تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    27 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

بغیر کسی معاہدہ  کےایک دوسرے کی آمدنی پر حق جتلانا شرعاً جائز نہیں

کرایہ داروں سے دکان یا مکان کے لئے پگڑی یامٹھائی کے نام سے رقومات لینے کا مسئلہ
سوال(۱) ایک شخص کے دو بیٹے ہیں،ایک ملازم دوسرا تاجر ہے۔ ملازم تنخواہ لیتا ہےاور تاجر  اپنی تجارت کرتا ہے ۔  سوال یہ ہے کہ کیا ملازم بیٹے کی تنخواہ اور جی پی فنڈ وغیرہ میں تاجر بیٹے کا اور تجارت کرنے والے بیٹے کی کمائی اور نفع میں ملازم کا کوئی حق ہے  یا نہیں؟یہ مسئلہ  بڑے نزاع کا سبب بنتا ہے۔حقائق سے آگاہ فرمائیں۔
سوال(۲)اگر کوئی شخص دوکان کرایہ پر لیتا ہے تو دوکان کا مالک اس سے کرایہ کے علاوہ ’’مٹھائی ‘‘کے نام پر ایک بڑی رقم لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مٹھائی لینا جائز ہے اور  اگر مٹھائی کسی نے لی ہو تو شرعا ً اس کے لئے کیا حکم ہے؟ تفصیل سے شرعی احکام بیان فرمائیں تاکہ حق معلوم ہو جائے ۔
محمد اکبر لون ، رحمت آباد رفیع آباد 

ترتیب کے مطابق دونوں سوالوں کا جواب ہے ۔

جواب: (۱)دو شخص کمائی میں اُس وقت ایک دوسرے کے شریک بن جاتے ہیں جب یا تو شرکت کا معاہدہ کریں یا کوئی ایسا معاملہ بن جائے کہ وہ خود ایک دوسرے کے شریک بن جائیں ۔شرکت کی جتنی قسمیں ہیں  ان میں یا تو ایسی صورت حال انسان کے عمل و اختیار کے بغیر پیدا ہوجاتی کہ شرکت خود بخود بن جاتی ہے  یا باقاعدہ شرکت کرنے کا معاملہ طے کیا جاتا ہے ۔مثلا ًباپ مرگیا تو  ترکہ میں تمام ورثاء بن گئے ۔اگر دو بھائی الگ الگ اپنی کمائی کا ذریعہ اختیار کئے ہوئے ہوں، ایک تجارت کررہا ہو  اور دوسرا نوکری اور دونوں کا آپس میں ایک دوسرے کے کام میں کوئی عمل بھی نہ ہو  اور دخل بھی نہ ہو،تو پھر دونوں کی کمائی الگ الگ شمار ہوگی، نہ تو ملازم کی تنخواہ پر تجارت کرنے والے بھائی کا کوئی اختیار ہوگا اور نہ تجارت کرنے والے کے نفع یا نقصان میں ملازمت کرنے والے بھائی کی کوئی شرکت ہوگی ۔اگر کوئی بھائی تاجر ہو اور وہ ملازم کی تنخواہ یا جی پی فنڈ میں اپنا حقدار ہونا جتلائے یا کوئی ملازم تاجر کی تجارت میں نفع کا دعویدار بنے تو شرعاً یہ اُسی وقت معتبر ہوگا جب دونوں نے اس کا معاہدہ کیا ہو کہ ہم کام میںبھی ایک دوسرے کے معاون بنیں گے اور نفع اور آمدنی میں بھی شریک رہیں گے،جب کہ اس طرح کا معاہدہ ہوتا ہی نہیں ہے توپھر ملازم کو تاجر بھائی کی تجارت میں اور  تاجر کو ملازم بھائی کی تنخواہ میں کسی طرح کا حق جتلانا اور مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ۔
اس طرح کے معاملے بکثرت یہاں کے معاشرے میں حق تلفی اور نزاع کا ذریعہ بنتے ہیں ،مگر مسلمان اپنی شریعت کا پابند ہوتا ہے اور شریعت کا حکم یہ ہے کہ معاملات  پہلے ہی مکمل طور پرطے کر لئے جائیں  ۔اگر کوئی معاملہ طے نہ ہو اہو، پھر حق جتلانا خلاف شریعت بھی ہے اور خلاف عقل بھی ہے ۔مثلا اگر کسی گھر میں ایک بھائی کو اس کے والد نے تجارت کرنے میں تعاون دیا ،یہ تعاون مالی طور پر اور زبانی مشوروں اور رہنمائی کے  طور بھی ہواور دوسرے بھائی نے ملازمت کی ، اس ملازم بھائی کا کوئی عمل دخل اس تاجر بھائی کی تجارت میں نہیںرہا ہو  تو اگر کسی وقت یہ ملازم بھائی اپنے تاجر بھائی کی تجارت کی آمدنی میں حقدار ہونے کا دعوی کرے، تو یہ دعویٰ خلاف شریعت ہے اور خلاف عقل بھی ۔اسی طرح ملازم نے نوکری کی ،اس نوکری کے کام میں تاجر بھائی کا کوئی تعاون نہیں ہے تو نوکری پر ملنے والے عوض سیلری، جی پی فنڈ ،پنشن میں تاجر کاکوئی حق نہیں ہے۔ ہاں! یہ دونوں اپنی اپنی کمائی میں سے مشترکہ اور مخلوط گھر میں جو کچھ دیں ، وہ گھر کے تمام افراد کے لئے درست ہوگا ۔مشترکہ گھر میں بھی یا تو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ کون بھائی کتنا خرچہ دے گا یا پھر اپنی اپنی رضا مندی سے بڑھ چڑھ کر بطورِ حُسنِ سلوک  اور تبرع اپنی رقوم دیںاور ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لیں کہ تاجر کی تجارت  الگ اور خالص اُسی کی ہے اور ملازم کی ملازمت خالص اُسی کی ہے ۔اس بات کو نزاع اور رسہ کشی کا ذریعہ بنانا ہرگز صحیح نہیں ہے ۔
جواب :(۲)اصولی طور پر دوکان کے مالک کو صرف کرایہ لینے کا حق ہے  اور کرایہ اس جگہ کی مارکیٹ میں دوسرے دوکانوں کی طرح ہو نا چاہئے ۔اس کے علاوہ پگڑی ، مٹھائی  یا کسی اور نام سے کوئی رقم لینا شرعاً درست نہیں ہے ۔لیکن شرعاً درسست نہ ہونے کے باوجود چونکہ یہ عمل کثرت سے ہر جگہ جاری ہے۔ جیسے لوگ اپنی دوکانوں کے لئے کرایہ کے علاوہ  مٹھائی یا پگڑی لیتے ہیں، اُسی طرح عوامی املاک حتیٰ کہ بعض مقامات پر مسجدوں کی دوکانوں پر بھی  مٹھائی  لی جاتی  ہے۔  جب پگڑی یا مٹھائی لینے دینے کا یہ سلسلہ ہر ہر جگہ پھیل گیاتو اس سلسلے میں شریعت اور قانون کے ماہر مسلمان اہلِ علم کا ایک سیمینار ہوا، اس میں جو کچھ طے ہوا  وہ مختصر لفظوںمیں یوں ہے۔’’ اگر کوئی دکان یا مکان کرایہ پر دیا جائے اور مالک نے کرایہ کے علاوہ پگڑی یا مٹھائی کے نام پر اصل ماہوار کرایہ کے علاوہ بھی نقد رقم کرایہ دار سے وصول کرلی،تو یہ سمجھا جائے گا کہ مالک دکان یا مالک مکان نے بحیثیت مالک کرایہ دار سے وہ دکان یا مکان واپس لینے کے حق سے دست بر داری کا عوض وصول کر لیا ہے ۔اب یہ رقم اُس حق کا عوض قرار پائے گی جو مالک ہونے کی حیثیت سے اُسے حاصل تھا جبکہ اُسے حق ہے دکان یا مکان واپس لینے کا۔ یہ رقم چونکہ اس حق کا عوض ہے، اس لئے اب یہ رقم اس کے لئے جائز ہو گی ۔آئندہ ماہ اگر یہ مالک ِدکان یا مالکِ مکان اس دکان یا مکان کو واپس لینا چاہے تو کرایہ دار کو حق ہوگا کہ وہ خالی کرنے کا کوئی عوض بصورت رقم وصول کرے اور رقم کی وہ مقدار جس پر دونوں رضامند ہوجائیں، لے کر کرایہ دار دکان یا مکان واپس کر دے، اب کرایہ دار  کے لئے یہ رقم لینا جائز ہوگی ۔اسی طرح ایک کرایہ دار اگر یہ دکان یا مکان دوسرے کسی کرایہ دار کو کرایہ پر دے اور اُس وقت وہ دوسرے کرایہ دار سے آپسی معاہدہ اور باہمی مشورہ کے تحت ایک طے شدہ رقم وصول کرکے اس دوسرے کرایہ دار کو دے تو اُس کو اس کا بھی حق ہوگا اور دوسرے کرایہ دار سے یہ رقم لینا اس کے لئے جائز ہوگی ۔ یہ رقم اُس کے لئے  اِس لئے جائز ہوگی کہ اُس نے پہلے خود مالک کو ایک بڑی رقم کرایہ کے علاوہ دی تھی ۔یہ خلاصہ اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ ہے جو طویل غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعد ہوا ہے، وہ درج کردیا گیا ۔اس فیصلہ میں یہ لکھا گیا ہے ۔’’ مالک دکان یا مالک مکان زر ضمانت یا ڈپوزٹ (یا پگڑی یا مٹھائی ) کے نام پر کرایہ دار سے جو پیشگی رقم وصول کرتا ہے، بہتر ہے کہ اُسے جُوں کا تُوں بعینہ محفوظ رکھا جائے۔  اگر مالک نے وہ رقم خرچ کردی تو وہ اس بات کا ضامن ہوگا کہ کرایہ داری کی مدت ختم ہوتے ہی وہ یہ رقم کرایہ دار کو واپس کردے ۔(نئے مسائل اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلے مطبوعہ ایفاء پبلیکیشنز نئی دہلی) 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :میں سکمز جے وی سی میں اپنی بھانجی کے علاج کے سلسلے میں دوتین دن رہا،جہاں کودڈ۔ ۱۹ کےتحت احتیاطی اقدام پر کہیںکوئی عمل   نظر نہیں آیا، ہر  جگہ پر لوگوں کا ہجوم رہتا تھا،البتہ جب ہم نماز کے لئےمسجد جاتے تھے تووہاںاِسی  ہسپتا ل کے ڈاکٹر،ملازم اور تیمار دار  صفوں کے درمیان سوشل ڈسٹنس(فاصلے) کا اہتمام کرتے اور اس پر مفتی صاحبان کی دلیل بھی پیش کرتے تھے ۔کیا ایسی صورت میں نماز پڑھنا جائز ہوگا ۔ 
عبد الرحمٰن ۔کریم آباد پلوامہ

احتیاطی تدابیرپر عمل اور فاصلہ رکھنے کااہتمام ہر جگہ لازمی

 جواب:موجودہ وبائی بیماری جو پورے عالم پر مسلط ہے، اس بیماری کے پھیلاؤ کا ظاہری سبب یہی ہے کہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگ سکتی ہے ،اسی لئے ماسک اور فاصلہ رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔اب جو لوگ مسجد کے باہر تو ایک دوسرے سےفاصلہ رکھنے میں لاپرواہی برتتے ہیں ،وہ مسجد میں آکر صفوں میں فاصلہ رکھنے پر اصرار کرتے ہیں تو یہ اُن کی غلطی ہے ۔اس غلطی کا تدارک یہ نہیں کہ جیسے بازاروں میں ،دفتروں میں ،ہسپتالوں میں اورمسافرگاڑیوں میں کوئی فاصلہ نہیں رکھا جاتاکہ ایسے ہی مسجدوں میں بھی یہ فاصلہ ختم کردیا جائے بلکہ اس کا تدارک یہ ہے کہ جیسے مساجد میں احتیاطی تدابیر اور فاصلہ رکھنے کا اہتمام کیا جارہا ہے ،ویسے ہی مسجدوں کے باہر بھی اہتمام کیا جائے۔ کسی مفتی صاحب نے یہ نہیں کہا کہ مسجد میں تو فاصلہ ضروری ہےاور مسجد سے باہر چھوٹ ہے بلکہ فاصلہ ہر جگہ ضروری ہے ۔بہرحال اگر مسجدوں میں فاصلوں کے ساتھ نمازیں پڑھی جارہی ہیں تو یہ نمازیں درست ہیںاور یہ فاصلہ رکھنے کی اجازت وقتی اور عارضی ہے اور یہ خصوصاً اس لئے کہ فاصلہ نہ رکھنے کی بنا پر کوئی مساجد کو ہی نشانہ نہ بنائے کہ مسجد کی وجہ سے وائرس لگ گیا ۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :ہم بہت پہلے سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ دن و رات میں کل تین اوقات زوال کے  ہوتے ہیں :طلوع آفتاب ،نصف النہار  (یعنی جب سورج ٹھیک سر کے اوپر آسمان کے بیچ میں ہو )اور غروب آفتاب ۔
ان تینوں اوقات پر نماز کی ممانعت ہے۔البتہ میقات الصلوٰۃ اور الیکٹرانگ ٹائم ٹیبل سے نصف النہار کے حوالہ سے کہیں کہیں ابہام پایا جارہا ہے۔ کچھ حضرات کاغذی میقات الصلوٰۃ  کے نصف النہار کو نماز کے لئے مکروہ بتاتے ہیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ شروع ظہر سے دس پندرہ منٹ قبل زوال کا وقت ہوتا ہے ۔استدعا ہے کہ اس مسئلہ کی شرعی حقائق کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
جاوید احمد نوشہرہ سرینگر

نماز کے لئے ممنوع اوقات اور میقات الصلوٰۃ

جواب :۔ نصف النہار وہ وقت کہلاتا ہے جس وقت آفتاب اپنی آخری بلندی پر پہونچ کر پھر ڈھلنا شروع کرے۔ اس نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا منع ہے ۔یہ شروع ظہر سے چند منٹ پہلے ہوتا ہے ،اس کو نصف النہار عرفی کہا جاتا ہے ۔ میقات الصلوۃ میں جو نصف النہار دکھا یا گیا ہے ،وہ نصف النہار شرعی ہے نہ کہ عرفی ۔اس نصف النہار شرعی میں نماز کی ممانعت نہیں ہے ۔ اس لئے اس کے بعد نماز پڑھنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تین اوقات نماز کے لئے ممنوع ہیں :وقت طلوع،وقت زوال ،وقت غروب۔ 
وقت زوال کو ہی نصف النہار عرفی کہاجاتا ہے اور یہ زیادہ سے زیادہ دو تین منٹ تک رہتا ہے ،اس کے بعد ہی ظہر اور جمعہ کاوقت شروع ہوجاتا ہے۔ اس سے پہلے ظہر یا جمعہ کی اذان بھی درست نہیں اور سنتیں بھی قبل از وقت ہوں گی۔ نصف النہار شرعی یہ ہے کہ اگر ہم کسی دن صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے پورے دن کا  نصف نکالیں تو یہ نصف النہار شرعی ہے ،میقات الصلوٰۃ میں یہی وقت دکھایا گیا ہےاور طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کے پورے وقت کا جب نصف نکالا جائے تو یہ نصف النہار عرفی ہے ،یہی وقت زوال کا وقت ہے، یہی استوائے شمس ہے اور اسی وقت نماز منع ہے، الیکٹرانگ میقات میں یہی وقت دکھایا گیا ہے ۔