تازہ ترین

معاصر اُردو افسانہ۔تفہیم و تجزیہ

خاکہ

تاریخ    26 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


شاہینہ یوسف
نام کتاب:معاصر اردو افسانہ(تفہیم و تجزیہ)      
مصنف :ڈاکٹر ریاض توحیدی 
صفحات :۲۶۴
ناشر:روشناس پرنٹرس ،دہلی
قیمت:۳۰۰ روپے
اردو ادب کے آسمان پر کئی قدآور شخصیات نے وقتاََفوقتاََپروازیں کیں‘اور اپنی اُڑان سے ہر ایک کو تحیر میں ڈال دیا ۔ان ہی اشخاص میں ڈاکٹر ریاض توحیدی بھی ایک ایسے ادیب ہیں جو اپنی مسلسل بلندپروازی سے ہر ایک کو حیران کر دیتے ہیں۔نہ صرف تنقید کے میدان میں بلکہ اردو افسانے پر بھی ڈاکٹر ریاض توحیدی کی گہری چھاپ نظر آتی ہیں۔ڈاکٹر ریاض توحیدی کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے اور ان کی ہر تحریر سے نہ صرف یہاں کی خوبصورتی عیاں ہوتی ہے بلکہ یہاں کے درد و کرب کو بھی وہ وقتاََ فوقتاََ اپنی تحریروں میں عیا ں کرتے ہیں۔ڈاکٹر ریاض توحیدی تحقیق و تنقیدکے اسرار و رموز سے بھی اُسی طرح واقف ہیں جس طرح وہ افسانوں کے فن سے آشنا ہیں ۔دراصل وہ ایک ایسی ہستی گرداننے کے اہل ہیں جو ادب میں اپنی مسلسل کاوشوںسے یاد کیے جاتے ہیں اور انشا اللہ آگے بھی یاد کیے جائیں گے۔ اگر یوں بھی کہے تو بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر ریاض توحیدی نے تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ اردو افسانے میں بھی جو ادبی سرمایہ لوگوں کے گوش گزار کیا وہ ان کے نام کو ابدی قبولیت و پذیرائی عطا کرنے کے لیے کافی ہے۔
جہاں تک ان کے ادبی سفر کی بات کی جائے تو وہ ادب کے میدان میں اُس وقت پرواز کے لیے نکلے جب کشمیر پُر آشوب دور سے گزر رہا تھا اور یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ اُس دور کے مصائب و مسائل ہر حساس ادیب کی طرح ان کے ذہن میں بھی پیوست ہو رہے تھے ۔اسی طرح انہوں نے اپنی تحریروں میں نہ صرف اس درد و کرب کو عیاں کیا بلکہ ساتھ ہی ساتھ روشن مستقبل کی غمازی کرنے میں بھی وہ پیش پیش ہیں۔
اسی اثناء میںزیر تبصرہ کتاب ’’معاصر اردو افسانہ (تفہیم و تجزیہ)‘‘کی بات کی جائے تو مصنف نے اس کتاب کو تین حصوں میں جبکہ ان تین حصوں کو کئی ابواب میں تقسیم کیا ہے۔جہاں تک پہلے باب کا تعلق ہے تو مصنف نے اسے ’’افسانہ ۔۔۔۔۔۔فن  اور تکنیک ‘‘کے نام سے موسوم کیا ہے ۔اس باب میں مصنف نے نہایت خوش اسلوبی سے افسانے کے فنی اجزاء پر روشنی ڈالی ہے ۔ساتھ ہی ساتھ مصنف نے اس باب میں ایسی اصطلاحات کو بھی قاری کے روبرو کرنے کی بھرپور سعی کی ہے جن سے بہت سارے عام لوگ ابھی تک ناآشنا تھے ۔
اسی طرح اگر کتاب کے دوسرے باب کی بات کی جائے تو اس میں مصنفہ نے علامتی افسانہ کے بارے میں بحث چھیڑ کر علامت کے اسرار و رموز سے قاری کو واقفیت بخشی ہے ۔یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ علامتی افسانہ ایک ایسا میدان ہے جس میں باقی اصناف کے مقابل کئی کم لوگ اُترے ،شاید یہ صنف ایسی ہے جہاں ہر کوئی اُترنے کی جرات نہیں کرتا ۔اسی ضمن میں ڈاکٹر ریاض توحیدی کا قلم کو جنبش دے کر خامہ فرسائی کرنا قابلِ داد ہے۔علامت سے متعلق ڈاکڑریاض توحیدی صاحب کچھ یوں رقمطراز ہیں:۔
’’علامت کو تخلیق کا حسن بھی قرار دیا جاتا ہے ۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک علامتی 
افسانہ یا شعر کی قرات میں جو فنی حسن اور معنی خیزی کا لطف موجود ہوتا ہے وہی اس 
کی تخلیقیت کا موثر فنی انداز فراہم کرتا ہے۔علامتی اظہار میں جو مثبت معنوی ابہام 
پوشیدہ رہتا ہے وہ تخلیق کی تنقید و تفہیم کے لیے بڑا کار آمد ثابت ہوتا ہے۔‘‘۱؎
(ڈاکٹر ریاض توحیدی،معاصر اردو افسانہ (تفہیم و تجزیہ)،جلد اول،روشنان پرنٹرس ،دہلی،۲۰۱۸ء،ص۲۴)
اسی طرح تیسرے باب میں مصنف نے ’مائکرو فکشن‘ سے بحث کر کے اس کی تعریف وغیرہ کر کے قاری کو اس صنف سے بھی روبرو کرانے کی کامیاب سعی کی ہے ۔چوتھے باب میں مصنف نے افسانہ ’خوف کا ڈر ‘شامل کر لیا ہے ۔اسی طرح پانچواں باب جو کہ مصنف نے ’’کشمیر کے معاصر اردو افسانوں کے تخلیقی رویے‘‘سے ترتیب دیا ہے ۔اس باب میںمصنف نے کئی کُہنہ مشق افسانہ نگاروں کے تخلیقی رویوں سے سیر ہا گفتگو کر کے ان کے افسانو ں میں پیش آنے والے ایسے عوامل پیش کیے ہیں جن سے ان کی تحریریں لا فانی بن گئی۔نو رشاہ کے افسانے سے اقتباس ملا حظ فرمائیں:۔
’’لیکن وقت نے اچانک کروٹ بدلی ۔کشمیر جو کبھی اپنی سندرتا ،خوب صورتی اور حسن
کے ساتھ ساتھ پیار و محبت اور آپسی بھائی چارے کے لیے برصغیر کی تاریخ میں ایک 
بڑی اہمیت اور منفرد مقام کا حامل تھا،نہ جانے کیوں اور کیسے بد صورتی کے ایسے دلدل 
میں پھنس گیا کہ یہاں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ،سڑکیں خون آلود ہونے لگیں،معصوم
سینے چھلنی ہونے لگے۔‘‘۲؎
(ڈاکٹر ریاض توحیدی،معاصر اردو افسانہ (تفہیم و تجزیہ)،جلد اول،روشنان پرنٹرس ،دہلی،۲۰۱۸ء،ص۳۹)
ان ابواب کے علاوہ پہلے حصے میں کئی اور باب بھی شامل ہے۔اسی طرح اگر کتاب میں شامل دوسرے حصے کی بات کی جائے تو اس حصے میں مصنف نے کئی افسانوں کے تجزیے شامل کیے ہیں ۔اس حصے کی خاص بات یہ ہے کہ اس حصے میں مصنف نے نہ صرف جموں و کشمیر کے کُہنہ مشق ادباء کی تخلیقات کے تجزیے شامل کیے ہیں بلک یہاں سے دور رہ رہے افسانہ نگاروں کے تجزیے بھی شامل کیے ہیں ۔ان میں ادھا (گلزار)،لینڈرا(پروفیسر اسلم جمید پوری)،ستیہ کے بکھرے ہوئے بال(ڈاکٹربلند اقبال ،کمیکل(سید تحسین گیلانی)،مرگھٹ(شموئل احمد)،پھانسی(قرب عباس)وغیرہ ۔ان افسانوں کے تجزیے جس اُسلوب اور جس انداز سے پیش کیے گئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔اس کتاب میں شامل تجزیے پڑھ کر ہی قاری کو معاصر اردو افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ ان کے افسانوں کے خدو خال سے بھی واقفیت حاصل ہوجاتی ہے ،ساتھ ہی ساتھ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مصنف نے اس حصے میں ایسے قلمکاروں کے افسانوں کاا نتخاب کیا ہے کہ قاری بیک نظر کشمیر کے موجودہ حالات و کوائف کے ساتھ ساتھ ان ادباء کے حسین اُسلوب سے بھی بہرہ ور ہوجاتا ہے۔افسانہ ’جنت والی چابی‘ ِجو کہ ڈاکٹر ریاض توحیدی کے قلم سے نکلی ہوئی نادر تحریر گردانی جاتی ہے۔اس پراظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر بشارت خان کچھ یوں رقمطراز ہیں:۔
’’کلائمکس کا مثبت پیغام افسانے کی اہمیت میں چار چاند لگا رہا ہے کیونکہ افسانہ نگار نے
بڑے فن کارانہ طریقے سے مرکزی کردار یعنی’امن‘کی اسیر زدہ منفی سوچ کو مثبت اپروچ
میں تبدیل کیا ہے جو قاری کے ذہن پر تعمیری تاثر چھوڑ جاتا ہے۔۔‘‘۳؎
(ڈاکٹر ریاض توحیدی،معاصر اردو افسانہ (تفہیم و تجزیہ)،جلد اول،روشنان پرنٹرس ،دہلی،۲۰۱۸ء،ص۲۱۴۔۲۱۳)
اسی طرح کتاب کا تیسرا حصہ مصنف نے ’’مضامین کتب ‘‘سے تریب دیا ہے ۔اس حصے میں مصنف نے کئی کتابوں سے متعلق مضامین قلمبند کر کے اپنی تنقیدی اور تحقیقی بصیرت سے قاری کو روبرو کرایا ہے۔
الغرض ہم کہہ سکتے ہیں کہ مصنف نے زیرِ تبصرہ کتاب کو ترتیب دے کر اپنی تخلیقی ہنر مندی کے ساتھ ساتھ جس طرح کئی قد آور شخصیات کے تخلیقی رویوں سے قاری کو سرفراز کرایا ہے وہ واقعی داد اور تعریف کے لائق ہے۔مصنف کی مذکورہ کتاب کے مطالعے سے یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مصنف نے اس کتاب میں بہت سارے موضوعات کو سمیٹ کر سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔امید قوی ہے کہ مصنف اپنی تخلیقات سے آنے والے اوقات میںبھی قاری کو ایسی ہی نادر تحریروں سے سرفراز کرتے رہیں گے۔
(ریسیرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ور سٹی آف کشمیر)
ای میل:۔Shaheenayusuf44@gmail.com
������
 

تازہ ترین