تازہ ترین

کربلا۔۔۔۔قلم کی جولانگاہ

حق و صداقت

تاریخ    20 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


فدا حسین بالہامیؔ
حوادث کی اس دنیامیں جو کچھ اولادِ آدم کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اْس سے ایک محدود زمان و مکان میں متاثر ہوکر بالآخر اس پیش آمدہ واقعے کو بھول جانا انسانی فطرت کا خاصہ رہا ہے۔ کیونکہ رفتہ رفتہ اس واقعہ کے اثرات زائل ہوجاتے ہیں۔مگر انسانی تاریخ میں انگشت شمار چند واقعات  ایسے بھی ہیں۔ جو اس قاعدہ کلیہ سے مثتثنیٰ ہے۔ بالفاظِ دیگر ان اشتثنائی واقعات کے اثرات تادیر باقی رہتے ہیں۔ اور ان کی یاد کو محو کردینا انسانی قلب و ذہن کے بس کی بات نہیں۔زمانے کی نیرنگی ، لیل و نہار کی آمد و رفت،معاشرت کا ارتقاء اور انسانی سوچ اوراپروچ میں تغیر و تبدل بھی اس قبیل کے واقعات پر اثر انداز نہیں ہوپاتا ہے۔ سانحہ ٔ کربلا متذکرہ واقعات میں سر فہرست ہے۔ صدیاں گذر جانے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کل پرسوں ہی واقعہ کربلا پیش آیا ہو۔ شہدائے کربلا کے خون کی تازگی اب بھی باقی ہے۔ اس کی حرارت و حرکت معدوم نہیں ہوپائی ہے۔ جہاں تک اس واقعے کے اثرات کا تعلق ہے۔ ہر دور میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے ہیں۔ علی الخصوص اہلِ دانش و بینش اس کی اثر آفرینی کے نہ صرف معترف رہے ہیں بلکہ اثرات قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے تاثرات بھی بہترین پیرایہ میں بیان کئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تحریر و تقریر کا ایک وسیع خزانہ کربلا سے تعلق رکھتا ہے جس کو پڑھنے اور سننے کیلئے عمرِ خضر درکار ہے۔ بلاخوفِ تردید کہا جاسکتا ہےکہ جتنا کچھ کربلا کے متعلق لکھا اور کہا جاچکا ہے۔ اس حوالے سے تاریخِ عالم کا کوئی بھی واقعہ اسے مقابلے کی تاب نہیں لاسکتا ہے۔ بظاہر چند گھنٹوں پر محیط اس واقعے کو تاریخ کے ایک آدھے صفحے پر ہی سمیٹا جا سکتا ہے لیکن اس کی معنوی وسعت کا احاطہ ہزار ہا صفحوں پر بھی بھاری ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج تک جن صاحبان ِ علم نے کربلا پر قلم فرسائی کی وہ اپنی تحریر کو حرفِ آخر نہیں گردانتے ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے رہے کہ ان کی کدو کاوش سے کربلا کی حق ادئیگی نہ ہو سکی بلکہ جوں جوں اس میداں میں آگے بڑھتے گئے انہوں نے کربلا کے تئیں اپنی کم ظرفی کو محسوس کیا۔در اصل الفاظ ومعنی اس درد و کرب کومن وعن پیش کر نے سے حقیقتاً قاصر ہیں جس کو کربلا والوں نے جھیلا ہے ۔ علمی دنیا کس زبان و بیان میںان بلند تر انسانی جذبات و احساسات کی عکاسی شایان شان طریقے پر کر سکتی ہے جن کے امام ِ حسین ؑان کے آل واولاد اور با وفا اصحاب  حامل تھے۔
شہدائے کربلا کے خون کی لافانی تاثیر ہی ہے کہ جتنے آنسواآج تک اس واقعے پر بہائے گئے اگر ان کو جمع کیا جائے تو آنسؤوں کا سمندر وجود میں آئے گا۔بقول ِ مولانا ابوالکلام آزاد’’ جس واقعہ نے اسلام کی دینی ،سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے  وہ ان (امام حسین ؑ) کی شہادت کا عظیم واقعہ ہے۔ بغیر کسی مبالغہ کے کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کسی الم ناک حادثہ پر نسلِ انسانی کے اس قدر آنسو نہیں بہے ہیں ۔ تیرہ سو برس کے اندر تیرہ سو محرم گذر چکے اور ہر محرم اس حادثہ کی یاد تازہ کرتا رہا امام حسینؑ کے جسم خونچکاں سے دشتِ کربلا میں جس قدر خون بہا تھااس کے ایک ایک قطرہ کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم و الم کا ایک ایک سیلاب بہا چکی ہے۔‘‘ اتنا ہی نہیں بلکہ جس قدر علما و فضلا اور اہل قلم حضرات نے کربلا کی یاد میں صفحائے قرطاس پر روشنائی بکھیر دی، وہ روشنائی ان آنسؤوں کے سمندر سے کسی قدر بھی کم نہیں ہے۔ دراصل کربلا میں وہ تمام عناصر موجود ہیں۔ جو قلم کو متحرک رکھنے کیلئے کافی موثر ہواکرتے ہیں۔امام عالی مقام کی قربانی سے جہاں مذہبی ،سیاسی، معاشرتی سطح پر ایک مثبت انقلاب وقوع پزیر ہوا وہاں علمی اور قلمی دنیا  نے بھی اس کی فیض یابی سے اپنے جیب و دامن میں بہت سے بیش قیمتی لعل و جوہر سمیٹ لئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صنف اور شعبے سے تعلق رکھنے والے صاحب قلم نے اس داستان خونچکان کے لئے اپنا خون ِجگر نذرِ قرطاس کیا۔ کربلا سے شاعر نے سوز پایا۔ مورخ کو زندہ و جاوید حقیقت ہاتھ آئی۔ اصلاحی فکر رکھنے والے مفکر کو اصلاح احوال کا حوصلہ ملا۔ مقصدیت کے تابع صاحب قلم افراد کوعظیم تر مقصد پر سب کچھ لٹانے کی ایک ناقابل ِ تردید دلیل مل گئی۔معلم اخلاق نے کربلا میں انسانی اخلاق و اقدارکے حیرت انگیز پہلو کامشاہدہ کیا ۔الوہیت کے اثبات و ابلاغ کے لئے واقعہ کربلا ء موثر ترین وسیلہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک توحید پرست عارف و مبلغ نے امام حسینؑ کی ذاتِ پاک میں توحید کو اس حد تک گھل مل پایا کہ انہوں نے اپنے چند ایک لافانی اشعار کے ذریعے اعلان فرمایا کہ ذات ِاقدسِ امام عالی مقام توحید کی ایک زندہ علامت ہے۔ـ
شاہ است حسین ،پادشاہ است حسین 
دین ہست حسینؑ دین پناہ ہست حسینؑ
سر دا د  نداد  دست  در دستِ یزید 
حقا کہ بنائے لا الا است حسین
(خواجہ محی الدین چشتی ؒ)
  المختصرحیات و کائنات پر گہری نظر رکھنے والے اس حساس طبقے کو کربلا سے مقصد زیست حاصل ہوا۔ پراگندہ فکریں مجتمع ہوگئیں۔قلمی صلاحیتوں کو جلا ء ملی دلوں کو سوز اور شجر حیات کو برگ و ساز نصیب ہوا۔اس لحاظ سے سید شہدا ء امام حسین ؑ کے متعلق علامہ اقبال کے ان چند فارسی اشعار حقیقت بیانی پر مبنی ہیں۔
رمزِ قرآن از حسینؑ آموختیم
ز آتشِ او شعلہ ہااندوختیم
شوکتِ شام و فرِبغداد رفت
سطوتِ غرناطہ ہم ازیاد رفت
تارِ ما از زخمہ اش لرزد ہنوز
تازہ ازتکبیر ِ او ایماں ہنوز
گویا کربلا فکرو عمل کا ا یک ایسا سرچشمہ ہے کہ جسے بقدر ِ ظرف ہر شخص فیضیات ہوتا رہاہے اور تا قیامِ قیامت ہوتا ہی رہے گا۔ یہ اس زندہ حقیقت کا نام ہے کہ جس پر کبھی بھی مردنی نہیں چھائے گی۔ بلکہ یہ ہر دور میں انسانی اقدار و اصول اور الٰہی احکامات کے احیاء میں کام آتی رہے گی۔دراصل کربلا کی سرمدیت میں اس کی ہمہ جہتی کا بھی اہم کردار ہے۔شہید مرتضیٰ مطہری اپنی معرکتہ الآرا کتاب حماسۂ حسینی میں کربلا سے متاثر ہو کر اپنے ذوق کے مطابق مختلف شعرا کا مختلف اظہارِ بیاں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’تحریکِ حسینی کو دعبل خزاعیؔ نے وقت کے لحاظ سے صرف احتجاجی اور نزاعی سمجھا ہے محتشم ؔ کاشانی نے اس کے المناک اور دل پگھلانے اور رلانے والے  پہلو پر زور دیا ہے عمان سامانیؔ یا صفی ؔ علی شاہ نے اس تحریک سے عرفانی، عشق الٰہی اور راہِ حق میںپاک بازی کے پہلو نکالے ہیں ۔ کیونکہ حق کی خاطر قیام حسین ؑ کابنیادی اور حقیقی پہلو اس کا پاک بازی کا پہلو ہے یہ تمام نتائج صحیح ہیں۔ لیکن ایک ایک پہلو کی حیثیت سے ۔ ایک نے حماسی پہلو کی بات کی ہے ایک نے اخلاقی پہلو کی بات کی ہے ایک نے پندو نصیحت کی بات کی ہے سب نے درست کہا ہے لیکن ہر ایک ہر ایک نے اس تحریک کے پورے جسم یعنی کل سے نہیں صرف عضو یعنی ایک ایک جزو سے نتیجہ نکالا ہے۔جب ہم اسلام کی جامعیت اور کلیت پر نظر ڈالنا  چاہیں تو ہمیں تحریکِ حسینی پر نظر ڈالنا چاہیے۔ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسین ؑ نے کل اسلام کو کربلا مین عملاً پیش کر کے مجسم کر دیا اور یہ تجسیم بے روح نہیں ہے۔‘‘(حماسۂ حسینی ۔۔ص۔۲۴۷۔شہید مرتضیٰ مطہری)
اس عبارت سے یہ مثبت نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ کربلا ایک ہمہ گیر تحریک کا نام ہے کہ جسے بقدرِ ظرف ہر شخص مستفید ہو سکتا ہے۔ اور اپنے ذوق کے مطابق اس بحرِ حق میں غوطہ زن ہو کر اپنی پسند کے موتی چن سکتاہے۔کربلا ء کی جامعیت کے مدِ نظر اس کے تمام ابعاد پر یکساں طور پر گرفت حاصل کر نا کسی بھی فردِ بشر کے لئے ممکن نہیں ہے۔اس لئے اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف افراد کا کربلا ء کے مختلف پہلووں کو بیان کر ناایک امرِ ناگزیر ہے۔ البتہ کربلا کے چند ایک مشترکہ ابعاد بھی ہے جن کا  تعلق راست طور پر انسانی جذبات و احساسات کے ساتھ ہے ۔اور ان پہلووں سے متاثر ہونے کے لئے کسی خاص عقیدے کا حامل ہونا لازمی نہیں ہے۔مثال کے طور پر ظلم ِ کربلا کو بیان کرنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ایک انسان کلمہ گو ہی ہو۔ بہت سارے غیر مسلم شعراء اور مصنفین نے بھی خالص انسانی جذبہ کے تحت کربلا کی داستان ِ غم سے متاثر ہو کر اپنے تاثرات کو نظم و نثر کی صورت میں پیش کیا ہے۔  
  دنیا کی دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان کے نامور شعرا نے بھی واقعہ کربلا کو اپنے اپنے مخصوص انداز سے اپنا موضوع بنایا اور امام عالی مقام کے حضور اپنا تخلیقی نذرانہ عقیدت پیش کیا۔یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ اردو ادب نے ایسا کوئی قابلِ ذکر شاعر دیکھا نہیں ہے کہ جس کا تصوراتی گزر کربلا سے نہیں ہوا ہو۔دشتِ کربلا میں در اصل انسانی احساسات و جذبات کا وافر اور پر کشش خزانہ چھپا ہے کہ جو فطری طور پر ہر حساس طبعیت فرد کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔چنانچہ ایک شاعر کے احساس میں نزاکت اور طبعیت میں حساسیت کا پایا جانا امرِ عمومی ہے ۔ اس لئے غیر ممکن ہے کہ کوئی اعلیٰ پایہ کا شاعر بھی ہو گا جس کے فکروفن کو کربلا میں کوئی فکری اور فنی جاذبیت نہ ملی ہو۔میر تقی میرؔ نے کربلا کو عشق و محبت کے ماروں کے لئے بہترین اسوہ قرارا دیا۔
زیر ِ شمشیرِ ستم میرؔ تڑپنا کیسا
سر بھی تسلیم ِ محبت میں ہلایا نہ گیا
غالبؔ کی شاعری میں شگفتہ طرزِ گفتگو اور ظریفانہ اسلوب دیگر تمام شعری تخصیصات پر بھاری معلوم ہوتا ہے۔وہ غمِ شاہِ کربلا کے ماسواہر غم کی شدت کو ظریفانہ لب و لہجے کے ذریعے ناکارہ بنا دیتے ہیں۔ چاہے وہ غم ،غمِ عشق ہو یا غمِ روزگار۔ لیکن جب غالب ؔعقیدت کے بربط پر سوار ہو کر درِ اہلبیت تک رسائی حاصل کر لیتا ہے ۔ تو ’’حیوانِ ظریف‘‘ کے پیکر میں یکا یک ایک ’’سنجیدہ انسان ‘‘جلوہ گر ہو کر متانت و سنجیدگی کے گوہر ِ اس عظیم بارگاہ کے نذر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ہر غم کو شوخی میں اڑانے والے غمِ شبیر میں خون ِ جگر بہانے کی تمنا کرتاہے۔
غمِ شبیر  سے سینہ ہو یہاں تک لبریز
کہ رہیں خونِ جگر سے مری آنکھیں رنگیں
 غالبؔکی نظر میں امام حسینؑ وہ عظیم ہستی ہے کہ جو خالقِ دو جہاں کی محفل ِکائنات کی رونق ِ محفل ہے کیونکہ انہی کی نورانی وجود سے یہ انجمن ِ ہست و بود روشن ہے۔
میر انیس تو فکر و خیال کی اپنی پوری کائنات لے کر دشتِ کربلا کے ایک کونے میں یوں خیمہ زن ہو ئے کہ پھر وہاں سے کبھی ہٹنے کا نام نہیں لیا۔ اور زندگی بھر وہیں کے وہیں رہے۔اس گلشنِ کرب و بلا کی بلبل کی پوری زندگی تو داستانِ کربلا سناتے سناتے گزری۔ مر کر بھی وہ اس وابستگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے ہیں۔
مرقد میں انیس نہ کفن میں ہو گا
وہ روضۂ سلطانِ زمن میں ہوگا 
چل کر گلزارِ کربلا میں ڈھونڈیں 
بلبل کا مزار بھی چمن میں ہوگا
میرزا سلامت علی دبیر ؔنے شیرِ کربلا یعنی عباسِ دلاور کی میدان ِ جنگ میں آمد کا سماں باندھا توپرشکوہ الفاظ کا ایک ریلا ان کے سرچشمہ ٔ فکر و فن سے چل نکلا جس نے مظلومیت کی اس داستان میں بہادری اور جواں مردی کے پہلو کی خوب منظر کشی کی۔ 
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے
 امام حسین ؑعلامہ اقبال کے فکر و فلسفہ کی زندہ علامت ہیں۔اقبال نے کربلا کو رزمگاہِ حیات اور تمنائے شہادت کا بہترین نمونہ قرار دیا۔علامہ نے منفرد زاویہ نگاہ سے کربلا کو دیکھا وہ کربلا کو محض دکھ کی داستان نہیں سمجھتے بلکہ خانقاہی دین کے برعکس جذبۂ قربانی و حریت کا ایک استعارہ قرار دیا۔
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ رسمِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
اقبال کی نظر میں کربلا رزمگاہِ عشق،مقامِ شہادت پرور،معراجِ مومن ،اتحادِ امت کے لئے محور و مرکز ،غلامی سے متنفر حریت پسندوں کے لئے تربیت گاہ ہے۔ کربلا اقبال کے تصورِ امامت کی عملی جلوہ گاہ ہے کہ جس میں ’’امامِ برحق اپنے جانثاروں کو حاضرو موجود سے بیزار کرےاور انہیں ’’موت کے آئینے‘‘ میں’’ رخِ دوست ‘‘دکھائی دے تاکہ وہ عظیم تر مقصد کو حاصل کر نے کی راہ میں موت کو زندگی پر تر جیح دیں‘‘۔کربلا ایثار و قربانی کی انتہاء ہے۔ 
غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم 
نہایت اس کی حسین ؑ ہے ابتدا ہے اسمائیل ؑ
الغرض امام حسین ؑ کی شخصیت میں علامہ اقبال کو حق پرستی کے تمام تر عناصر ملتے ہیں۔شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی رثائی ادب میں بھی ایک انقلاب کے نقیب بن کر ابھرے۔ان کے شکوہِ الفاظ کو اگر کہیں شایان ِ شان زمین ملی تو وہ زمین ِ کربلا ہی ہے۔ آپ کے ولولہ انگیز جذبات واحساسات اور آرزوئے انقلاب کو جس سرخیل اور رہنما کی تلاش تھی وہ انہیں امام حسینؑ کی شخصیت  کے روپ میں ملا۔
یہ صبح انقلاب کی جو آج کل ہے ضو
یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پَو
یہ جو چراغ ظلم کی تھرا رہی ہے لو
در پردہ یہ حسینؑ کے انفاس کی ہے رو
خلیل الرحمن اعظمی عصری بصیرت کی روشنی میں جب اپنی معاصر دنیا کو دیکھتے ہیں تو انہیں ہر سو کربلا کے مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔اور موجودہ کربلا ئیںبھی ایک حسین ؑکی متقاضی ہیں۔ 
بس اک حسین کا کہیں ملتا نہیں سراغ
لو ہر زمیں یہاں کی ہمیں کربلا لگی
جمیل مظہری کو تحریکِ کربلا سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔اسے دنیا کی ہر تحریکِ آزادی میں صاف طور پر حسینی روح جلوہ گردکھائی دیتی ہے۔
دنیا میں آج کون کسی کا غلام ہے
یہ حریت حسینؑ کا فیضان عام ہے
شبیب رضویؔ نے کلفتوں سے بھری پری دنیاوی زندگی کو کربلا سے یوں تشبیہ دی ہے۔
کتنی بھوکی ہے کتنی پیاسی ہے 
زندگی دشتِ کربلا سی ہے ۔
محسن ؔنقوی کربلا کی اہمیت و افادیت کو اپنے مخصوص لب و لہجے میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
ڈوب کر پار اتارا گیا اسلام
ٓآپ کیا جانیں کربلا کیا ہے
پروین شاکرؔ کربلا کی دوامی درد و کرب کو اس شعر میں ظاہر کرتیں ہیں۔
کوئی مقتل کو گیا تھا مدتوں پہلے مگر
ہے درخیمہ پہ اب تک صورت تصور کون
شہر یارؔ حسین ابن علی کی تحریک کے تئیں موجودہ دور میں اپنی ذمہ داری سے تغافل پر پشیمان ہے۔
حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں
مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں میں بیٹھے ہیں
گزرے تھے حسین ابن علی رات ادھر سے
ہم میں سے مگر کوئی بھی نکلا نہیں گھر سے
۔۔۔۔۔۔(جاری)