تازہ ترین

یہ لاچار خستہ حال غریب عوام !

وباء اور مہنگائی میںجائےکہاں؟

تاریخ    5 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


سلمی راضی
خطرناک اور مہلک کرونا وائرس کی دوسری لہر نے ہندوستان کو جھنجوڑ کررکھ دیا ہے۔ شاید ہی تاریخ میں ایسی کسی غیر محسوس طرح کی وباء نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوگی۔ ہر طرف یہی زور اور شور تھااور آج بھی ہے کہ سرکاری ہدایات پر عمل پیرا ہوں۔چوک چوراہوں اور گلی بازاروں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کا پہرہ دیکھ کریوں لگتاہے کہ بظاہر کوئی جانی دشمن حملہ آور ہونے والا ہے۔ اکیلے یا اجتماع، پیدل ہوں یاسوار، غریب ہو یا امیر، عورت ہویامرد سب کو ایک ہی دہائی تھی کہ ماسک پہنیں، سماجی دوری رکھیں،بار بار ہاتھ دھوئیں،سینیٹائیزر کا استعمال کریں۔ اب جس وبا کو روکنے کے لئے یہ سب کچھ کیاجارہا ہے، کیازمین پر وہ سب کچھ ڈھنگ سے ہورہاہے؟آخر کیوں لوگ ویکسینیشن اور اپنا کرونا ٹیسٹ کروانے سے بھاگ رہے ہیں؟ کیاانتظامیہ اور طبی محکمہ نے عوام کی جانکاری کے لئے کوئی جانکاری کیمپ لگاکرانہیں بیدار کیا؟ یاپھر طاقت کے بل بوتے سب کچھ کرگزرنا لکھاہے؟۔
حقیقت تو یہ ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے اصول وضوابط بھی ٹھیک سے نہ تو بنا ئے جا رہے ہیں اورنہ سمجھائے جارہے ہیں۔ نہ ہی ان دیہی عوام کو ویکسینشن اور اپنی جانچ کے فوائد سے آگاہ کیاجارہاہے۔ بس اخبار اور ٹی وی کے ذریعہ اعلان کر دیا جاتا ہے کہ آؤ! ویکسین لگواؤ، ٹیسٹ کراؤ!مگر کہاں اور کیسے؟اس بارے میں بہت ذیادہ ذکرنہیں ہوتا ہے۔ اگر چہ اس حوالے سے کچھ غیر سرکاری تنظیمیں اور آرمی کی جانب سے جانکاری کیمپ لگا کر آگاہی اور فوائد بتائے گئے ہیں۔ لیکن ابھی طبی عملہ کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم عوام کی آگاہی کے لئے نہیں اٹھایا گیاہے۔
کچھ ایسا ہی حال جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ کی چار تحصیلوں کا بھی ہے۔جہاں لوگ کرونا وائرس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے مسائل، مصائب اور مشکلات سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ہر طرف سے یہی کوششیں کی جاری ہیں کہ لوگوں کو آسانیاں ہوں۔سرکاری طور پر اور غیر سرکاری طور پر بھی۔سیاسی،سماجی ، دینی  اور فلاحی تنظیموں کی طرف سے عوام کو یہی واعظ ونصیحتیں کی جارہی ہیں۔ حالانکہ کرونا کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات اور مسائل بھی عوام کو درپیش ہیں ،جن پر سب خاموش ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ مگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھاجائے تو یہاں اس لاک ڈاؤن کے نازک ترین دور میں کمزور عوام کو کالابازاری کرنے والوں نے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا عمل جاری رکھاہے۔بازاروں میں ناقص اشیائے خوردونوش کھلے عام دوگنی قیمتوں میں فروخت کی جا رہی ہے۔اتنا ہی نہیں مسافر وں سے سفری کرایے بھی من مانے طریقے سے کہیں دوگنےاور کہیں تگنے اور چوگنے وصول کئے جارہے ہیں۔ غرض مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ ایسے میں غریب جیے یا مرے،اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے اور نہ اس پر سطچ بچار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ عوام کے ساتھ کیا کیاگزررہی ہے؟ کن مشکلات سے دوچار ہے؟ یا یہ مسائل اور مشکلات کسی کی ملی بھگت سے عوام پر مسلط کئے گئے ہیں؟ عوام کو اس کا کوئی جواب نہیں مل رہا ہے۔
 اس حوالے سے جب گاوں اڑائیؔ کے حاجی نذیر احمد( 50 سال )سے بات کی گئی تو ان کا کہناتھاکہ ضلع پونچھ کے اطراف واکناف کےتمام تر دیہی علاقوں میں اکثر غریب لوگ آباد ہیں۔کرونا وائرس کی وباء نے ان لوگوں کی زندگیوں کو مزید مشکل میں ڈال دیاہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ دسیوں پریشانیوں کے ہوتے ہوئے انتظامیہ بھی اُن کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اگر چہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اندرجیت سنگھ عوامی مسائل پر کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن تمام مسائل کا حل اکیلے ان کے بس میں بھی نہیں ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت عوام کو درپیش دوسرے مسائل کو پس ِپُشت چھوڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرونالاک ڈؤان میں مسافر گاڑیوں کے کرائے میں بے تحاشا اضافہ کردیا گیا ہے۔ منڈی سے لورن، منڈی سے سلونیاں، منڈی سے ساوجیاں،منڈی سے اڑائی اور منڈی سے فتح پور تک ڈرائیوروں نے اپنی مرضی سے کرایوں میں اضافہ کرلیاہے۔ جہاں سومو اور ٹاٹا میجک کا بیس روپیہ کرایاتھا،وہاں آج پچاس روپیہ وصول کیا جارہا ہے۔ سواریاں معمول سے دوگنی بٹھائی جاتی ہیں۔ سومو میں جہاں صرف سرکاری حکم نامے کے مطابق پانچ سواریاں بٹھانے کی اجازت ہے لیکن یہاں یہ ڈرائیور بے خوف ہوکر سرکاری حکم نامے کی دھجیاں اُڑاتے ہیں۔ جب کوئی اس پر سوال اٹھاتاہے تو بے خوف ہوکرا س کو بُرا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ گالیاں تک کھانا پڑتی ہیں۔اس سلسلہ میں 29سالہ نوجوان سماجی کارکن شیراز گیلانی جوسرحدی علاقہ ساوجیاں کے گنتڑ سے تعلق رکھتے ہیں،اُن کے مطابق اس وقت منڈی سے گنتڑ اسی روپیہ اور ساوجیاں تک سو روپیہ تک کرایا وصول کیا جاتاہے۔جبکہ لاک ڈاؤن سے پہلے ساوجیاں تک پچاس اور گنتڑ تک تیس روپیہ کرایا لیا جاتاتھا۔ اب دوگنےسے بھی زیادہ لیاجارہاہے اور وہ بھی اوور لوڈنگ کے ساتھ۔جوکہ انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بسوں میں چند ایک کو چھوڑ کر کرونا وائرس کے سرکاری احکامات کی کھلے عام دھجیاں اُڑائی جارہی ہے۔  مسافر بسیں بھی سواریوں سے بیس روپیہ کی جگہ چالیس روپے وصول کررہے ہیں۔
اس سلسلے میں محمد اعظم راتھر نے بتایاکہ منڈی سے اڑائی آنے والی دونوں بسوں میں سیٹوں کو برابر کرکے سواریاں کھڑی بھی رہتی ہیں۔پھر بھی چھ کلو میٹر کا کرایہ چالیس روپیہ وصول کیاجارہا ہے۔ غرض کہ ضلع پونچھ کے چپہ چپہ میں اور تحصیل منڈی کے تمام علاقوں میں چلنے والی ٹاٹا سوموں،ٹاٹا میجک،ایکو،وغیرہ میں دوگنا سے زیادہ کرایاوصول کرنا ٹرانسپورٹروں کا شیوہ بن چکا ہے۔۔ نہ اُووَر لوڈنگ پر پولیس انتظامیہ قابو پاسکتی ہے اور نہ ہی کرایہ متعین کرنے میں آرٹی او، یا محکمہ نقل وحمل ہی کامیاب نظر آرہاہے۔ ایسے میں ٹرانسپورٹر، غریب مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ِ عمل ہیں۔
اوور لوڈنگ کے حوالے سے پولیس آفیسر منڈی اور محکمہ نقل وحمل کے ضلع آفیسر اےآرٹی اواور ٹریفک پولیس بھی ڈرائیوروں کی من مانیوں پر قابو پانے میں لاچار دکھائی دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایس ایچ او منڈی نے بتایاکہ ہماری پولیس ہر وقت ہر جگہ ناکے لگانے میں مصروف ہے۔ہر روز چالان کاٹنےاور گاڑیاں ضبط کرنے کے باوجود بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوپارہاہے۔یہی پر بس نہیں بلکہ دریا سے نکلنے والی ریت بجری پتھر پر بھی من مانے کرایےوصول کئے جاتے ہیں۔ عمارتی لکڑی، فرنیچر،اشیاء خوردنی، کپڑے،غرض ہر چیز کامنہ مانگا دام لیا جا رہا ہےاور حیرانگی اس بات کی ہے کہ آج کل کسی بھی بازار میں کسی بھی چیز کا کوئی مختص نرخ ہی نہیں ہے،اور نہ ہی گزشتہ دو سالوں سے کہیں بھی ریٹ لسٹ آویزاں ہے۔گویایہاں کا جملہ انتظامیہ بس نام کا رہ گیا ہے۔ سیول انتظامیہ تو درکنار پولیس انتظامیہ بھی بے بس ولاچار نظر آرہا ہے۔ کرونا ئی وبا کے اس دور میںاب عوام فریاد کرے تو کس سے؟کیا کہیں کوئی سُننے والا ہے؟۔
پتہ۔ منڈی پونچھ
������