تازہ ترین

زندگی انسان کیلئے انمول نعمت

خود کشی مسائل کا حل نہیں

تاریخ    4 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


پرے ممتاز
اﷲ تعلی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا ہم شمار نہیں کرسکتے ۔ ان میں سب سے انمول نعمت انسان کی زندگی ہے اگر یہ ایک بار ہاتھ سے نکل گئی تو قیامت تک واپس نہیں مل سکتی۔ زندگی اﷲ تعلی کی طرف سے امانت ہے جس کی ہم نے ہر حال میں حفاظت کرنی ہے۔ اﷲ تعلی کی ناراضگی اور رضا مندی اسی مختصر زندگی پر منحصر ہے ۔ اس کی خیانت کرنا اﷲ کی ناراضگی کو دعوت دینا ہے ۔یہ ایک ایسی قیمتی شے ہے جس کی بدولت کل کوایک انسان یا توموتیوں کے مکانات کا مالک بنادیا جائے گا یا تو جہنم کی خوراک بنا دیا جائے گا۔ یہ انسان کو بیکار میں نہیں ملی ہے بلکہ آخرت میں اس کا حساب دینا ہوگا کہ آپ نے کہاں اور کس طریقے سے اپنی زندگی کو بسر کرلیا ہے۔ یعنی زندگی کے ہر لمحے اور ہر پل کا حساب دینا ہوگا۔اصل میں اس کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ ہمیں اس زندگی میں اﷲ اور اﷲ کے رسول ﷺ کو راضی کرنا ہے ۔ ایک دوسرے کے کام آنا ،ایک دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھنا،ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنا ، اصل میں ہماری زندگی کابنیادی مقصد ہے ورنہ اس کے بغیر انسان کا وہ درجہ ختم ہوجاتا ہے جس کی بدولتااسے انسانیت کا علمبردار کہا گیا ہے۔ زندگی کی مثال اس باغ کی ہے جس میں بہت سارے قسموں کے پھول کھل جاتے ہیں اور اُن کی خوشبوئیںراہ چلنے والوں کو ضروراثر کرتی ہیں ٹھیک اسی طرح اگر زندگی کو اﷲ کے احکام اور حضور ﷺ کے سنتوں کے مطابق بسر کر لیا جائے تو یقینی طورپر اس میں بھی پیار،محبت، اخلاق، ہمدردی، اُلفت، عزت ،سکون ،کے پھول کھل جائیں گے ۔ نفرت ،حسد، تکبر،غرور،بغض، کینہ وغیرہ کا نام و نشان ہی مٹ جائے گا۔ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جس میں ہر کوئی سکون ،راحت ،چین وغیرہ محسوس کرے گا۔ صحابہ ؓ کے زمانے میں زندگیاں ایسی روشن اور چمکدار ہوا کرتی تھیںکہ اُن کی روشنی آج ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی پوری دُنیا کو منور کرتی ہیں ۔آج بھی زمانہ اُن کے رہن سہن ،ہمدردی،ایثار،پیار،محبت ،اخلاق ،کی مثال قائم کیا ہوا ہے ۔زندگی میں ایک دوسرے کے کام آنا اور آپسمیں ایک دوسرے کی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کرنا، شانہ بہ شانہ کھڑا رہنا ، آپسی بھائی چارے کو فروغ دینا اصل زندگی کا منشور ہے ورنہ لالچ ،فتنہ ،حسد ،بغض ،کینہ ،زندگیوں کو ایسا ویران کردیتا ہے کہ جیسے جنگل میں  آگ تمام جنگل کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیتا ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو زندگی ایک ایسی دلکش اور خوبصورت نعمت ہے  جس کی وجہ سے ایک انسان اپنے نیک اعمال کی وجہ سے فرشتوں سے بھی افضل ہوجاتا ہے ۔ اس نعمت کی قدر کر کے اس میں برکت پیدا ہو جاتی ہے ۔ بقول شاعر 
فرشتے سے بڑ کرہے انسان بننا  
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ 
 بدقسمتی سے موجودہ دور میں زندگیوں نے ایسا خطرناک رُخ اختیار کیا ہوا ہے کہ ایک طرف نوجوان لڑکے لڑکیاں خودکشی کر کے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر دیتے ہیں تو دوسری طرف بہو بیٹیوں کو زندہ جلا کر اُن سے جینے کا حق چھین لیا جاتا ہے ۔حالانکہ اسلام خود کشی کرنے کی قطاََ اجازت نہیں دیتا ہے اور نہ ہی کسی کو جان سے مار دینے کی اجازت دیتاہے۔یعنی دونوں فعل اسلام کے مطابق حرام اور آخرت میں جہنم کا باعث بن سکتی ہیں۔ آجکل کے معاشرے میں انسانیت کا اس طرح سے خون کیا جاتا ہے کہ ایک طرف بچوں کی تربیت میں لاپرواہی ، اور دُنیا کی دوڑ دھوپ میں انسان اپنا سب کچھ لٹا کرخودکا خاتمہ کر دیتا ہے تو دوسری طرف بیٹیوں پر ظلم و تشدد کر کے اُنہیں زندہ در غور کیا جاتا ہے ۔ افسوس صد افسوس آج پوری دُنیا میں عموماََ ہماری وادی کشمیر جنت بے نظیر میں روز بہ روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیںکہ دل خون کے آنسو روتاہے ۔ اگر اس کی طرف توجہ نہ دی جائے اور بچوں کی صحیح تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں دن بہ دن پھیل رہی بُرائیوں کا ازالہ نہ کیا جائے تولگتا ہے کہ وہ دن دور نہیںکہ جس دن یہ خوبصورت ،دلکش اور جنت جیسی وادی جہنم میں تبدیل نہ ہوجائے۔ خود کشی کرنا اور کسی کی بیٹی کو آگ لگانا مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے اور زیادہ مسئلے پیدا ہوجاتے ہیںجن سے ہماری دُنیا ہی نہیں بلکہ آخرت بھی خراب ہوجاتی ہے۔ دُنیا اور دُنیا کی اس مختصر زندگی سے ایسی جنگ لڑنی ہے کہ ہم زندگی سے نہیں بلکہ زندگی ہم سے ہار ماننی چاہئے  ۔ حوصلوں کو بلند کرکے ہمت اور محنت سے کام لے کر خود کی زندگی اور اپنے والدین کے اُن ارمانوں کی حفاظت کرنی ہے جن کا انتظار کرتے کرتے اُس کی آنکھوں کی بینائی تک ختم ہوجاتی ہے۔ والدین اپنے اولادکو بہت لاڑ پیارسے پالتی ہیں حتاکہ اولاد کی خوشیوں کے سامنے اپنی تمام خوشیاں قربان کر دیتے ہیں تو بالآخر یہی اولاد جب کسی دل دہلانے والے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں یا کوئی ان کا قتل کر تا ہے تویہ اولاد ہی نہیں بلکہ اُن کے والدین بھی اپنی زندگی سے غیر محسوس طریقے سے اپنا ہاتھ دو بیٹھتے ہیں۔
آخر کار انسانیت کو اس ویرانی ،تباہی ،بربادی ،وغیرہ جیسے خطرناک اور مہلک بیماریوں سے بچانے کیلئے ہر ایک انسان کو انفرادی و اجتماعی طور پر اس قدر محنت کرنی ہے کہ جس سے انسانیت ہلاک ہونے سے بچ جائے اور آپسمیں ایک دوسرے سے پیار و محبت کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ دُنیا اور اس میں بسنے والی انسانیت کو نفرتوں کی بڑتی ہوئی آگ سے بچا لیا جائے۔انسانیت کو اس تباہی کے دہن سے نکالنے کیلئے اپنے جذبات پر قابو پاکر لوگوں کے جذبات ،خواہشات اور احساسات کی قدر کریں ۔ لوگ اس انداز سے پگل چکے ہیں کہ اب سہارا دینے والا کوئی نہیں ہے۔ اس وقت ہر ایک اپنی من مانی کی زندگی بسر کر کے دوسروں کی خواہشات کا جنازہ نکال دیتے ہیں ۔میں آخر پر اپنے کشمیر کے سبھی والدین سے التجا کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی ضد ان کی زندگیوں سے نہ کھیلیں کیونکہ زندگی ایک بار ملتی ہے بار بار نہیں ۔ بقول شاعر گلزار 
 ایک نعمت ہے زندگی اُسے سنبھال کے رکھ 
قبرستان کو سجانے کی ضرورت کیا ہے   
parraymumtaz@gmail.com