تازہ ترین

اُردو اَدب میں نعت گوئی –

معلومات

تاریخ    6 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر داؤد احمد
نعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تعریف و توصیف کے ہیں لیکن عربی ،فارسی،اردو اور مسلمانوں کی دوسری زبانوں میں لفظ نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف اور مدح کے لئے مخصوص ہوگیا ہے۔اب جب بھی ہم نعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ پارۂ شاعری ہے، جس میں سرور کونین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات کی توصیف و مدح کی گئی ہو۔
نعت کے لئے کوئی مخصوص ہیئت مقرر نہیں ہے۔یہ کسی بھی صنف سخن کی ہیئت میں لکھی جا سکتی ہے۔یہ صنف سخن قصیدہ اور مثنوی بھی ہوسکتی ہے ۔غزل،قطعہ،رباعی یا کوئی اور صنف سخن بھی ہوسکتی ہے۔
حضرت ِنبی کریم ؐکی ذات و صفات کے منظوم اظہار کا نام نعت ضرور ہے اور بادی النظر میں بہت آسان بھی ہے لیکن حقیقتاً یہ مشکل اور نازک ہے۔ سہل اس اعتبار سے کہ سرکار دوعالمؐ سے خلوص و محبت کے نتیجے میں ہونے والے جذبات و احساسات کو شاعر کسی بھی صنف شاعری میں نظم کرسکتا ہے لیکن نازک اور مشکل اس لحاظ سے ہے کہ شاعر کو تخلیقی عمل کی تکمیل تک بہت محتاط رہنا پڑتا ہے کیوں کہ خالق کائنات کی حمد و ثنا ہو یا مدحت رسول ،دونوں اصناف سخن مسلمانوں کے نزدیک عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔
نعت گوئی کا آغاز سب سے پہلے عربی زبان میں ہوا اور عربی سے اس کا رواج فارسی ،اردواور دیگر دوسری زبانوں میں ہوا۔دیگر اصناف شاعری میں بحر و اوزان کے مختلف ضحافوں میں لفظوں کے دروبست سے کام چل جاتا ہے لیکن نعت واحد موضوع ہے جو اپنے دامن پر ذرہ برابر دھبہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔سخنوروں کو دوران تخلیق دماغ کی ساری چولیں ہلانا پڑتی ہیں۔ ان کی ذرا سی بے احتیاطی تمام ریاض و کاوش کا خون کرسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اردو کی نعتیہ شاعری کو ہر دور میں حسان بن ثابت،خاقانی،فردوسی،سعدی،نظامی،قدسی،عرفی،جامی اور رومی جیسے عظیم المرتبت شاعروں کی تلاش رہی ہے کہ انھوں نے سرکار دوعالم کی عقیدت و محبت میں جنم لینے والے پاکیزہ خیالات و افکار کو تخلیقی عمل کی تکمیل تک معبود و عبد ،وحدانیت و عبودیت ،خلاقیت،بشریت اور فطرت و نفسیات آدمیت میں فرق، توازن، رتبے اور مقام کا ہر لحظہ خیال رکھا ہے۔
اردو شاعری کے تقریباً تمام ادوار میں شعرا نے نعت کو موضوع فکر بنایا۔غزل کی ہیئت ہو یا نظم کی کوئی بھی خارجی شکل،نعت کا موضوع اپنے مکمل خد و خال کے ساتھ نمایاں نظر آتا ہے۔تاہم ایسی نعتوں کی اردو شاعری میں ہمیشہ کمی رہی جن میں خالق و مخلوق ،آقا و بندے کے مرتبے اور درجے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اظہار عقیدت کیا گیاہو۔گویا  اس امر کا بہت کم خیال رکھا گیا ہے کہ نعت اور حمد کی حدود ایک نہ ہونے پائیں۔اس افراط و تفریط کا ایک سبب تو یہ ہے کہ نعت گو حضرات کا ایک محدود حلقہ جو نعت کے فن سے اصلاح معاشرہ کا کام لینے کا قائل ہے،سرکار دوعالمؐ کی سیرت نگاری پر اپنے نعتیہ کلام کی عمارت استوار رکھتا ہے اور دوسرے طبقے کی اکثریت سراپا نگاری کو فن کی بنیاد بنائے ہوئے ہے۔اس طرح نعت نگاروں کے امور ذہنیہ واردات قلبیہ کی بہت سی سمتیں اور الگ الگ جہتیں ،بیک وقت ہمارے تجربات و مشاہدات کا حصہ بن جاتی ہیں۔
جہاں تک نعت گوئی سے معاشرہ کی اصلاح ،تہذیب معاشرت،سماجی برائیوں کے انسداد،عظمت انسانیت کا فروغ اور اشاعت و تبلیغ دین کا کام لینے کا تعلق ہے ،اس بارے میں اردو نعت نگاروں کا وہ طبقہ قابل صد تحسین بھی ہے اور قابل پزیرائی بھی ،جن کی مذہبی و دینی موضوعات پر مشتمل فکری کاوشیں بالخصوص نعتیں مذکورہ بالا افادی تقاضوں کی مکمل طور پر آئینہ دار ہیں اور جو سردار انبیاء کے اسوۂ حسنہ اور سیرت طیبہ کو اپنی نعتیہ شاعری کا بنیاد ی مو ضوع بنائے ہوئے ہیں۔نعتیہ شاعری ،مذہبی شاعری کے اولیات میں شامل ہے جس کا تعلق دینی احساس ،عشق رسول اور صدق و اخلاص سے ہے۔قرآن و حدیث ،مضامین نعت کے بنیادی مآخذ ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ نے’’خلق محمدی‘‘ کی تعریف میں ’’خلقہ القرآن ‘‘ کہہ کر پوری آسمانی کتاب کو نعت کے موضوع سے متعلق کر دیا۔
نعت گوئی اردو شاعری کی اعلیٰ ترین قدروں میں شمار ہوتی ہے۔اس کا تعلق چونکہ اس ذات اقدس سے ہے جس ذات اقدس نے صدیوں کی تاریک دنیا کو انسانیت اور تہذیب کے سورج کا اجالا بانٹا ،جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے :  ’’  بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔‘‘ نعت گوئی یوں تو بہت آسان لگتی ہے لیکن غور سے جسم و دل وا کرکے دیکھئے تو بہت مشکل کام ہے ۔چونکہ شاعر کو نعت کہتے وقت اس کا پاس و لحاظ رکھنا از حد ضروری ہے کہ آداب شریعت بھی اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹیں اور آداب عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے دل و دماغ مامور ہوں۔
دیگر زبانوں کی طرح اردو شاعری کو بھی نعت گوئی میں ممتاز مقام حاصل ہے اور اردو شعرا ء نے اس صنف میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔بقول مولانا سید ابو الحسن علی ندوی :’’نعت گوئی عشق رسول اور شوق مدینہ ہندوستانی شعراء کا محبوب موضوع رہاہے اور فارسی شاعری کے بعد سب سے بہتر اور سب سے موثر نعتیں اردو ہی میں ملتی ہیں‘‘۔
نعت گوئی میں نہ صرف زبان دیکھی جاتی ہے اور نہ بیان پر نظر جاتی ہے ،نہ فنی نکات تلاش کئے جاتے ہیں ،اس کی روح صرف اخلاص اور محبت رسول ہے۔اگر بات دل سے نکلی ہے تو دلوں پر اپنا اثر چھوڑتی ہے اور بارگاہ رسالت مآب میں وہ نذرانۂ عقیدت اور محبت قبول ہوجائے تو اشعار کو حیات جاویدانی نصیب ہوجاتی ہے جیسے فارسی میں سعدی، شیرازی، عبد الرحمٰن جامی،محمد جان قدسی وغیرہ کی بعض نعتیں اس کی شہادت دے رہی ہیں۔
نعت گوئی کا اولین محرک مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ آنحضرت کا ذکر کرنا،آپ کی سیرت و شخصیت سے عوام کو روشناس کرانا،آپ کی پیروی و تقلید کی ترغیب دینا اور آپ پر درود وسلام بھیجنا کار ثواب اور ذریعۂ نجات ہے۔ مسلمان چھٹی صدی عیسوی میں اپنے انقلاب آفریں عقائد کے ساتھ عرب کی سرزمین سے نکل کر دوسرے علاقوں میں آباد ہوئے اور توحید و رسالت کا آفاقی پیغام دیتے رہے۔عربی فارسی اور دیگر زبانوں کا شاید ہی کوئی مسلمان شاعر ایسا ہو جس نے نعت کی صورت میں حضور سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار نہ کیا ہوبلکہ اکثر غیر مسلم شعرا نے بھی اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔جہاں تک روایتی نعتیہ شاعری کے موضوعات کا تعلق ہے ان میں آنحضرتؐ کی حیات طیبہ اورسیرت کے توسط سے انسانی زندگی کے تمام اخلاقی،مذہبی،تہذیبی،معاشرتی،معاشی اور سیاسی مباحث بھی شامل کئے گئے ہیں۔حضور کے حلیۂ اقدس ،معجزات،واقعہ معراج کے ساتھ ساتھ آپ کے فضائل،سیرت،معمولات،عبادات،آداب مجالس اوردیگر اوصاف حسنہ،غرض آپ کی حیات کے ہر پہلو پر بڑی عقیدت و محبت سے معمور ہوکر قلم اٹھایا گیا ہے۔
نعت گوئی کا سفر عرب سے ایران اور پھر ہندوستان تک پہنچا۔حضرت امیر خسرو،حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز، قلی قطب شاہ،ولی دکنی،سراج اورنگ آبادی،امیر مینائی اور محسن کاکوروی سے لیکر الطاف حسین حالی ، علامہ اقبال،احمد رضا خان بریلوی،مولانا ظفر علی خان،محمد علی جوہر،حفیظ جالندھری اور ماہر القادری تک نے نعت نگاری میں نئے نئے مضامین کا اضافہ کیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں سب سے پہلے جس نے زبان کھولی وہ آنحضرت کے مربی و محسن عم نامدار ابو طالب ہیں۔سیرت النبی میں ابن ہشام نے ایک قصیدہ کے سات شعر نقل کئے ہیں جس میں ابوطالب نے پرجوش اشعار میں نبی کریم کی مدح کی اور اپنے خاندان (بنو ہاشم) کی خصوصیات کا ذکر کیا۔اردو عربی کے ممتاز ادیب و ناقد اور دارالعلوم ندوہ العلما کے سابق معتمد التعلیم مولانا عبد اللہ عباس ندوی نے اپنی کتاب ’’ عربی میں نعتیہ کلام‘‘ میں دنیائے ادب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’  ابوطالب وہ پہلے شخص ہیں جن کی زبان مبارکہ سے سب سے پہلے آپ کے لئے مدحیہ اشعار نکلے۔‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے نعت گوئی کا رواج شروع ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور پھیلتا چلا گیا۔عربی نعت کے زیر اثر فارسی زبان میں بھی نعت گوئی کا آغاز ہوا۔فردوسی کے شاہنامہ میں نعتیہ اشعار موجود ہیں۔ابو سعید ابو الخیرکی رباعیات میں نعتیہ کلام موجود ہے۔ان کے علاوہ حکیم سنائی،فرید الدین عطار،نظامی،مولانا روم ، سعدی شیرازی ،امیر خسرو،مولانا جامی،عرفی اور قدسی وغیرہ  فارسی نعت گو شعرا ہیں۔
امیر خسرو  برعظیم ہند و پاک کی وہ عظیم اور زندۂ جاوید شخصیت ہیں۔ ان کی نعتیں آج بھی محفل حال و قال اور محفل میلاد میں شوق سے سنی جاتی ہیں۔حضرت امیر خسرو کے بعد مولانا جامی ،عرفی اور قدسی کے نام نامی آتے ہیںجن کا کلام آج بھی محفل سماع و میلاد میں سن کر عاشقان رسول اشک بار ہوجاتے ہیں۔عربی و فارسی شاعری کی  عظیم روایت نے اردو نعت گوئی کو بھی شدت سے متاثر کیا اور جب سے اردو شاعری کا آغاز ہوا ،نعتیہ شاعری کسی نہ کسی صورت میں ہمیں ملتی ہے۔نعتیہ اشعار حسن شوقی کے ہاں بھی ملتے ہیں اور قلی قطب شاہ کے ہاں بھی۔ملا وجہی اور نصرتی کے ہاں بھی ملتے ہیںاور ولی دکنی اور سراج اورنگ آبادی کے ہاں بھی۔گذشتہ چار پانچ سوسال کے عرصے میں لکھے جانے والے معراج نامے،نور نامے،تولد نامے ،وفات نامے آج بھی کثیر تعداد میں مختلف کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔نعتیہ شاعری سوداؔ و میر دردؔ کے کے ہاں بھی اپنا رنگ دکھاتی اور دلوں کو گرماتی ہے اور نظیرؔ اکبرآبادی اور غالبؔ کے ہاں بھی ۔لیکن وہ شعرا  جنھوں نے خصوصیت کے ساتھ نعت گوئی کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ بنایا ان میں کرامت علی خان شہیدی کا نام نعت گوئی کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے ۔
کم و بیش اُسی دور کا ایک اور نام مولوی غلام امام شہید کا ہے۔شہید سراپا عشق تھے اور انھوں نے مختلف اصناف سخن مثلاً قصیدہ،غزل،مثنوی،خمسہ،ترجیع بند میں صرف اور صرف نعتیہ کلام لکھا۔جذب و شوق اور قدرت اظہار نے ان کی شاعری کو پر اثر بنا دیا ہے۔حکیم مومن خاں مومنؔاردو میں منفرد عشقیہ شاعری کی وجہ سے مشہور ہیں لیکن انھوں نے نعتیہ شاعری میں جس انداز سے عشق رسول کا اظہار کیا ہے وہ بھی منفرد و ممتاز ہے۔
امیر مینائی کے سارے کلام میں نعتیہ اشعار ملتے ہیں لیکن’’ محامد خاتم النبین‘‘  ان کا نعتیہ دیوان ہے۔
نعت گو شعرا میں محسنؔ کاکوروی سب سے الگ حیثیت کے مالک ہیں۔انھوں نے ساری عمر صرف اور صرف نعتیہ شاعری کی ۔
محسن کاکوروی کے ہم عصر اور ان کے بعد کے شعرا میں مولانا الطاف حسین حالیؔ بھی خاص اہمیت کے حامل ہیں۔انھوں نے نعت کو امت مسلماں کی اصلاح و بیداری کے لئے استعمال کیا۔یہی وہ لے ہے جو علامہ اقبالؔ کی شاعری میں ایک نئے انداز سے جلوہ گر ہوئی ۔علامہ اقبال کا سارا کلام مدحت رسول کا موثر اظہار ہے ۔انھوں نے اپنے کلام میں دین اسلام کی روح کو اس طرح نعت کا رنگ دیا ہے کہ خود اقبال ملت اسلامیہ کی نشاہ الثانیہ کی علامت بن گئے ہیں۔یہ تعارف نامکمل رہ جائے گا اگر مولانا ظفر علی خاں کا ذکر نہ کیا جائے۔مولانا کے ہاں نعت گوئی میں موضوعات کا تنوع بھی ہے اور اسا لیب کی وسعت بھی۔ ان کی نعتیں محفلوں میں عام طور پر محویت کے ساتھ سنی جاتی ہیں۔اس دور میں اور اس کے بعد جن دوسرے شعرا نے نعت گوئی میں نام پایا ۔جس وقت ادب میں اشتراکیت ،ترقی پسندی اور جدیدیت کی تحریکوں کے اثرات واضح طور پر موجود تھے ،اس فضا میں بھی نعت گوئی نے اپنا روحانی اور تخلیقی سفر جاری رکھا۔ترقی پسند شعرا نے بھی نعتیہ اشعار کہہ کر اپنی فکری عقیدت کا اظہار کیا۔ بیسویں اور اکیسویں صدی کا موازنہ کریں تو نعت اپنے فکر و فن ،اظہار،لفظیات اور موضوعات کے اعتبار سے ہٹ کر عصری مسائل کو بھی نعت میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کا حل حضور کی سیرت مبارکہ اور حیات صالح میں تلاش کیا جاتا ہے۔
حضورؐ کی ذات و صفات کا احاطہ کرنے کے لئے ہر عہد کے شعرا نے اپنی ذہنی اور قلبی صلاحیتوں سے کام لیا اور اپنے عہد کے لحاظ سے اس میں معنویت اور جدت پیدا کی۔وقت کے ساتھ ساتھ نعت گوئی کی مقبولیت ہمارے دور میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔عام طور پر جلسوں اور تقریبوں  میں تلاوت کلام پاک کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی جاتی ہے۔سرکاری سطح پر بھی نعت گوئی کی سرپرستی کی جارہی ہے ۔ریڈیو اور ٹیلی وژن سے نعتیہ مشاعرے اور کلام نشر کیے جاتے ہیں ۔ہمارے عہد میں نعت میں فکر کی نئی شمعیں روشن ہوئی ہیں۔ متواتر شائع ہونے والے نعتیہ مجموعے اس بات کے گواہ ہیں کہ جدید روایات کے یہ سفیر موضوعات،الفاظ،تراکیب اور تشبیہات کا نیا نظام قائم کرکے نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔دور حاضر میں بھی اکیسویں صدی کے تناظر میں اردو نعت گوئی بدلتے ہوئے فکری رجحانات اور میلانات کی بھر پور عکاسی کر رہی ہے۔ہمارے عہد کی نعت نگاری جدید عصری حسیت کی بھی آئینہ دار ہے۔نعت گوئی کا یہ ذوق نئی نسل کے شعرا میں بھی پروان چڑھ رہا ہے اور وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ نعت گوئی کا مستقبل روشن ہے۔
(اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو،فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی۔جی کالج محمودآباد،سیتاپور(یو۔پی)
Email : daudahmad786.gdc@gmail.com
Mobile : 8423961475
�����