تازہ ترین

گھریلو تشدد اور اسلام

علِم،صبر،محبت اور خوف ِخدا ہی آدمیت ہے

تاریخ    6 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


ندیم احمد میر،کولگام
انسانی معاشرہ کا اولین اور بنیادی ادارہ خاندان ہوتا ہے اور یہ مرد اور عورت کے نکاح کے بندھن میں بندھنے سے وجود میں آتا ہے۔پُرامن سماج کے ليے خوش گوار خاندان کا ہونا اشد ضروری ہے۔اگر افرادِ خاندان کے درمیان تنازعات سر اُبھاریں گے تو سماج امن وامان کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔اسی چیز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلام خاندانی نظام کو صحیح بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے حقوق دیئے تاکہ وہ ان پر پوری ایمان داری کے ساتھ عمل پیرا ہوکر خاندان کے ادارے میں خوشی کی لہر دوڑائیں۔خاندان میں خوشگواری کا انحصار حقوق و فرائض میں توازن برقرار رکھنے پر ہوتا ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں یہ توازن مفقود ہوگیا ہے۔نہ میاں کو اپنے حقوق و فرائض کی خبر اور نہ ہی بیوی کو ان چیزوں کو جاننے کی فرصت ہے۔
اسلام کے نزدیک ازدواجی زندگی کی روح محبت و رحمت ہے۔مرد کی ذمہ داری خاندان کی حفاظت اور نگرانی ہے۔اسلام نے ایک طرف مرد کو نظم وضبط قائم رکھنے کے لئے خاندان میں’’ناظم ‘‘کا منصب عطا کیا تو دوسری طرف عورتوں کو تاکید کی کہ وہ مردوں کی اطاعت کریں تاکہ خاندان کا نظام درست اور چاق و چوبند رہے۔مرد کو ’’قوام‘‘ بنائے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے اختیارات کو زیادتی کے لئے استعمال کریں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو خاندانی اصلاح کے لئے استعمال کریں۔اسلام چاہتا ہے کہ میاں بیوی کا تعلق مہر و محبت کی بنیاد پر دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہو۔عورت مرد کے ليے ذریعہ سکون ہے لیکن دورِ حاضر میں اکثر مردوں نے عورتوں کو اپنے لئے تفریح(Entertainment) کا ذریعہ سمجھا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زندگی کا پورا نقشہ ہی بگڑ کر رہ گیا اور دونوں (میاں بیوی )کی زندگی سکون کا غارت ہوکر رہ گیا ہے۔اطمینان و سکون کافور ہوا ہے۔یہی چیز بالآخر ڈپریشن(Depression) پیدا کرکے پورے خاندان کو پُر سکون نیند سے محروم کر دیتا ہے۔
’’ گھریلو تشدد‘‘(Domestic Violence) ایک عصری اصطلاح ہے جو کہ حقوقِ نسواں کے علمبرداروں نے عورت کی مظلومیت اور اس پر ہورہے ظلم ، تشدد و تسلط دیکھ کر اُسے رہائی دلانے کے لئے وضع کی ہے۔اس اصطلاح کا اندازہ اس کی تعریف سے کیا جا سکتا ہے۔امریکہ کے ایک سرکاری ادارے US Office on Violence against women نے گھریلو تشدد کی یہ تعریف کی ہے:
“Pattern of abusive behaviour in any relationship that is used by one partner to gain or maintain power and control over another intimate partner”
اس مضمون میں ہم اس گھریلو تشدد پر بات کرنا چاہتے ہیں جو شوہر و بیوی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مرد جب اپنے اختیارات کو زیادتی کے لئے استعمال کرتا ہے تو خاندان میں  زلزلہ آجاتا ہے۔موجودہ دور میں ہر کوئی مثالی خاندان کے لئے ترس رہا ہے۔گھریلو تشدد  کے معاملےمیں آج کا مسلمان مرد بلا خوف و تردد کے اسلامی حدود کو توڑتے ہوئے نظر آرہا ہے۔جبکہ یہی گھریلو تشددایک مضبوط خاندان کے بننے میں بہت بڑی رکاوٹ کے ساتھ موجودہ دور کا بہت بڑا اِشو بھی بن گیا ہے۔یہی وہ چیز ہے جو پورے خاندان کے عزت و وقار کی دھجیاں اڑا دیتا ہے اور انسان کی ازدواجی و خاندانی زندگی کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔بلواسطہ یا بلا واسطہ آج کل شوہر کی جانب سے بیوی پر ہر قسم کا تشدد ہو رہا ہے اور ہمارے معاشرے میں بہت ساری عورتوں نے اسی بنیاد پر بار بار مرنے کے بجائے خود کشی کے ذریعے سے ایک ہی بار اپنا کام تمام کر دینے کا وطیرہ اپنایا ہے۔World Bank کی ایک رپورٹ میں عورتوں کے اسبابِ موت میں گھریلو تشدد کو کینسر کی طرح خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
اس مظہر پر اقوام متحدہ کے ایک نمائندہ Yakin Erturk(Special rapporteur on violence against women) نے یوں روشنی ڈالی ہے:
“Violence against women is a universal phenomenon that persist in all countries of the world,and the perpetrators of that violence are often wellknown to their victims”
موجودہ دور میں گھریلو تشدد نے ایک سنگین مسئلے کی شکل اختیار کی ہے۔دنیا کے تمام ممالک اس سے پریشان ہیں اور دن رات جی جان سے اس پر قابو پانے میں کوشاں ہیں اور مختلف تدابیر اختیار کر رہے ہیں لیکن بظاہر اس کے حل ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ایسی صورت میں اسلام چیلنج دے کر سامنے آتا ہے اور اگر واقعی طور پر اسلامی تعلیمیات کو اپنایا جائے تو بہ خوبی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔موجودہ دور میں جن مصیبتوں نے انسان کو آگھیرا ہے،ان سے نجات پانافطرت کی طرف رجوع کرنے میں ہی پنہاں ہے۔کیونکہ فطرت سے انحراف ہی انسان کے لئے ان مصیبتوں کا سبب بن گیا ہے۔لہٰذا گھریلو تشدد جیسے مسئلے کو بھی دینِ فطرت یعنی اسلام کے ذریعے ہی قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔موجودہ بحران سے نکلنے کا اس کے سوا اور کوئی طریقہ نہیں۔
اسلام نے مردوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کریں۔وہ ان کی خادمائیں نہیں کہ ان کو اپنے سے کمتر سمجھیں،ان کی تحقیر و تذلیل کریں یا ان کو جسمانی یا نفسیاتی اذیتیں دیں۔میاں بیوی دونوں الگ الگ خاندانوں سے آکر ایک نیا خاندان تشکیل دیتے ہیں، لہٰذا ان کے مزاج میں اختلاف ہونا عین ممکن ہے۔ویسے تو ہم تجربے کے طور پر دیکھتے ہیں کہ انسان کو کسی نئی جگہ پر ایڈجسٹ ہونے کے لئے کافی وقت لگتا ہے اور یہ چیز ہر ایک شوہر کو اپنےگھر نئی بیوی لانے کے بعد مدِ نظر رکھنا  ضروی ہے۔انسان کو اپنے آپ میں تبدیلی لانے کے لئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے اور پائیداری اور دور رس تبدیلی کے لئے یہی راستہ فطرت کے عین مطابق ہے۔اس کے برعکس مصنوعی تبدیلی کی عمر کم ہی ہوتی ہے اور یہ فطرت سے انحراف کا راستہ ہے جو کہ عین وقت اپنا چہرہ دکھاتا ہے۔اس لئے مزاج کے اختلاف کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر شوہر کو بیوی کی کوئی بات یا کوئی رویہ ناگوار گزرتا ہو تو اس سے نفرت کے بجائے محبت،دل لگی،شائستگی اور ہمدردی کے ساتھ پیش آنا چاہئیے۔ اسی طریقے میں خاندانی نظام کی خوشحالی کا راز پوشیدہ ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نکاح کرنا آسان ہے لیکن نکاح کو نبھانا بہت ہی مشکل کیونکہ نکاح کے ذريعے سے ہی ایک خاندان وجود میں آتا ہے اور اگر خاندانی نظام میں میاں بیوی کی کوتاہی سے کسی قسم کی دراڑ پیدا ہوجائے تو آناً فاناً اس کا اثر پورے معاشرے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتا ہےجو کہ ایک سنگین فعل تصور کیا جاتا ہے،جس کی تلافی کے لیے اللہ تعالٰی کی چوکھٹ پر بار بار حاضری دینی پڑتی ہے اور دینی بھی چاہیئے۔ایک لڑکی شادی کرنے کے بعد اپنے پورا وجود لڑکے کے نام کرڈالتی ہے۔ اسی لیے لڑکے پر نکاح کے بعد اس لڑکی کے بہت سارے حقوق عائد ہوتے ہیں،جن کی ادائیگی ہی سے اس کی ساری زندگی چین و سکون میں بسر ہوسکتی ہے۔ماضی میں ہمارے لئے اس معاملے میں اسلاف نے بہت ہی شاندار نقوش چھوڑے ہیں،جنہیں اپنی زندگی میں لاگو کرنا ہمارے لئے ناگزیر ہے۔میاں بیوی کو آپس میں خوش اسلوبی سے زندگی گزارنے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیئے کیونکہ اُن کے آپس میں اختلاف سے اُنہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینی پڑتی ہے ،جس کی وجہ سے ایک خاندانی نظام بکھر  کے رہ جاتا ہے ۔اسطور ذیل میں ان اسلامی تعلیمات کا تذکرہ کیا جاتا ہے،جو کہ حقیقی معنوں میں گھریلو تشدد کو روکنے میں معاون بنتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(ترجمہ)
 ’’ اور بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کیا کرو اور اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز تم کو ناپسند ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں بڑی بھلائی پیدا کردے‘‘۔(النساء:19)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو‘‘۔  (بخاری:5186)
حضرت ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کوئی صاحب ایمان مرد(شوہر)کسی صاحب ایمان عورت(بیوی)سے نفرت نہ کرے۔اگر اس کی کوئی خصلت اسے بری لگے گی تو دوسری خصلت اس کے نزدیک پسندیدہ ہوگی‘‘۔    (مسلم:1469)
   انسان کے بہترین ہونے کا دارومدار اس پر نہیں ہے کہ وہ پوری دنیا میں سفید پوش جیسا پھرتا رہے اور معاشرے میں اپنی اخلاقیات کا لوہا منوائے بلکہ بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہو اور اپنی عورتوں کے ساتھ سب سے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کر رہا ہو جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:
ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم میں بہتر شخص وہ ہے، جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہو اور میں تم میں بہتر ہوں اپنے گھر والوں کے معاملے میں۔‘‘(ترمذی:3895)
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اہل ایمان میں کامل ترین ایمان والے وہ ہیں،جو اخلاق کے معاملے میں بہتر ہوں اور تم میں بہتر وہ ہیں،جو اپنی عورتوں کے ساتھ سب سے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں۔(ترمذی:1162)
   اسلام نے بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ صریح احکام کے ذریعے شوہروں کو ان پر ظلم و تشدد کرنے سے روکا ہے۔اس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ ہوں:
حضرت عبد اللہ بن زمعہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارے،جس طرح غلام کو مارتا ہے،کیوں کہ پھر وہ دن گزرنے کے بعد اس کے ساتھ شب باشی کرے گا‘‘۔(بخاری :5204)
حضرت لقیط بن صبرہؓ بیان کرتے ہیں:ایک موقعے پر میں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:اے اللہ کے رسولؐ،میری بیوی کی زبان ٹھیک نہیں،یعنی وہ بد زبان ہے۔آپؐ نے فرمایا: اسے طلاق دے دو،میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولؐ،وہ کافی عرصہ میرے ساتھ گزار چکی ہے اور اس سے میرے بچے بھی ہیں۔فرمایا:اسے سمجھاؤ بجھاؤ،اگر اس میں کچھ بھی خیر ہوگا تو وہ تمہاری مرضی کے کام کرنے لگے گی،اپنی گھر والی کو اس طرح ہر گز نہ مارو،جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔         (ابوداؤد:142) 
   حضرت ایاس بن عبد عبداللہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعے پر مردوں کو تلقین فرمائی:لا تضربو اماء ماءاللہ(اللہ کی باندیوں،یعنی اپنی عورتوں کو نہ مارو)۔اسی حدیث میں آگے ہے کہ ایک مرتبہ کئی لوگوں نے اپنی بیویوں کی پٹائی کر دی۔اگلے دن وہ عورتیں ازواج مطہرات کے گھروں میں اکٹھا ہو کر اپنے شوہروں کی شکایت کرنے لگیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک شکایت پہنچی تو آپؐ نے فرمایا:
’’محمدﷺ کے گھر والوں کے پاس بہت سی عورتوں نے چکر لگائے ہیں اور اپنے شوہروں کی شکایت کی ہے۔یہ لوگ تم میں سے اچھے آدمی نہیں ہیں۔“(ابوداؤد:2146)
مذکورہ تعلیمات پر اگر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے تو گھریلو تشدد جیسے سنگین مسئلہ کو آسانی طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جن معاشروں میں ان تعلیمات پر عمل کیا جاتا ہے وہ سچ مچ میں امن و سکون کا گہواره بنتے ہیں اور اس میں رہنے والے تمام افراد ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تمام تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اپنے گھر کو ایک مثالی خاندان میں تبدیل کریں اور بعد میں عام انسانوں کو اسی چیز کی طرف دعوت دیں،اس کے بغیر ہم مضبوط،پُرسکون اور جنت نظیر خاندان اور خوشحال گھر کا تصور نہیں کر سکتے ہیں۔
<mirnadeem243518@gmail.com>