تازہ ترین

تعلیم کی اہمیت و افادیت

والدین پراولاد کی تعلیم وتربیت واجب

تاریخ    4 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات تخلیق فرمائی ہیں اور ان سب مخلوقات میں انسان كو اشرف المخلوقات کا  درجہ عنا يت فرمایا اس درجے کے حاصل ہونے کے بعد انسان پر زیادہ ذمداریاں بھی عاید ہوتی ہیں۔ انہی زمادریوں میں سب سے بڑی اور اہم ذمداری حصول تعلیم کی ہیں۔ ہمارے اوصاف و اکابرو نے حصولِ تعلیم کے لیے کس قدر اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ تاریخی کتابیں ان  کے حالات و واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ ان کو حصولِ تعلیم کا شوق اس قدر تھا کہ کئ دنوں سے بھوکے پیاسے دور دراز ملکوں کا سفر کرنا کبھی اپنے ہی مکان کے چھت کی لکڑیاں بیچ ڈالنا۔ کبھی کوڑوں کی برسات کو برداشت کرنا۔ یہ سب ہونے کے باوجود بھی ان لوگوں نے تعلیم کے دامن کو چھوڑنے کے لیے کبھی ہاں تک نہیں کہا۔ رہتی دنیا کے لوگ ان کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ اور اِس بات سے بھی ہر ایک بخوبی واقف ہیں کہ جس قوم نے تعلیم کے حصول کو ترجیح دی اس قوم نے یہ ثابت کر دکھایا کہ قوم کی ترقی اور فلاح و بہبودی کا راز صرف اور صرف تعلیم ہی میں موجود ہیں۔ تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے حاصل ہونے سے انسان کے لیے اچھے اور برے میں فرق کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہیں اور یہ کہنا کسی بھی صورت غلط نہ ہوگا کہ دوسری قومیں بھی یہ جذبہ اور شوق پیدا کر سکتی ہیں۔ سماج کے اندر اتفاق و اتحاد، یکجہتی،  پیار و محبت، ہمدردی تب ہی ممکن ہے جب انسان انسانیت کے تمام اصولوں کا پابند ہو۔ تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جِس سے انسان کامیابی کے منازل طے کرنے کے ساتھ ساتھ سماج میں اعلیٰ مقام اور عزت حاصل کر سکتا ہے۔ سماج میں تعلیم کا حاصل ہونا بہت ہی اہم ہیں۔ بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ چلنے میں تعلیم بڑی اہمیت رکھتی ہیں کیوں کہ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتی بلکہ ہم سے یہ تقاضہ کرتی ہے کہ ہم اپنے آپ کوہر لحاظ سے تیار رکھے۔ تعلیم حُسنِ اخلاق، اعلیٰ کردار، سوچ سمجھ، بول چال، نیک سیرت اور پاک دامنیِ کے مجموعے کا نام ہے۔ ایک ملک جس کے پاس حکومت بھی ہو، طاقت بھی ہو، اکثریت بھی ہو، افواج بھی ہو کوئی بڑی بات نہیں بلکہ قیمتی اور قابلِ رشک بات  تعليم اور حُسنِ اخلاق کی ہے۔ لیکن دکھ اور افسوس سے یہ کہنا پڑھتا ہے کہ نوجوان اِس نور سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اور مختلف مصائب اور مشکلات سے دو چار ہیں۔ جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑانا، چوری اور ڈا کے مارنا،لوٹ مار کرنا دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانا، منشیات کا عادی ہونا، انکی زندگی بن چکی ہیں۔ ایسے لوگ صرف سماج کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے تباہی کا غار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسکے برعکس اگر تعلیم کو اپنا مستقبل مانا جائے تعلیمی ماحول  قائم کیا جائے تو بہتر نتائج کی توقع کی جاسکی ہے۔دوسری طرف جہاں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد باکثرت موجود ہیں وہیں غریب طبقے کے لوگ جنکی نگاہیں اِس نُور کے لیے ہمیشہ ترستی نظر آتی ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال ہی نہیں۔ حکومت کا یہ فرض بنتا ہیں کہ  ایسے لوگوں کے لئے تعلیمی ماحول قائم کیا جائے۔تاکہ یہ لوگ جو اپنی زندگی سے اُمیدیں کھو بیٹھے ہیں سماج میں رہنے کے قابل بن سکیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اِن کی زندگی میں خوش حالی اور خوش رہنے کی راہیں ہموار ہو سکیں۔تعلیمی نفاذ عمل میں لایا جائے۔ بے روزگار لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔