تازہ ترین

سیاحتی شعبہ پٹری پر آنے لگا!

تاریخ    6 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


  عالمی سطح کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی اقتصادیات میں دس فیصد حصہ سیاحتی شعبے سے تعلق رکھتا ہے ۔یہ سیاحت ہی ہے جس پر کئی ممالک کے غیر ملکی زر مبادلہ کی در آمدو بر آمد منحصر ہے۔اس شعبے کے ساتھ دوسرے کئی چھوٹے بڑے شعبے بھی جڑے ہیں جو براہ راست روزگار سے وابستہ ہیں اور یوں موجودہ عالمی سطح کی وبائی صورتحال نے لوگوں کے روزگار کو ہی خطرے میں ڈالدیا ہے۔حالانکہ کروڑوں افراد ، جو دوسرے شعبوں سے روزگار حاصل کررہے تھے پہلے ہی انتہائی بری طرح متاثر ہوگئے ہیں جن میںمہاجر کامگار وںاور مزدوروں کا حال تو 2020سے ہی قابل رحم بنا ہوا ہے۔کورونا وائرس سے پیدا عالمی سطح کی وبائی صورتحال نے دنیا کو اقتصادی اعتبار سے کس حد تک نقصان پہنچایا اُس کے بارے میں پہلے ہی ماہرین نے کئی رپورٹیں منظر عام پرلائی ہیں اور جن میں انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ کی وہ رپورٹ بھی شامل ہے۔ ماہرین کی ایک سروے کے مطابق جن ممالک اور خطوں کی اقتصادیات زیادہ تر سیاحت پر منحصر ہے اُن پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، ان میں زیادہ تر لاطینی امریکہ اور کیریبین ممالک شامل ہیں۔واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر سال کم و بیش دس لاکھ سے زائد سیاح وادی کشمیر کا رخ کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں سے یہاں کے مخصوص حالات کے علاوہ اب گذشتہ دوسال سے کورونا کی صورتحال کی بدولت اب یہاں شاذ و نادر ہی غیر ملکی سیاح دیکھے جارہے ہیں۔کشمیر میں شعبہ سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ بھی ایک زمانہ تھا جب غیر ملکی سیاح کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کیلئے بیتاب نظر آتے تھے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، ہوٹلوں کے کمرے خالی پڑے ہیں، مشہور ڈل جھیل میں کشتیوں میں سیاح نہیں ہیں اور گلمرگ اور پہلگام کی وادیوں میںکچھ عرصہ قبل تک سناٹا چھایا ہوا  تھا۔اب یہاں سیاحتی شعبے سے وابستہ سبھی افراد یعنی شکارا والے، ہائوس بوٹ مالکان، ٹیکسی ڈرائیور، ہوٹل مالکان اور گھوڑے بان حکام کی اس یقین دہانی کے ساتھ جی رہے ہیں کہ اس سال اُن کی اچھی خاصی کمائی ہونے والی ہے کیونکہ سیاحت کا شعبہ پھر سے ڈگر پر آنے لگا ہے اور کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بے شک گزشتہ دنوںوزیر اعظم کے ٹویٹ نے ان سبھی افراد کی اُمیدوں کو یقین کی حد تک بڑھایا ہے اور سیاحتی شعبے سے وابستہ ہر فرد یہی اُمید لگائے بیٹھا ہے کہ اُن کا طویل انتظار اب ختم ہوگا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اب واقعی یہ انتظار ختم ہورہا ہے کیونکہ آج کل کشمیر کے کم وبیش سبھی سیاحتی مقامات پر کم تعداد میں ہی سہی لیکن سیاحوں کو دیکھاجاسکتا ہے تاہم ان میں بیشتر سیاحوں کی تعداد ملکی ہے کیونکہ بین الاقوامی ہوائی سفر پر بدستورقدغنیں عائد ہیںتاہم امید افزا پہلو یہ ہے کہ سیاح پھر کشمیر آنا شروع ہوچکے ہیں اور اگر کورونا کے حالات بتدریج بہتر ہوتے چلے گئے تو یقینی طور پر آنے والے دنوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ہمیں یہ نہیںبھولنا چاہئے کہ کشمیر کی معیشت کا انحصار کافی حد تک سیاحتی شعبہ پر ہی ہوا کرتا تھا کیونکہ کسی نہ کسی طرح یہاںکا ہر شعبہ سیاحت سے جڑا ہوا تھااور یوں ہر ایک کی اس شعبہ کی وجہ سے کمائی ہورہی تھی تاہم نامساعد حالات نے اس شعبہ کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیاتھا لیکن حکومت کی پیہم کوششوں اور سیاحتی ڈھانچہ کو فروغ دینے سے کشمیر عالمی سیاحتی نقشہ پر ایک بار پھر اپنی جگہ بنانے میںکامیاب ہوگیاتھا اور سیاح جوق در جوق کشمیر آرہے تھے لیکن بدقسمتی سے کورونا کی لہر نے سب کچھ پلٹ کررکھ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کشمیرکے سیاحتی مقامات ویران پڑ گئے ۔اب جس طرح سیاح ایک بار پھر یہاں آنے لگے ہیں اور حکومت مسلسل قومی اور عالمی سطح پر کشمیر کی سیاحت کو پراموٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ اس پراموشن کا فائدہ کشمیری عوام کو ضرور ملے گا جو آنے والے ایام میں ایک اچھے سیاحتی سیزن کو دیکھ پائیں گے ۔کشمیر کو قدرت نے ایک ایسے موسمی نظام سے نوازا ہوا ہے کہ یہاں کا ہر سیزن سیاحتی اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے ۔بہار اور گرمیوں میں ہریالی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی ہے تو سرما میں کشمیر برف کی سفید چار میں لپٹ جاتی ہے جو اس کی خوبصورتی کو دوبالا کرتی ہے ۔ایسے میں سال بھر اگر یہاں سیاحتی سرگرمیاں جاری رہیں تو شاید ہی یہاں کوئی شخص بے روزگار رہ سکتا ہے ۔حکومت بھی اس ضمن میں مسلسل کوشاں ہے کہ کسی طرح یہاں کی سیاحت کو ہمہ موسمی بناکر ایسا ماحول قائم کیاجاسکے کہ یہاں سیاحت کا پہیہ سال بھر گھومتا رہے لیکن ایسا سازگار حالات کے بنا ممکن نہیںہے ۔کورونا کی دوسری لہر تھم چکی ہے اور اگر تیسری لہر نہ آئی تو حالات پہلے کی طرح پٹری پر آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی لیکن اصل کام کشمیر کے حالات کو سازگاربنائے رکھنا ہے جس کیلئے سماج کے سبھی طبقوں کو اپنا کردار نبھانا ہوگا کیونکہ جب سیاحت چل پڑے گی جو معیشت کا پہیہ چل پڑے گا اور جب معیشت چل پڑے گی تو خوشحالی آنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور ایک دفعہ جب خوشحالی آئیگی تو کشمیر کو ترقی کی شاہراہ پر تلپٹ دوڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے ۔