تازہ ترین

تعلیمِ نسواں کی اہمیت | مسلم معاشرہ کی ذمہ داریاں

فہم و فراست

تاریخ    19 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


فاطمه كبروی
موجودہ دور میں تعلیم نسوان کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ لہٰذا ان کی تعلیم و تربیت قوم اور معاشرے دونوں کی ترقی اور بھلائی کے لیے ناگزیر ہے۔
 لفظ ' تعلیم و تربیت دو اجزاء کا مرکب ہے۔ایک تعلیم یعنی سکھانا،پڑھانا،معلومات پہنچانا اور دوسرا تربیت یعنی اچھی پرورش کرنا ،اچھے اخلاق و عادات کا خوگر بنا نا اس لئے تعلیم اور تربیت دونوں اسلام میں بنیادی اہمیت کے حاصل ہیں۔
اسلام کا نظریہ تعلیم و تربیت: اسلام کی نظر میں تعلیم کا مقصد خالص رضائے الہٰی کا حصول ہے، جس کے لیے تعلیم و تربیت دونوں ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظامِ تعلیم دوسرے نظام تعلیم سے منفرد ہے کیوں کہ اس میں تربیت کا بھی تصور پایا جاتا ہے، یہ طلبہ و طالبات کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ نفس کی تربیت کا بھی اہتمام کرتا ہے اور ساتھ ہی انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی کرتا ہے۔
دیگر نظامِ تعلیم صرف ' ایک اچھا شہری بنانا چاہتے ہیں جبکہ اسلامی نظام تعلیم ' ایک اچھا انسان بنانا چاہتا ہے، جس میں تمام اعلیٰ اقدار موجود ہوں، جو کسی ایک مخصوص جغرافيائي خطہ کا نہ ہو بلکہ ایک عالمی شہری ' ہو، کیونکہ قرآن تمام انسانوں کو مخاطب کرتا ہے نہ کہ کسی ایک خطہ کو۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے تعلیم و تربیت کو ابتدا ہی سے بنیادی اہمیت دی اور حصول علم کو مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں ولازمی قرار دیا۔ قرآن و حدیث میں علم کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حصول علم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی، اس کا آغاز بھی لفظ اِقرأ( پڑھو )سے ہوا۔ایک اور جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون (سورة الزمر)’’ان سے پوچھو کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ ‘‘
احادیث میں بھی علم کی فضیلت کثرت سے بیان کی گئی ہے ۔آپ نے فرمایا:  طلب العلم فريضة على كل مسلم (ابن ماجه)’’ہر مسلمان پر خواہ وہ مرد یا عورت علم حاصل کرنا فرض ہے‘‘۔مگر یاد رہے کہ علم کے ساتھ ساتھ عمل بھی ضروری ہے ورنہ علم بغير عمل کے وبالِ جان بن جائے گا ۔
اسلام میں تعلیمِ نسواں: اسلام طبعی و اہلیتی دائرہ بندی اور صنفی ضروریات کے امتیاز کی بنا پر مرد عورت کو یکساں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے باوجود عورتوں کی تعلیم، نصاب تعلیم، مقاصدِ تعلیم اور اسلوبِ تعلیم میں فرق ہے۔ 
اسلام میں تعلیمِ نسواں کا مقصد ایسی تعلیم ہے جو نسوانی زندگی اور نسوانی مقاصدِ حیات سے ہم آہنگ ہو اور جو عورت کو ایک باکردار وہمدرد ماں، صالح و نیک بیٹی، وفاشعار بہن اور فرمابردار بیوی بنائے۔قرآن کریم نے اسی کو کچھ اسطرح بیان کیا ہے:فالصٰلحٰت قٰنتٰت حٰفظٰت للغيب بما حفظ الله (سورة النساء) 
’’جو نیک عورتیں ہیں وہ فرمانبردار ہوتی ہیں، مردوں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت اور نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔
ایک حدیث میں رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ سنو تم میں سے ہر شخص نگراں ہے۔ اس سے( روز قیامت ) اپنی اپنی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ایک مرد اپنے گھر والوں کا نگراں ہے۔ اس سے اسکی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگراں ہے، اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔ غلام اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے ،وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے۔ سنو! تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور اس سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ’’( بخاری:۸۹۳) 
اسی مقصد کی بنیاد پر اسلام نے عورتوں کو تعلیم و تربیت میں مردوں کے برابر قرار دیا اور ان کے لیے تعلیم لازمی قرار دے کہ وہ بھی شریعت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں،البتہ پردہ اور مرد و زن کے اختلاط کے قوانین بھی ان کو بتا دیئے کہ معاشرے میں بگاڑ اور بے راہ روی پیدا نہ ہو ۔اسی وجہ سے آپ نے خواتین کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ فرمائی اور سورۃ البقرہ کی آیات کے متعلق فرمایا :’’تم خود بھی ان سے سکھاؤ اور اپنی خواتین کو بھی سکھاؤ‘‘۔(سنن دارمی ۳۳۹) 
اسی طرح آپ وفود کو بھی نصیحت فرماتے کہ :تم اپنے گھروں میں واپس جاؤ،اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہو،ان کو دین کی تعلیم دو اور ان سے احکام دینی پر عمل کراؤ ( صحیح بخاری)
 آپؐ نے ہفتے میں ایک دن صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص کیا تھا۔اس دن خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں، اور آپ سے مختلف قسم کے سوالات اور روزمرہ مسائل کا حل پوچھتیں۔اس کے علاوہ آپ نے امہات المومنین کو بھی حکم دے رکھا تھا کہ وہ خواتین کو دینی مسائل سے آگاہ کیا کریں۔
ابتدائی دور اسلام میں پانچ خواتین لکھنا پڑھنا جانتی تھیں: ام کلثوم رضي الله عنها.عائشہ بنت سعد رضي الله عنها،مریم بنت مقداد رضي الله عنها، شفاء بنت عبداللہ رضي الله عنها،اور ام المومنین حضرت عائشہ رضي الله عنها،حضرت شفائ رضي الله عنها،حضرت حفصه رضي الله عنهاکو کتابت سکھاتی تھیں تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خوش خطی بھی سکھاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان توجہات کا نتیجہ تھا کہ تمام اسلامی علوم و فنون مثلا ًتفسیر حدیث فقہ و فتاویٰ، خطابت ،شاعری اور طب و جراحت میں بے شمار صحابیات نے کمال حاصل کیا (بلاذری :انساب الاشراف)
عہد نبوی کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بھی خواتین کی تعلیم و تربیت کی طرف بھرپور توجہ دی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بن خطاب نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کردیا تھا:علّموا نساؤكم سورة النور( الدر المنثور)  ’’اپنی خواتین کو سورۃ النور سکھاؤ کہ اس میں خانگی ومعاشرتی زندگی کے متعلق بے شمار مسائل اور احکام موجود ہیں‘‘۔
افسوس کہ قرآن وسنت کی اتنی تاکید کے باوجود بھی آج ہم لوگ لڑکیوں کی تعلیم کی طرف سے غافل ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی بچیوں سے نوکری نہیں کرانی ہے یا اپنی بیویوں کی کمائی نہیں کھانی ہے ، لہٰذا ان کو تھوڑی بہت تعلیم دلانا کافی ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک عورت کو تعلیم دلانا پورے خاندان کو تعلیم دلانا ہے کیونکہ ماں کی گود ہی بچے کی اولین درسگاہ ہوتی ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہوگی تب ہی اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر سکے گی۔ 
بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اس سے لڑکیاں بگڑ جاتی ہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سرے سے تعلیم ہی نہ دلائی جائے بلکہ ان کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ کہیں بھی جائیں لیکن وہ تبدیل نہ ہوں اور پھر یہ بھی کہ تعلیم کے بعض شعبوں میں مسلم خواتین کا آنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اگر خاتون ڈاکٹر نہ ہو تو مسلم خواتین کو لامحالہ مرد ڈاکٹروں سے علاج کرانا ہوگا اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے سامنےقابلِ ستر اعضاء کھولنے پڑیں گے۔ ایسے ہی تعلیم یافتہ عورت شوہر کے انتقال کے بعد نوکری کر کے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کی گاڑی آسانی سے کھینچ سکتی ہے۔ 
خواتین کا اسلامی تعلیمات سے غفلت کا نتیجہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ،مختلف شرک وبدعات، والدین اور دوسرے لوگوں کے حقوق سے ناواقفیت، شوہر کے عدم اطاعت، اس سے غیر ضروری مطالبات کر کے ناک میں دم کرنا ، اولاد کے لیے جادو ٹونا ،ایک دوسرے پر لعن طعن ،غیبت، فیشن وعریانیت ،بے حجابی اور فضول رسم و رواج کی مرتکب ہوتی ہیں ۔اس  کے برعکس ایک تعلیم یافتہ عورت صحیح وغلط ، حق و ناحق اور جائز و ناجائز کی نہ صرف تمیز کرتی ہے بلکہ اپنی زندگی میں آنے  والے تمام مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرتی ہے۔ 
آخری بات یہ کہ موجودہ مخلوط تعلیمی نظام کی خرابیوں اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام مسلم والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر میں اپنے طور پر اولاد کو (خواہ وہ ان کو مدارس میں پڑھائیں یا انگلش میڈیم اسکولوں میں) ابتدائی پانچ سال اسلامی نکتہ نظر سے یکساں تعلیم دیں۔ ان کے دل و دماغ میں عقیدۂ توحید، رسالت ِآخرت اور قرآن و سنت کی اہمیت نقش کر دی جائے۔ حقوق اللہ، حقوق العباد ، نیکی اور بدی میں فرق ، سچائی صفائی، وقت کی پابندی محبت اور ایثار کا سبق دیا جائے تاکہ وہ آگے اپنی زندگی صاف ستھری اور پاکیزہ اسلامی طریقے سے بسر کر سکیں۔ 
جب بچیاں پانچ سال سے زائد کی ہو جائیں تو ان کی تعلیم میں عربی زبان ضرور رکھی جائے تاکہ قرآن و حدیث پڑھ اور سمجھ سکیں گے اور ان کے عقائد، اخلاق اور حیا و کردار میں پختگی آئے تاکہ بعد میں وہ جب کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قدم رکھیں،وہ بجائے خود متاثر ہونے کے دوسروں کو متاثر کرسکیں۔ 
بدقسمتی سے ہمارے یہاں قرآن و حدیث پڑھنے پر تو زور دیا جاتا ہے لیکن سمجھنے پر نہیں.جب لڑکیاں گریجویشن لیول پر پہنچے تو ان کو گھر میں ایسی تعلیم دی جائے جو بچوں کی پرورش، و تربیت اور سیرت سازی میں معاون ثابت ہو سکتے۔ لہٰذا ان کو وہ امور ضرور سکھانا چاہیے جو ساری عمر گھرمیں انجام دینے ہیں ۔ مثلاًامور خانہ داری، ابتدائی طبی امداد یا فرسٹ ایڈ  دینے کا طریقہ اور دفاعی ٹریننگ وغیرہ جس کی فساد میں بہت ضرورت پڑتی ہے ۔ الله تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ الله پاک ہم سب کو نفع بخش علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین 
جس علم کی تاثير سے زن ہوتی ہے نازن 
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
سومبرن نوگام شانگس اننت ناگ
������

تازہ ترین