو کس کی نظر لگ گئی ہے ۔ سرکاری نوکری ملنے کے صرف چار سال بعد ہی اسکو اتنی بڑی مصیبت جھیلنی پڑی ۔ بتایا جاتا ہے کہ آ ج وہ کوما میں چلا گیا ہے ۔ روزانہ دوائی ٹیسٹ وغیرہ کا خرچہ چالیس پنتالیس ہزار کا آتا ہے۔ گردے خراب ہیں، دل میں پیس میکر لگایا ہوا اور اب بون میرو ٹرانسپلانٹ کرنے کے لئے بھی بیرون ملک جانا ہے ۔ چار سال سے کمائی ہوئی رقم اور زمین جائداد خرید کر بھی بیماری سے مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے ۔ پتہ نہیں کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے سجاد کو۔"
جب وسیم اپنے دوستوں کے سامنے یہ سنی ہوئی گفتگو بیان کرتا ہے تو انکی آنکھیں آنسوؤں سے نم ہوگئیں ۔ وہ سب آدھا ہی کھانا کھا کر ہوٹل کی گیلیری میں چلے گئے اور کہنے لگے ۔۔۔
ہمیشہ انسان کو خوشی کے موقعے پر بھی اللہ کو یاد رکھنا اور غم ، مصیبت اور پریشانیوں سے نجات کےلئے ہمیشہ اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ غم ، مصیبت اور پریشانیاں انسان کو کسی بھی وقت گھیر لیتی ہیں ۔۔۔
قاضی گنڈ