تازہ ترین

عہد شکنی ۔ایک سنگین گناہ | وفا کرنا سکون وراحت ہے

فکر انگیز

تاریخ    19 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


سفیہ یوسف
عہد شکنی کوئی عام گناہ نہیں بلکہ ایک بہت ہی سنگین گناہ ہے۔ اسلام میں عہد شکنی کی بڑی ممانیت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سخت تاکید کی ہے عہدوں کو پورا کرنے کی۔ عہد شکنی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’عہد کو پورا کرو، کیوں کہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں انسان جواب دہ ہو گا‘‘ (القرآن)
وعدہ ایک ایسا فعل ہے جو انسان اکثر کسی چیز کو کرنے یا نہ کرنے کے لئے کرتا ہے۔ کبھی رشتوں میں مضبوطی لانے کے لئے انسان وعدہ کرتا ہے۔ اکثر انسان جب بہت خوش ہوتا ہے تو وہ کبھی خود سے، کبھی اپنوں سے تو کبھی اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتا ہے لیکن وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اسکو ہر ایک وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ چاہے وعدہ ہم خود سے کریں، اپنوں سے کریں یا پھر خدا سے کریں ان سب میں ایک ایسا گواہ موجود ہوتا ہے جسکی گواہی دنیا کی کوئی طاقت نہیں جھٹلا سکتی ہے اور وہ ہے خود اللہ تعالیٰ۔ اللہ تعالیٰ گواہ ہے ان تمام وعدوں کا جو انسان کرتا ہے اور اگر انسان یہی بات یاد رکھیں گا تو وہ وعدہ کبھی نہیں توڑے گا اور وعدہ کرنے سے پہلے وہ ایک نہیں بلکہ ہزار مرتبہ سوچے گا۔
وعدہ کرنا اور اس کو پورا کرنا خود اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتےـــ‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے بندوں سے بہت سارے وعدے کیے ہیں اور وہ انکو پورا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے وعدہ شکنی کبھی نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بہت خوف کھاتے ہیں۔ وعدے کو پورا کرنا یا اسکو توڑنا ایک انسان میں اسکی ایمان کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ وعدہ توڑنے والے کو منافق سے تشبیہ دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔
 اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی ایک نشانی یہ بھی بیان کی ہے کہ وہ اپنے وعدے کبھی پورے نہیں کرتا ہے۔ اب ہم اپنے آپکی طرف نظر دوڑائی گے کہ ہم کہاں تک اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے وعدے ہونگے جو ہم نے کبھی پورے نہیں کیے ہونگے اور ہم انکو بھول بھی گئے ہیں۔ اور ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ ایک منافق کی کیا سزا ہے۔
اگر ہم اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدہ کو توڑ دیتے ہے تو وہ اللہ تعالیٰ اور اس بندے کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ چاہیے تو معاف بھی کردے لیکن جب ہم ایک انسان سے وعدہ کرکے توڑتے ہے تو اس وعدے کے ساتھ ہم اس انسان کا وہ بھروسہ بھی توڑ دیتے ہے جو اس انسان کا ہم پر ہوتا ہے اور اس انسان کو ایک گہرری چوٹ لگ جاتی ہے اور وہ دوبارہ کسی انسان پر بھروسہ بھی نہیں کرپاتا اور کئی بار وہ ذہنی مریض بن جاتاہے۔کیونکہ ہم بھول جاتے ہے کہ جس شخص سے ہم نے وعدہ کیا تھا اس وعدے کے ساتھ اس انسان کا بھروسہ، احساسات اور جذبات جڑے ہوتے ہیں جو اس وعدے کے ساتھ ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور وہ انسان اسکو معاف بھی نہیں کرپاتا اور اگر وہ انسان اسکو معاف نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس انسان کو معاف نہیں کریں گا۔  وہ لوگوں میں اپنی عزت بھی گنوا دیتا ہے اور اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اسلئے وعدے اتنے ہی کرنے چاہیے ایک انسان کو جتنے وہ پورے کرسکے تاکہ وہ اپنے ایمان کو نہ کھو بیٹھے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو وعدے پورے کرنے کی صلاحیت دے اور ہمارے ایمان کو مضبوط بناے۔۔۔۔۔آمین
طالبہ جامعتہ البنات
Sofisufaya1999@gmail.com
 

تازہ ترین