تازہ ترین

’’خواب ریزہ ریزہ‘‘

افسانہ

تاریخ    29 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


عاشق آکاشؔ
وہ دور سے ایک بڑے پتھر کی بانہوں میں اپنی بانہیں ڈالے غور سے مشاہدہ کر رہی تھی۔ اُس کے بائیں ہاتھ میں دوپٹے کا کنارہ  تھا، جسے وہ ہلکے ہلکے اپنے موتی نما معصوم دانتوں سے  ایسے چبا رہی تھی جیسے کہ لالی پاپ کا مزہ چکھ رہی ہو!!! ! میں نے اپنے قدموں کو اُس کی اور موڑا ہی تھاکہ وہ ایک غزال کی رفتار سے ایک گھنے سر سبز دیودار کی طرف بھاگی ،جس پرکچھ مدہوش کرنے والی آوازیںاُسے اپنی اور بُلا رہی تھیں۔وہ چھُپنے کی کوشش کرتی رہی لیکن چھُپ نہ سکی۔ اس کا دل بھی  اُسے مجھ سے دور رہنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اُس کے دل میں لاکھوں ان کہی کہانیاں چھُپی تھیں۔ وہ کہانیاں جن کو اُس نے پچھلے سات سال سے اپنے من میں پال کے رکھا تھا۔  اُس کی آنکھیں سپنوںکا ایک سمندر تھیں۔ ہرنی جیسی آنکھوں کوقدرت نے فطری سُرمے سے مالا مال کیا تھا۔ اُس کے ہونٹوں پہ گلابوں کی لالی رچی تھی۔ یخ بستہ ہوائوں نے اُس کے چہرے کو اور رنگت بخشی تھی۔ پھٹے کپڑوں میں وہ جنت سے بچھڑی کسی حور سے کم نہیں دکھ رہی تھی۔
میں نے اُسے نظر انداز کرنا چاہا  تاکہ وہ اپنے آپ کو آزاد محسوس کرنے لگے اور نہر کے کنارے تیز رفتار آبشاروں کا لطف اُٹھاتا گیا۔ لیکن اُسے ملنے کی خلش میری روح میں ایک تناو سا پیدا کرنے لگی کہ میں ترچھِی نظروں سے اُس کی حرکتوں کو دیکھتا رہا۔ وہ بھی  مجھ سے ملنے کی تاک میں تھی۔ لیکن اجنبی ہونے کے باعث شرما رہی تھی۔ وہ چوری چوری میری حرکتوں کو دیکھتی تھی اور ایک معصوم سے انداز میں مجھ سے کچھ کہنے کی چاہ جتا رہی تھی۔ اُسے آج نظروں سے اوجھل ہوتی ہوئی بھینسوں کی بھی فکر نہ تھی۔ جن کو اُس نے کئی بار کھویا بھی تھا اور اِس لاپرواہی کے عوض ڈانٹ بھی پڑی تھی۔ ایک دو بار تو اُس کے باپ نے اُس کے گُلاب نما چہرے پر ایک دو تھپڑ بھی رسیدکئے تھے۔اُس کے دوپٹے کا کنارہ اب تک اُس کے دانتوں تلے ہی تھا۔
گھنے جنگلوں کے سائے میں پپیہے جلملا رہے تھے۔آبشاروں کی گونج اور مستی میں ہر کوئی مست تھا۔ فطرتی سنگیت کی ان دھنوں میں کسی غم و غصے کا اظہار ہو، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بھِیڑ بھری تیز رفتار دنیا سے بالکل ہٹ کے، پریشانیوں سے ایسا پاک جیسے کہ انسان ابھی ابھی جنا ہو۔ گویا کہ کچھ ہی منٹوں کے سفر نے اسے دوسرا جنم بخشا ہے اور وہ جنت کی حسین وادیوں میں بے خوف و خطر گھوم رہا ہے۔  یہاں وہ خالقِ کائنات سے روبرو گفتگو کر رہا ہے۔  ایسے مست ماحول میں ایک ننھی سی جان کے حال دل کو سننے کی شائد ہی کسی کو فرصت ملے۔ ایک وہ ہی تھی جو اس دھوم دھام اور ہلچل بھرے ماحول میں بھی خاموش تھی ۔ اُس پہ اِن جنت نما نظاروں کا ذرا بھی اثر نہ تھا ۔ وہ اِس سب سے اُکتا گئی تھی۔۔۔
مجھے اب اِس سارے نظارے میں ایک اُسی کی معصومیت دِکھتی رہی۔ وہ میرے دل و دماغ کی توجہ کا مرکز بن گئی۔  مجھے اب اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوئی دلچسپی ہی نہیں ۔ جن کے ساتھ میں یہاں ایک طویل وقت کے بعد فرصت نکال کر آیا تھا۔ وہ مجھے اب اجنبی سے دکھنے لگے۔ میرا دل صرف اُس ننھی سی جان کی آنکھوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر اُس میں چھُپے برسوں کے راز جاننے کی تمنا میں  بے قرارتھا۔میں اُس کی طرف اِس قدر راغب ہوگیا گویا کہ اُس کا اور میرا جنموں کا رشتہ ہو۔
میں نے  ننگے پائوں اُس کی اور چلنا شروع کیا کیونکہ میں نے اپنے جوتے اپنے ساتھیوں کے پاس نکال رکھے تھے۔ راستے میں نیم بوسیدہ لکڑی میں بچھے کنکر اور کانٹے بھی  اُس سے میری توجہ  نہ ہٹا سکے۔  اُس میں بھی اب ہٹنے کی ہمت نہیں تھی ۔ وہ چنار نما دیودار کے کنارے ہی اپنا گُلابی چہرہ چھُپائے بیٹھی۔ میں نے ابھی اُس کے ساتھ بات شروع ہی کی تھی کہ اچانک اس کی آنکھوں کا سمندر اسکی پلکوں کے کناروں کو ڈبوتا ہوا بہنے لگا۔۔۔ اس کے آنسوئوں کا بہاوان حسین نظاروں کو بھی بہا لے گیا۔ میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ میرے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے۔ میرے ہاتھ پیر منجمد ہو گئے۔ہوتے بھی کیوں نہیں؟؟؟ ایک جنت نما وادی میں کوئی افسردہ ہو، یہ انسانی سوچ سے کوسوں دور ہے۔ میں  ایک بے جان شئے کی مانند اُس کی داستان سنتا گیا۔
رُخسانہ تب صرف تین سال کی تھی جب اُس کی ماں کا انتقال ہوچکا تھا۔اُس کی ماں ’ کلثم بی بی‘لکڑی کاٹتے وقت تیندوے کا شکار بنی تھی۔ بے چاری چست و چالاک تھی اور خوبصورت بھی۔ کلثم کا لہو لہاں چہرہ رخسانہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اُس کی وہ چیخیں آج بھی رخسانہ کے جگر کو کُرید رہی ہیں۔اُس نے ایک ایسے سائے کو کھویا تھا جس کی چھائوں آسمان کو چھونے والے درختوں سے کئی زیادہ لطف آور تھی۔ وہ ایسی آغوش سے بچھڑی تھی جو ایک ابدی سکون کا باعث تھی۔ ویسا سکون رخسانہ نے ان حسین وادیوں میں کبھی  پایا  ہی نہیں۔ اِسی سال رخسانہ کی دادی کا بھی انتقال ہوا تھا ۔ بے چاری کلثم کی موت سے دیوانی ہوئی تھی، سہہ نہ پائی اور جاڑے کے موسم میں حرکتِ قلب بند ہونے سے داعی اجل کو لبیک کہا گئی ۔
  رخسانہ کے ابو اصغر علی نے اب شہر جانا چھوڑ دیا تھا۔ وہ گھر کا سارا کام کاج کلسم کے حوالے کرکے شہر مزدوری کی خاطر جاتا تھا۔ بھیڑ بکریا ں چرانا ، بھینسوں کو چارہ ڈالنا، جنگل سے چولہے کے لئے لکڑی لانا اور رُخسانہ کا خیال رکھنا، یہ سب کلسم کے ذمے تھا۔پہاڑوں کی اِن چوٹیوں پہ انسان کر بھی کیا سکتا ہے۔ زندہ رہنے کے لئے تو میدانی علاقوں کا رُخ کرنا لازمی بن جاتا ہے۔ بے چارہ اصغر علی بھی یہی عمل کرتا رہا،  چہ جائے کہ وہ آزاد فطرت کا مالک تھا۔
اب گھر کاسب کام اصغرعلی کو خود سنبھالنا پڑتاتھا۔ رفتہ رفتہ گھر کی حالت ابتر ہوتی گئی۔اصغر علی اپنے آرام کی طلب میں در در کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔رُخسانہ درختوں کی پرچھائیوں میں کلسم کو تلاش کرتی رہی۔ کچھ عرصہ اسی کشمکش میں یوں ہی بیت گیا۔۔۔
ایک دو سال کے بعد اصغر علی کو ایک نئی جورو مل گئی اور رخسانہ کو چرانے کے لئے بھینسیں۔
اب کلسم کی جگہ فریدہ لے چکی تھی۔ رخسانہ کے لئے نا سہی!!!مگر اصغر کو گھر کی جھنجھٹ سے آزادی ضرور ملی تھی۔ فریدہ، کلسم کی طرح چاک و چوبند ہر گز نہ تھی۔ پیڑ پر چڑنا تو دور ، کٹی لکڑیاں اُٹھانا بھی اُس کے لئے بار گراں ثابت ہوتی تھیں۔شوہر کی موت نے اُس کی ہڈیوں کی قوت کو بھی اُڑایا تھا۔اِن پہ گوشت کا نام و نشاں ہی نہیں۔ چہرے پہ جھریوں کا ریگستاں ۔ ۔۔ناک اور آنکھیں جیسے بناوٹی ۔۔۔ اتنی نازک ، کہ ہوا کا ایک تیز جھونکابھی اپنے ساتھ اُڑا لے جاتا۔۔۔بے چاری کو چولہے سے فرصت ملتی تو وہ رخسانہ کے بالوں میں کنگھی کرتی۔ اُس کے ہاتھ میں چھڑی کے بجائے قلم تھماتی۔ اُس کے سکول کے بستے کو سی لیتی۔اُس کے پھٹے کپڑوں میں پیوند لگاتی۔لیکن گھر گرہستی کے بوجھ تلے وہ یہ سب نظر انداز کرتی رہی۔ اِس کے علاوہ چارہ تھا بھی کیا؟؟؟لیکن اندر ہی اندر معصوم رخسانہ کی بدنصیبی اُس کو تڑپاتی رہی۔
اُدھر اصغر علی کو بھی مزدوری سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ رخسانہ کی پڑھائی تو دور اُس کی اور توجہ دینا بھی مُحال ہوگیا تھا۔ شام کو تھکا ماندہ وہ  اپنے پتھروں اورلکڑی سے بنے کوٹھے، جس میں مکڑیوں نے رُخسانہ کے ارمانوں کے نقش کھینچ رکھے تھے، میں دراز ہوکر دن کی تھکان کو دور کرنے کے لئے فریدہ کو مفلسی کے تمام راگ سنایا کرتا۔  اور وہ بے چاری بھی۔۔۔اپنی نازک بدنی کے باعث سب کچھ چُپ چاپ سہہ لیتی۔رُخسانہ میاں بیوی کا یہ تنائو خاموشی سے عکس کر لیتی۔ اُس کا دم گھٹ جاتا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسوں ٹپکتے۔ وہ کونے میں سہم جاتی۔ یہ اب اس کا معمول بن چکا تھا اس لئے زیادہ دیر تک اسکا اثر بھی نہیں رہتا ۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اُس کی طرزِ زندگی میں ان حالات کا اثر عیاں تھا۔
اصغر علی میں اب کام کرنے کی ہمت  نہ تھی۔ مصیبتوں نے اُس کی کمر ہی توڑی تھی۔ لیکن فریدہ اور رخسانہ کے حالات کو دیکھ کر مجبور ہو جاتا۔ اُس کے دل میں بھی ارمان تھے۔ وہ بھی سپنوں کی دنیا میں سیر کرتا تھا۔ وہ بھی رُخسانہ کو پڑھانا چاہتا تھا لیکن گھر کے حالات ہی ابتر تھے۔ اب اس نے عہد کرلیا تھا کہ وہ اضافی مزدوری کر کے رُخسانہ کا داخلہ کسی اچھے سے اسکول میں کرائے گا۔ اب وہ صبح سویرے کام پہ نکلتا تھا ۔۔۔ طلوعِ آفتاب سے پہلے۔۔۔ ایک دن گیا اور واپس ہی نہ آیا!!! دو تین مہینے بعد دریا کے کنارے اصغر علی کی سڑی ہوئی لاش تو ضرور ملی لیکن موت کی وجہ اب تک راز ہی ہے۔۔۔ 
رخسانہ  اپنی جیسی سینکڑوں پریوں کو اس فرضی جنت سے نکالنا چاہتی تھی۔ یہ جنت اُن کے لئے کسی قید خانے سے کم نہیں ۔ اُن کی ماوئوں نے تو باہر کی دنیا دیکھی ہی نہیں تھی۔ دیکھنا تو دور وہ شائد ہی اس بات سے واقف تھے کہ پہاڑوں کی اس چار دیواری کے باہر بھی ایک دنیا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاںزندگی کی سبھی سہولیات میسر ہیں۔جہاں بچوں کا بچپن رائیگاں نہیں ہوتا، جہاں عورتوں کے ارمان لکڑیوں کے بوجھ تلے نہیں دب جاتے۔ایک ایسی دنیا جہاںدرندوں کا ڈر نہیں ۔اُن کو ایسی جنت سے نفرت ہے جہاں حوروں کا حُسن تیندئوں کے پنجوں  کا شکار ہو، جہاں کم سنوں کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے بھینسوں کی چھڑی ہو۔ جہاں کنواریوں کا شباب آبشاروں اور دیوداروں کے سائے کی نظر ہوتا ہو۔ اُس کے من میں خواب تھے۔ ایسے خواب جن کا اظہار وہ کسی سے کر نہیں پاتی اور جن کا شرمندئہ تعبیر ہونا اُس کو ناممکن لگ رہا تھا۔ وہ سیاحوں کی بھِیڑ میں اپنے آپ کو تلاش کرتی تھی۔ اُن کی خوشیوں میں اپنی خوشیاں ڈھونڈتی تھی ۔ اُن کو اپنا حالِ دل سنانا چاہتی ۔ انہیں بتانا چاہتی کہ وہ بھی ایک انسان ہے۔ وہ بھی آدم کی اولاد میں سے ہے ۔ اُس کے جسم میں بھی ایک دل ہے ، جو خوابوں کی دنیا سے بھرا پڑا ہے۔۔کسی نمائش گھر کی زینت نہیں!!! جس سے لطف اندوز ہوکر تم چلے جاتے ہو۔ لیکن ہر وقت ناکام رہتی ۔۔۔
آج اُس نے اپنے دل کے سارے در کھول دئے۔وہ ،وہ بھی بتا بیٹھی جس کو شاید بولنے کا وہ ارادہ بھی نہ رکھتی تھی۔ شعور اور تحت جھپکی الشعور کا فاصلہ مٹ گیا۔ اُس نے اپنی زندگی کے دس سال  ایک کھلی کتاب کی مانند میرے سامنے رکھ دئے۔ میں نے  بھی پوری داستان سنتے پلک تک نہ جھپکی۔میرے لبوں پہ مہر لگ گئی!!! جیسے کہ میں کلامِ الٰہی کی تفسیر کا وعظ سن رہا تھا۔ مجھے اب آس پاس کے نظارے ناقص دکھنے لگے۔ میری آنکھیں نم ہو گئیں۔وہ مجھے سنبھالنے لگی جیسے کہ کوئی عمر رسیدہ آدمی ایک معصوم بچے کا دل بہلا رہا ہو۔  میں بھی مصیبتوں کی اِس خیالی بستی سے باہر آگیا۔ میں نے ایک لمبی سانس لے لی۔ میں چِلانا چاہتا تھا۔ میں اِن حسیں وادیوں میں چھُپے غم و اندوہے کی داستان سب کو سنانا چاہتا تھا۔ میں جنت کے ان بغیچوں میں پھِرتی حوروں کی تڑپ کو دکھانا چاہتا تھا۔ جن کا حُسن غلماں کے لوٹنے  کے انتظار میںجَڑ چکا تھا۔ میںاِن سنہری وادیوںکے اندر بیٹھے فرشتوںکی پکار کو سنانا چاہتا تھا جو ہر صبح و شام اپنے ریزہ ریزہ خوابوں کو سمیٹنے کی کوشش میں لگے رہتے ۔میں اِن جنگلوں کو مٹانا چاہتا تھا ، جن کے گھنے سایوں میں کئی دوشیزائوں کے سہاگ لٹ گئے تھے ۔ میں کوٹھوں میں لگی مٹی کے راز بتانا چاہتا تھا۔لیکن اِس بھیڑ بھری محفل  میںمیری طرف کسی کی نظر بھی نہ پڑی۔ میرے اپنے ساتھی بھی اُچھل کود میں مست تھے ۔ وہ سب آبشاروں کے سنگیت میں اپنا من بہلاتے رہے۔ اور اس سنگیت  کی دُھنوں میں میرے من کی پکار مدغم ہوتی گئی۔ میں اب سمجھ گیا تھا کہ لوگوں کے اس روئیے سے رخسانہ پر کیا بیتتی ہو گی۔ اس نے کئی سال سے برداشت جو کیا تھا ۔ وہ سچ میں ایک بہادر لڑکی تھی۔ ہاں بہادر۔۔۔ اور نڈر بھی۔
رخسانہ کو اپنی بھینسوں کی ذرا بھی فکر نہیں ، جیسے کہ اُس نے کبھی وہ دیکھی بھی نا ہوں۔  اُسے اب ان کے کھونے کا ڈر بھی نہیں۔ وہ اپنے کوٹھے میں بنے مکڑی کے جالے کو بھی بُھول چکی ہے۔ وہ اُن آبشاروں اور سبزہ زاروں پر بھی فریفتہ نہیں ، جن پر انگنت لوگ اپنا مال و ذرلُٹاتے ہیں۔ وہ ایک ابدی سکون کی تلاش میں ہے۔ اُسے میری آنکھوں میں حسین وادیوں کے منظر دکھنے لگے۔مکڑی کے جالے میں بُنے سپنوں کی تعبیر دکھنے لگی۔ اُس کے من کا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ اُس کی آنکھیں میری آنکھوں میں گُم تھیں۔میری آنکھیں جل رہی تھیں۔  آنسوئوں سے نہیں !! بلکہ اُن سب مناظر کی عکاسی سے جن کا ذکر رُخسانہ نے مجھ سے کیا تھا۔اُس نے کس کے میرا ہاتھ پکڑا اور بولی:
’’ چاچا!!!آپ کیا کرتے ہو ؟؟؟آپ ڈاکٹر ہو کیا؟؟؟‘‘
وقت ضائع کئے بغیر میں نے جواب دیا؛
’’نہیں بیٹا میں ایک اُستاد ہوں ‘‘
معصوم لہجے میں؛
’’ اچھا !!!اچھا آپ ماشٹر ہو ۔۔۔ماشٹر۔ جو بچوں کو پڑھاتے ہیں!!!‘‘
مسکراتے ہوئے مزاحیہ انداز  میںمیرے منہ سے یہ الفاظ نکلے؛
’’ ہاں !!میں ماشٹر ہوں ۔۔ماشٹر!!! میں بچوں کو سبق پڑھاتا ہوں ۔ اور ڈانٹتا بھی!!!‘ ‘
 وہ بھی مسکرائی۔شای داُسے میری ڈانٹ والی بات ہضم نہیں ہوئی۔۔۔
وہ اُچھلتی ہوئی، جیسے کہ ماضی کے تمام رنج و آلام کو بھُول چُکی ہوکہنے لگی۔
’’ پھر ،مجھے بھی پڑھائو گے کیا؟؟؟ میں بھی پڑھنا چاہتی ہوں ۔ پڑھ لکھ کے اپنی بستی کو اِس دلدل سے نکالنا چاہتی ہوں ۔ میرا یہاں دم گُھٹتا ہے۔مجھے اِس جنت سے ڈر لگتا ہے۔ میں یہاں سے نکلنا چاہتی ہوں !!!ہاں  ان پہاڑوں سے بہت دورجانا چاہتی ہوں۔ اِن ہوائوں میں مجھے اپنی ماں کے لہو کی بُو آتی ہے۔ اِس دیودار کے سائے تلے مجھے اپنے ابو کا سایہ نظر آتا ہے۔ اِن آبشاروں کے سنگیت میں مجھے درندوں کی دھاڑیں سنائی دیتی ہیں۔ مجھے یہاں نہیں رہنا ۔۔۔مجھے یہاں سے لے جائو۔۔۔ چاچا۔۔۔ مجھے یہاں سے لے جائو۔۔۔ ہاں میں یہاں نہیں رہنا چاہتی‘‘
وہ چِلاتی رہی ،چیختی رہی  اور مجھ سے وہاں سے نکالنے کی مَنتیں کرتی رہی۔وہ پھر سے افسردہ ہوگئی۔۔۔ میں خاموش ، لاچار اُس کی چیخ و پکاو سنتا رہا۔ میرے بس میں اُسے دلاسہ دینے کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ میرے پیروں تلے ایک زندہ لاش کی طرح تھی۔لیکن میرے ہاتھ کو اب بھی پکڑے ہوئی تھی۔ مجھے اپنے وجود پر، اپنے زندہ ہونے پر شک ہونے لگا۔ کیونکہ شائد ہی کوئی انسان ایسے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد زندہ رہ پاتا۔ میں اپنے آپ کو دیکھنے لگا۔ میں خیالوں کے ایک طوفان میں آوارہ پھِرتا رہا۔ اُس کی افسردہ نگاہیں مجھ سے التجا کرتی رہی۔میری نم آنکھیں بھی اپنی لاچاری کا ثبوت دیتی رہیں اور ہم ایک دوسرے کو بنا کچھ کہے تکتے رہے۔ ہاں مگر ہمارے روحیں گفتگو میں مشغول ضرور تھیں۔۔۔
 شام نے اپنی پرچھائی میں پیڑوں کے سایوں کو مدغم کرلیا۔ پرندے شور مچاتے ہوئے اپنے آشیانوں کی اور آنے لگے۔  مجھے بھی اپنے ساتھیوں نے گھر لوٹنے کی خاطر بُلا لیا۔ اُس نے میرا ہاتھ ایسے چھوڑا جیسے جسم سے روح نکلی ہو۔ میں رنجیدہ ہوکے اُس کے سارے سوالوں کا جواب  دئے بغیر ہی وہاں سے نکل پڑا۔ شائد اُس کے سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ وہ بھی دور تک مجھے دیکھتی رہی، حتیٰ کہ میں اُس کی آنکھوں سے اُوجھل ہوگیا۔ سورج کی سُرخ کرنوں میں وہاں کے حالات کی عکاسی ہو رہی تھی  جن میں رخسانہ کے خواب ریزہ ریزہ دِکھ رہے تھے۔۔۔۔
���
برنٹی اننت ناگ کشمیر
موبائل نمبر؛9906705778