تازہ ترین

آدمی کا جسم کیا ہے جس پہ شیدا ہے جہاں!!

فکروفہم

تاریخ    4 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


جاوید اختر بھارتی
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کانوں میں اذان دیکراللہ کی کبریائی اور بڑائی کا پیغام دیا جاتا ہے تاکہ جب ہوش سنبھالے تو جانے کہ اللہ بہت بڑا ہے، اللہ ایک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پہلی سانس سے آخری سانس تک کی کامیابی کی ضمانت نماز میں ہے اور چاہے کوئی بڑے سے بڑا طاقتور کیوں نہ ہو لیکن اللہ کے آگے اس کی کوئی ہستی نہیں۔ بیشک اللہ ہی سب سے بڑا ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد بچے کی سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے، سب سے پہلا سبق ماں کا پاکیزہ حلال دودھ ہے اور اس درسگاہ کا ناظم و سرپرست باپ ہے ،یعنی ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اچھی تعلیم و تربیت سے بچے کو آراستہ کریں، جس طرح ربیع الفروخ کی بیوی نے اپنے بچے کی عظیم الشان تعلیم و تربیت کی تھی، جس طرح غوث اعظم سیدنا الشیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ کی والدہ نے غوث اعظم کی تعلیم و تربیت کی تھی ۔
جب بچہ بڑا ہوکر دینی مدارس میں پہنچتا ہے تو اساتذہ بھی الف پڑھاکر اللہ کے ایک ہونے کی تعلیم دیتے ہیں، ل سے اس کا کوئی شریک نہ ہونے کی تعلم دیتے ہیں، ح پڑھا کر اللہ کی حمد کرنے کا درس دیتے ہیں، میم اور دال پڑھاکر محمد الرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور انہیں کے وسیلے سے دعا کرنے کا درس دیتے ہیں اور دعا اللہ ہی سے کیجاتی ہے اس طرح الحمد اللہ پڑھاتے ہیں تاکہ اب یہ اپنی زندگی کا سفر صراط مستقیم کے تحت طے کرے اور اسی راستے سے دنیا سے قبر تک اور قبر سے حشر تک کی منزل آسان ہوسکتی ہے ۔
دنیا میں جو آیا ہے اسے ایک دن اس دار فانی سے جانا ہے۔ کل نفسٍ ذائقۃ الموت کے تحت ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔موت سے بچنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایک شخص موت سے بچنے کیلئے دنیا کے مختلف ممالک میں پہنچتا ہے لیکن جہاں پہنچتا ہے وہاں دیکھتا اور سنتا ہے کہ کوئی بیماری کی وجہ سے تو کوئی مختلف وجوہات کی بنا پر لیکن موت کا شکار ضرور ہوتا ہے وہ خانہ کعبہ پہنچتا ہے کہ شائد یہاں موت سے بچ جاؤں لیکن جیسے ہی فجر کی نماز ادا کرتا ہے تو نماز کے بعد صدا سنتا ہے الصلوۃ یرحمہم اللہ وہ بیچین ہوجاتا ہے، پھر ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد بھی یہی اعلان سنتا ہے پھر وہ دیکھتا ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ قرآن مقدس کی تلاوت کررہا ہے وہ اس کے پاس جاکر بیٹھتا ہے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی ہے کہ وہ تلاوت کرنے والا پڑھتا ہے اینما تکونو یدرکم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ اب سوچتا ہے کہ ارے یہ تو قرآن اعلان کررہا ہے کہ موت سے بچنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے خفیہ سے خفیہ مقام پر یعنی جہاں چاہو چلے جاؤ لیکن موت کے چنگل سے نہیں بچ سکتے۔ اب ہر طرف سے گھوم پھر کر اپنے گھر آتا ہے آرام کرنے کے لیے چارپائی پر لیٹتا ہے ابھی لیٹاہی ہے کہ ملک الموت کے آنیکی دھمک سنتا ہے ،دائیں بائیں فرشتے بھی کھڑے ہیں، آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا گیا ہے، اب صاف طور پر جنت و جہنم کے مناظر دیکھ رہا ہے، فرشتے کہتے ہیں کہ نیکی کا کام کرنے والوں کیلئے یہ جنت ہے اور اللہ و رسول کی نافرمانی کرنے والوں کیلئے یہ جہنم ہے۔ کل تک تیرے سامنے بیان کیا جاتا تھا تو تجھے یہ ایک کہانی لگتی تھی اب تو اپنی آنکھوں سے دیکھ سارا منظر تیرے سامنے ہے۔ بندہ کہتا ہے کہ بس ایک موقع مل جائے میں صرف وہی کام کرونگا جس سے میرا رب راضی ہوجائے اور مجھے جنت کا حقدار بنادے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ نہیں تیرا وقت ختم ہوگیا، اب تجھے کوئی مہلت ملنے والی نہیں تو نافرمانی پر نافرمانی کرتا رہا لیکن اللہ نے تیرے رزق میں کوئی کمی نہیں کی تاکہ تجھے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور تو اپنے گناہوں سے توبہ کرلے لیکن تونے ایسا نہیں کیا اب تجھے بھی موقع ملنے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد ملک الموت نے اس بندے کے پاؤں سے روح نکالنا شروع کیا ،ٹخنے تک کا حصہ بیجان ہوا ، پھر گھٹنے تک کا حصہ بیجان ہوا، پھر کمر سے نیچے تک یعنی جسم کا آدھا حصہ بیجان ہوا، پھر پیٹ، سینہ، حلق، کان ناک نے کام کرنا بند کیا ،ایک خاردار جھاڑی سے ریشمی کپڑے نوچ لینے کی طرح ہر حصے سے روح نکلتے ہوئے آنکھوں کے راستے سے باہر نکل گئی آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئی، پورا جسم بیجان ہوگیا ۔دنیا میں کل تک حکومت کرتا تھا جس کے ایک اشارے پر فوج حرکت میں آجاتی تھی، جس علاقے میں جاتا تھا تو وہاں اس کی حفاظت کے لیے بیشمار فورس تعینات کی جاتی تھی آج جسم پر مکھی بیٹھ گئ تو اسے بھی ہانکنے کی طاقت نہیں ہے کیونکہ اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔
اپنی زندگی میں عالیشان مکان تعمیر کرایا، آٹومیٹک کھلنے والا دروازہ لگایا، فرش پر قیمتی ٹائلس لگوایا، بیرون ملک سے کاریگر بلاکر اے سی لگوایا، ہر کمرے میں مخمل کا بستر لگایا لیکن پھر بھی سارے بیٹوں میں سے ایک بیٹا بھی گھر کے کسی کمرے مقبرہ بنوانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ قبرستان میں کوئی بھی رشتہ دار عزیز دوست و احباب دوچار دن ساتھ میں سونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کافور و عطر مل کر تیار کرچلے جب قبر میں اتارا مٹی ڈالی سب کے سب اپنے اپنے گھروں کو چلے آئے، یہی ہے انسان کی زندگی، ہاتھ کا لقمہ منہ میں پہنچنے کی گارنٹی نہیں، رات میں بستر پر سونے گیا ،صبح میں بیدار ہونے کی گارنٹی نہیں، کشتی میں بیٹھ تو گیا لیکن باحیات دریا کے اس پار پہنچنے کی گارنٹی نہیں، یہی ہے زندگی۔ اور اسی کا نام ہے زندگی۔ لیکن پھر بھی احساس نہیں مٹی ڈالتے ہوئے بھی یہ نہیں احساس ہوتا کہ کل ہمارے اوپر بھی لوگ اسی طرح مٹی ڈالیں گے اور واپس چلے جائیں گے حالانکہ حکم یہی ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کرو اس میں بھی بہت بڑا راز ہے کیونکہ جب بندہ موت کو یاد کریگا تو ضرور کچھ نہ کچھ تیاری بھی کریگا اور یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر حال میں موت کا سامنا کرنا ہے۔ ساری کی ساری مخلوق کو موت کے گھاٹ اترنا ہے۔ یہاں تک کہ زندگی اور موت بھی اللہ رب العالمین کی مخلوق ہے۔ زندگی کو تو موت آنی ہی آنی ہے، ارے موت کو بھی موت آنی ہے، موت کو بھی موت کے گھاٹ اتارا جائے گا، حشر کا میدان قائم ہوگا، حساب کتاب ہوگا، نیکیاں تولی جائیں گی، نفسی نفسی کا عالم ہو گا ،کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا، باپ بیٹا کوئی کسی کو نیکی دینے کے لیے تیار نہ ہوگا اور تو اور جب حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نیکی تولی جائے گی تو حضرت مریم چھپ جائینگی اور جب حضرت مریم کی نیکی تولی جائے گی تو حضرت عیسٰی علیہ السلام چھپ جائینگے ۔باقی لوگوں کا کیا حال ہوگا اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔صرف ایک ہی مقدس ذات ہوگی جس کی خدا تک رسائی ہوگی اور وہ مقدس شخصیت ہونگے محسن انسانیت خاتم الانبیاء محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جو اپنے امتیوں کی شفاعت کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سفارش کریں گے اور آپکی سفارش قبول کی جائے گی یہ بھی یاد رہے کہ دنیا میں ہر نبی کو اللہ نے ایک مخصوص دعا بتلائی ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ خصوصی مطالبہ کا حق دیا ہے اور یہ پیارے آقا صل اللہ علیہ وسلم کو بھی دیا گیا ۔لیکن ہر نبی نے دنیا میں وہ مطالبہ کیا مگر آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کیا تو حضرت عائشہ نے کہا کہ آپ بھی وہ مطالبہ اللہ سے کرئیے، تو قربان جائیے پیارے آقا پر۔ آپ نے فرمایا :اے عائشہ میں وہ دعا میدان محشر میں اللہ سے اپنی امت کی شفاعت کیلئے کرونگا۔ جب حساب و کتاب مکمل ہو جائے گا جنتیوں کو جنت میں اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کردیا جائے گا تب حکم خداوندی سے موت کی شکل میں ایک جانور کو لایا جائے گا اور اس پر چھری چلاکر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا پھر اس کے بعد فرشتہ اعلان کریگا کہ اے جنتیوں اور اے جہنمیوں دیکھ لو اب کسی کو موت نہیں آئیگی کیونکہ موت کو بھی موت آگئی ،موت کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔
دنیا میں جسے ان ساری باتوں کا علم ہوگا وہ غافل رہ سکتا ہے مگر جسے احساس ہوگا اس کے دل میں خدا کا خوف ہوگا وہ نہ کبھی بھرپیٹ کھانا کھائے گا اور نہ پوری نیند سوسکے گا۔ سکندر بادشاہ اکثر قبرستان جاتا اور بوسیدہ ہڈیوں کو ہاتھوں میں لیکر یہی کہتا کہ اے ہڈیوں کل تم میرے جیسی تھی اور کل میں تمہارے جیسا ہوجاؤنگا ،اسے اتنا احساس تھا کہ اس نے وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد جب میری تکفین و تدفین کرنا تو میرے دونوں ہاتھوں کو کفن سے باہر نکال دینا تاکہ دنیا دیکھے کہ سکندر ذوالقرنین بند مٹھی لیکر دنیا میں آیا تھا لیکن کھلا ہاتھ اور خالی ہاتھ دنیا سے چلا گیا -
javedbharti508@gmail.com
رابطہ۔ 8299579972