تازہ ترین

انسان کو ہمیشہ اللہ پر توکل رکھنا چاہئے

جو خدا پر یقین رکھےخدا اُس کے لئے کافی ہے

تاریخ    27 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


عالمہ فاطمه كبروي
توکل کے معنیٰ ہےاعتماد اور بھروسہ کرنا۔یہ درحقیقت دل کی حالتوں میں سے ایک حالت ہے اور خالق کی وحدانیت و مہربانی پر ایمان لانے کا ثمر ہے ،یعنی اللہ کی وحدانیت اس کی قدرت اور فضل و حکمت پر کامل یقین ہونا چاہیے۔
توکل کی تعریف یوں ہے کہ اسباب و تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے فقط اللہ تبارک و تعالی پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے اور تمام کام کو اس کے سپرد کر دیا جائے۔
قرآن کریم کی متعدد آیات میں اللہ تعالی نے یہ عمل فرمایا کہ توکل کرنے والوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے، ایک جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے(ترجمہ)اللہ تعالی توکل کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔اسطرح ارشاد ہے:(ترجمہ) جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ حدیث پاک میں یہ بھی وارد ہے کہ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایسا توکل رکھو جیسا کہ توکل رکھنے کا حق ہے تو حق تعالیٰ تمہیں اس طرح روزی پہنچائے گا ،جس طرح پرندوں کو پہنچاتا ہے، جو صبح بھوکے پیٹ جاتے ہیں اور شام کو سیراب ہوکر لوٹتے ہیں ۔جب ہم اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے انسان کو گمان بھی نہیں ہوتا ۔ آدمی جائز اسباب تدابیر اختیار کریں ۔ لیکن یقین و بھروسہ صرف اللہ پر رکھے ،شریعت پر عمل پیرا رہے، مامورات کو بجالائے اور منہیات سے بچتا رہے ،اللہ کے عتاب و ناراضگی سے ڈرتا رہے ، گناہوں و بداعمالیوں سے بچتا رہے اور اللہ کی رحمت واسعہ سے معافی کی امید رکھے۔
جس انسان کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام پر کامل یقین پختگی کے ساتھ ہو جائے تو پھر اگر پوری دنیا بھی اس کو کہہ دے کہ دین اسلام صحیح نہیں ہے تو بھی وہ اسلام کو ہی سچ مانے گا کیوں کہ جس کو اللہ کو صحیح سے پہچان ہوئی،اُس کی پھر کوئی کھال بھی اُتار دے ،وہ لاالہ الا الله ہی پکارے گا ،تو اسی کو کامل توکل کہتے ہیں۔
توکل ایک ایسی خوبی ہے اگر کسی انسان کے اندر آ جائے تو وہ زندگی کے مشکلات میں ہمت نہیں ہارتا۔حقیقت یہ ہے کہ ہم سب ایک امتحان میں ہے دنیا میں بھیجے اس لئے گئے کہ ہم سب کو پرکھا جا رہا ہے کہ ہم کس کوالٹی کے ہیں ۔ ہم کس چیز کے مستحق ہیں،ہم کیا ثابت کرتے ہیںکہ ہمارا مقام کہاں ہونا چاہیے، اس آزمائش میں انسان کو ہر روز نا خوشگوار حالات سے گزرنا پڑتا ہے، بہت سی چیزیں مرضی کے خلاف ہوتی ہیں اور زندگی میں فائدے کے ساتھ ساتھ کئی نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔یہ کم و بیشتر انسان کے ساتھ ہوتا ہے ایسے میں یا تو انسان ان مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے یا پھر ان کے ساتھ ہارجاتا ہے ۔ مومن تو کبھی مایوس نہیں ہوتااور نہ ہمت نہیں ہارتا ہے، اس لئے کہ وہ اپنے رب پر توکل کرتا ہے،وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہےکہ ان مشکلات میں وہ تنہا نہیں ہے کوئی ہے جو اس کو دیکھ رہا ہے،کوئی ہے جو اس کی پکار سن رہا ہے،کوئی ہے جو اس کی مدد پر قادر ہے ،کوئی ہے جو سارے خزانوں کا مالک ہے۔یہ کیفیت جب انسان کے اندر آتی ہے تو بڑے سے بڑے طوفانوں میں بھی پرسکون رہتا ہےاور زندگی کے مشکل سفر میں قدم بہ قدم آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور بالآخر ایک روز اپنے رب سے جا ملتا ہے۔
جب توکل کی کمی ہوتی ہے تو انسان بزدل ہو جاتا ہے،کمزور ہو جاتا ہے اور اُسے چھوٹی چھوٹی مشکل بھی بہت بڑی نظر آنے لگتی ہے ، ان کا مقابلہ کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ لیکن جب انسان کے اندر اللہ پر بھروسہ آتا ہے ، اللہ پر یقین آتا ہے کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہےتو یہ چیز، یہ احساس اور یہ سوچ ہی انسان کو بہادر بنا دیتی ہے،اس کا عملی نمونہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ غزوہ احد ایک مشکل غزوہ تھا،اس میں کچھ لوگوں کی غلطی کی وجہ سے مسلمان کو جیتی ہوئی جنگ ہارنا پڑی، اس جنگ کے خاتمے پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ وہ مشرکین کی فوج کا پیچھا کریں ۔
اس موقع پر لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوتی ہےتو ان سے ڈرو،تو یہ سن کر مسلمانوں کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
یعنی ہم اپنے اور زور بازو پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور لوگوں کے مقابلے میں ہمیں اللہ ہی کافی ہے، اسی طرح ہم دیکھتے ہیں ابراہیم علیہ السلام ان کی زندگی بھی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، جب نمرود کے حکم سے ان کو آگ میں پھینکا گیا تو اس وقت ان کی زبان پر یہی کلمہ جاری تھا’’حسبي الله و نعم الوكيل‘‘ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
جوتوکل اور بھروسے کے لائق ہے وہی مجھے اس آگ سے نکالے گااور آپ سب جانتے ہیں کہ کس طرح وہ آگ ابراہیم علیہ السلام کے لئے گُل و گلزار ہو گئی اور اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی ہو گئی اور انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچی، ہر ایک مومن کے اندر یہ صفت ہونا نہایت ضروری ہے ۔
اور رمضان میں جب ہمارا اللہ تعالی کے ساتھ ایک خاص تعلق ہوتاہے ہم دعائیں بھی کر رہے ہوتے ہیں ،ایمان مضبوط ہوتا ہےتو اس کے ثمرات میں سے اس کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کے اندر یہ صفت پیدا ہو جاتی ہیںاور انسان اپنی عملی زندگی میں جب بھی کسی مشکل میں گرے،جب بھی کسی مشکل کا شکار ہو جائےتو فورا ًاس کی توجہ اللہ کی طرح چلی جائے کیونکہ وہی ایک ہستی ایسی ہے جس سے ساری امیدیں رکھی جاسکتی ہیں،کیونکہ وہ صاحبِ اختیار ہے ،وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے، وہ انسان کے لئے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والا ہے ،وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا وہ اپنے بندے کے دل کی باتیں بھی جانتا ہے، وہ اس کو چپکے چپکے اس کے اندر کی سسکیوں کو بھی اور اس کے اندر کے رازوں کو بھی جانتا ہے،جب وہ دل ہی دل میں اپنے رب سے باتیں کرتا ہے اگرچہ اس کے ہونٹ بھی نہ ہل رہے ہو ،تب بھی اس کے دل کا کنکشن اپنے رب کے ساتھ انتہائی مضبوط ہوتا ہے۔اس کے برعکس وہ لوگ جو دوسرے لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
’’آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم نے دیکھا غور کیاکہ جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے نقصان دینے کا ارادہ کر لے تو کیا وہ اس کی طرف سے آئے ہوئے نقصان کو دور کرسکتا ہے اور اگر میرا رب میرے ساتھ رحمت کا ارادہ کر لیں تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ہرگز نہیں،کہہ دیجئے میرے لیے اللہ کافی ہے اور اسی پر توکل کرنے والے توکل کرتے ہیں‘‘۔
تو بات یہ ہے کہ جب انسان اللہ کو بھول کر اللہ تعالیٰ سے غافل ہوکر دوسرے انسانوں یا بتوں یا کسی بھی اور چیز پر اللہ کے سوا غیر اللہ پر خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کتنی ہی بڑی طاقت بظاہر نظر آ رہی ہوں لیکن اگر وہ اس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتاکیونکہ اصل طاقت کا مالک تو اللہ ہے ،سارے اختیارات اسی کے پاس ہے،اگر وہ کسی کو نقصان دینا چاہے تو دنیا کے لوگ بھی مل کر اس کو فائدہ نہیں دے سکتےاور اگر وہ کسی پر اپنی رحمت کر دیں تو پوری دنیا بھی مل کر اسے رحمت کو ہٹا نہیں سکتی ۔تو اس لیے یہ چیز انسان کے اندر یقین پیدا کرتی ہے اور پھر ہر مشکل میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لئے اس کے اندر قوت پیدا کردیتی ہیں ۔اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی توکل کا حکم دیا ،جب آپ پرمشکلات ہوتی تھی تو اس وقت آپ کو اس طرح فرمایا گیا:’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں،اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اسی کا باخبر ہونا کافی ہے‘‘۔
اس کو معلوم ہے کون کیا کر رہا ہے کس حال میں ہے اور اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے آپ اپنے دشمنوں سے اپنے مخالفین سے گھبرائے نہیں اللہ آپ کے ساتھ ہیں ،آپ اس پر بھروسہ رکھے بالآخر کامیابی آپ ہی کے لیے ہیں۔
اگر ایک دل ایسا ہو جس میں اللہ پر توکل یا بھروسہ نہ ہو یا پھر اگر آپ یہ سمجھیں کہ ایسا دل ہو جو یقین نہیں کرتا تو یہ ایک بیمار دل ہے اور اس بیمار دل کا علاج کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے ۔اگر بسااوقات ایسا ہوتا ہے ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے فیصلوںپر ناراض ہو جاتے ہیں تو ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ آخر ایسے فیصلے کیوں ہو جاتے ہیں اور ہم اس طرح کے سوال کرتے ہیں کہ آخر میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے یا یہ واقعہ میری زندگی میں کیوں پیش آیا؟ اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:’’یقینا جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں .جو اللہ کے دوست ہوتے ہیں. نہ تو ان کو خوف ہوتا ہے نہ ان کوغم ہوتا ہے‘‘۔
یعنی نہ تو وہ مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہوتے ہیں کیونکہ ظاہر بات ہے جب انسان مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کو خوف پیدا ہوتا ہے ،فلاں چیز میری تجارت میں نہیں ہو گا یا مجھے بیماری لگ جائے گی ،مطلب یہ کہ مستقبل کے لئے اس قسم کے جو خوف انسان کی زندگی میں آ جاتے ہیں، ایسا ممکن بھی ہے کیونکہ انسان جو ہے ،اپنے ماضی کے بارے میں غم کرنا شروع کردے،ہائے کاش اگر میں نے یوں کر لیا ہوتا، کاش میں نے ایسا کر لیا ہوتا ۔ تو اللہ تعالی فرماتے ہیں:
جو میرے ولی ہیں وہ نہ تو مستقبل کے بارے میں ڈرتے ہیں اور نہ ہی ماضی کے بارے میں غم کرتے ہیں کیونکہ اُن پورا کا پورا یقین جو ہے وہ اللہ کی ذات پر ہے، جو ہوگا اللہ کی مرضی کے مطابق ہو گا اور میں اللہ کی مرضی سے راضی ہوں۔اللہ تعالی سورہ توبہ میں فرماتے ہیں:’’یقینا کچھ بھی تمہاری زندگی میں نہیں ہوگا سوائے وہ پہلے سے لکھ دیا گیا .اور اللہ تمہارا مولا ہے اور مومنین جو ہیں اللہ پر توکل کرتے ہیں‘‘تو یہ کتنی پاور فل آیت ہے قرآن مجید میں ،جہاں پر ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جو کچھ ہو گا ،وہ اللہ کی مرضی کے مطابق ہو گا اور یقیناً اللہ کی مرضی ہماری مرضی سے بہت بہتر ہیں۔
اللہ تعالی سورہ توبہ کی آخری آیت میں فرماتے ہیں:
’’اگر وہ آپ سے منھ پھیر لے تو پھر کہو اللہ میرے لئے کافی ہے،میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا اور اگر توکل کرتا ہوں تو اللہ تعالی پر ہی کرتا ہوں کیونکہ وہ عرش عظیم کا مالک ہے‘‘۔
جو ساری کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے جب ہم کہتے ہیں کہ ’بے شک اللہ تعالی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘ تو پھر اللہ پر ہی بھروسہ کرنا بنتا ہے۔انسان جب یہ سوچتا ہے کہ میرا رب جو ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے،پھر انسان اللہ کو یہ نہیں بتاتا کہ میرے مشکلات بڑھے ،انسان اپنے مشکلات کو بتاتا ہے کہ میرا رب کتنا بڑا ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں سورۃالفرقان میں: ’’توکل اس بات پر ہم کرتے ہیں جس کو موت نہیں آتی‘‘۔
 اگر آپ کو کسی پر بھروسہ کرنا ہے کسی پر یقین کرنا ہے تو کیوں نہ اس پر یقین کیا جائے جو ہمیشہ رہنے والا ہے ،الحی القیوم ہے، لا یموت ہے اور اس کو موت نہیں آتی ،تو اس لئے دل کے سکون کے لیے،دل کے اطمینان کے لئے،اللہ تعالی پر بھروسہ کرنا سیکھئے،تو ہمارے لئے ضروری ہیں جب بھی ہم زندگی میں کوئی بھی کام کرنے جاتے ہیں،اپنی طرف سے حق حلال کا کام کرے ،پوری محنت کرے، اگر ہوگیا الحمدللہ، اگر نہیں ہوتا تب بھی الحمدللہ ۔کیونکہ جو کچھ بھی ہو گا اللہ کی مرضی کے مطابق ہو گااور جب ہمیں یہ بات سمجھ میں آجائے گی تو ہم لوگ خوش ہو جائیں گے یعنی انسان اداس کیوں ہوتا ہے انسان اس لیےاداس ہوتا ہے کہ جب اس کی مرضی کے مطابق چیزیں نہیں ہوتی ،ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہر چیز جو زندگی میں ہونگی وہ ہماری مرضی کے مطابق ہونگی لیکن زندگی میں کئی چیزیں ایسی ہونگی جو آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہونگی ،نہ ہی وہ آپ کے ٹائم ٹیبل کے مطابق ہونگی ۔جو ایمان والے لوگ ہوتے ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں کہ جب بھی جو کچھ بھی ہو گا وہ اللہ کی مرضی کے مطابق ہو گا اور اللہ جاننے والا اور حکمت رکھنے والا بھی ہے،اللہ میرے سے علم میں بھی زیادہ ہے اللہ حکمت بھی مجھ سے زیادہ رکھتے ہیں ، اس لیے اللہ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ میرے فیصلوں سے بہتر ہوگا۔
انسان کو ایسی بات پر خوش ہو جانا چاہیے کہ جو کچھ بھی میری زندگی میں ہوا ہے، وہ میرے رب کی مرضی کے مطابق ہوا ہے اور اللہ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کہا کرتے تھے جب ہم اللہ تعالی سے دعائیں کرتے، اورہماری دعائیں قبول ہو جاتیں تو ہمیں بڑی خوشی ہوتی تھی، جب ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو ہمیں زیادہ خوشی ہوتی تھی کہ پہلے ہماری مرضی تھی لیکن اب اللہ کی مرضی ہے۔اور یقیناً اللہ کی مرضی ہماری مرضی سے بہت بہتر ہے ۔ حدیث ہے اگر تم اللہ پر زیادہ توکل کرو ،جس طرح چڑیاں اللہ پر توکل کرتی ہے تو اللہ تمہیں اسی طرح عطا فرمائے گا جیسے چڑیوں کو عطا فرماتا ہے کہ وہ صبح کے وقت اپنے گھروں سے نکلتی ہیں اور شام کو سیراب ہو کر لوٹتی ہیں۔اب اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ نہیں کہا گیا کہ چڑیا اپنے گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں تو آسمان سے من و سلویٰ نازل ہو جاتا ہےبلکہ چڑیا حرکت کرتی ہے یعنی حرکت میں برکت ہے تو آپ کو اپنے اعتماد سے پوری کوشش کرنی ہیں، باقی اللہ پر چھوڑے ۔مثلاً آپ کا اگر دو ہفتوں کے بعد فائنل ایگزام ہےتو آپ  نےاس کی خوب تیاری کر لی ،خوب محنت کر لی اور پھر اللہ تعالی پر توکل کرے، اچھے طریقے سے ایگزام دے ،انشاء اللہ اچھے نمبر آگئے تو الحمدللہ، اگر نہ بھی آئے تو بھی الحمدللہ یا کسی وجہ سے آپ فیل ہو جاتے ہیں یا آپ کا ایڈمیشن کہیں نہیں ہو پاتا ہے،تب اللہ پر پورا بھروسہ کرلے کہ ان شاء اللہ اس میں بھی اللہ نے بہت خیر رکھا ہوگا۔جب بھی ہماری زندگی میں بڑی سے بڑی مشکلات کیوں نہ آئے تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ ہمارا رب ہے ہم اس پر توکل کرتے ہیں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہی ہماری مدد کرے گا کیونکہ یہ مصیبت اسی کی طرف سے ہے تو ہمیں اللہ آزماتا ہے کہ کیا یہ بندہ مجھ پر توکل کرے گا کہ نہیں۔ تو ہمیں اللہ پر توکل کرنا چاہیے،اُسی اللہ پر امید رکھنی چاہیے،زندگی میں کسی پر بھی امید نہ رکھو،بس اپنے اللہ تعالی پر امید رکھو، وہی ایک ہے جو ہمارے دلوں کو تھام لیتا ہے ،جو عرش عظیم کا مالک ہے۔ آخر میں اللہ رب العزت سے یہی دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر وقت ہر لمحہ اپنے اوپر توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین یا رب العالمین۔
 (سومبرنہ نوگام شانگس اننت ناگ)
