تازہ ترین

چناب ویلی پن بجلی پروجیکٹ

مقامی لوگوں کیلئے سود مندنہیں!!!

تاریخ    4 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


بابر نفیس
جموں و کشمیر میں بے روزگاری کے خاتمے کا ایک اہم ذریعہ چناب ویلی کے پن بجلی پروجیکٹس کو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان پروجیکٹوں میں بے شمار نوجوانوں کو روزگار مل سکتی ہے۔ جموں کشمیر میں سب سے زیادہ پن بجلی پروجیکٹ چناب ویلی میں بنائے گئے ہیں۔ یہاں بے روزگاری کے خاتمے میں اگر کوئی خاص وسائل ہیں تو ان میں چناب ویلی کے پن بجلی پروجیکٹ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وادی چناب جموں و کشمیر کے خوبصورت علاقہ جات میں سے ایک ہے۔اگراس سے ہو رہے فائدے کی بات کی جائے تو یہاں کے لوگ اس فائدے سے بے خبر ہیں۔ وادی چناب میں دس سے زائد پن بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر ایک اہم پہلو ہے۔ لیکن ان میں سے صرف دو ہی پروجیکٹوں کو مکمل کیا گیا جن کی بجلی کا فائدہ بیرونی ریاستوں کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ان دو پروجیکٹوں کی بجلی بیرونی ریاستوں کو روشن کرنے میں کام آرہی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ چنا ب ویلی کے پہاڑی علاقے آج بھی بجلی کی کرن کے منتظر ہیں۔
جہاں ہمارا ملک ڈیجیٹل ہونے کی بات کر رہا ہے وہیں پہاڑی علاقہ جات کے لوگ آج بھی بجلی کا بلب دیکھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔اگر چناب ویلی سے گزرنے والے دریائے چناب پر تعمیر ہونے والے پن بجلی پروجیکٹوں سے یہاں کے پہاڑی علاقے روشن نہیں ہو رہے تو پھر یہ پن بجلی پروجیکٹ کس کام کا؟ یہاں یہ بات عیاں ہے کہ جموں و کشمیر میں بننے والے پروجیکٹوں کا سب سے کم فایدہ اٹھانے والے لوگ وادی چناب کے ہی ہیں۔چناب و یلی کے کئی علاقے آج بھی گھپ اندھیرے میں ہیں۔وہیں ضلع کشتواڑ کے مڑوا کے دچھن کی بات کریں تو آج بھی ان علاقوں کے لوگ بجلی کا انتظار کر رہے ہیں۔
 اس سلسلے میں جب ہم نے پہاڑی علاقہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن و صحافی راجہ شکیل سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ چناب ویلی ملک کے لیے ایک خزانہ ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن افسوس اس کے وسائل کو استعمال میں نہیں لایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناول میں بننے والے پروجیکٹ ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی چناب میں اتنے وسائل ہونے کے باوجود بھی چناب ویلی کے لوگ غربت کی زد میں ہیں۔اگر چناب ویلی کے تمام پن بجلی پروجیکٹوں پر کام کیا جائے تو یہاں بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جانب نہ ہی سرکار نے کبھی سنجیدگی سے سوچا اور نہ ہی یہاں کی انتظامیہ کو اس کے بارے میں کوئی خیال آیا۔
اسی سلسلے میں ایک اور سماجی کارکن محمد اصغر ماگرے نے کہا کہ حکومت کے فیصلے چناب ویلی کے طلباء کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتے جارہے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں آج بھی بجلی کی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہے۔ ان علاقوں میں موبائل فون چارج کرنا کسی مشکل سے کم نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان علاقوں کے طلباء کومحض موبائل فون چارج کرنے کے لئے میلوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ موصوف کے مطابق چناب ویلی کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں طلبہ امتحان کے نتائج آنے کے ہفتوں بعد بھی اس سے بے خبر رہتے ہیں کیونکہ یہاں بجلی کی سہولیات نادارد ہے اور موبائل فون کے چارج کیلئے بجلی لازمی ہے جس پر انٹرنیٹ سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے طلباء کو بے حد مشکلات کا سامنا ہے۔
اس سلسلے میں ایک مقامی صحافی اشتیاق دیو نے بتایا کہ ضلع ڈوڈہ خطرے کا گھوڑا بن چکا ہے۔ یہاں پن بجلی پروجیکٹ بننے کی وجہ سے لوگوں کو نقصان کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کی زمینیں خستہ حال ہوئی ہیں اور درجنوں خاندان بے گھر ہو ئے ہیں۔موصوف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دعوی کیا جا رہا تھا کہ بجلی کو سستے داموں میں عوام تک پہنچایا جائے گا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بجلی کا کرایہ اس قدر بڑھایا گیا ہے کہ مزدوری کرنے کے بعد بھی وہ کرایہ ادا نہیں کر پاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروجیکٹوں کے اردگرد بھی لوگوں کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم نہیں کی گئی ہے اور پہاڑی علاقے میں لوگ آج بھی بجلی کی عدم دستیابی کے شکار ہیں۔جب اس سلسلے میں مقامی بشارت حسین ملک سے بات کی تو انہوں نے بتایا کی جموں و کشمیر کے اہم وسائل میں دریائے چناب بھی اہم مقام رکھتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو اس کا ذرا بھی فائدہ نہیں ہوا۔پن بجلی پروجیکٹ ہونے کے باوجود یہاں کی عوام کو بجلی کیلئے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایسے پروجیکٹ کس کام کے، جس سے مقامی لوگوں کو ہی فائدہ نہ ہو؟
کشتواڑ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن جوگندر بھنڈاری کا الزام ہے کہ اس پروجیکٹ میں لوگوں کے ساتھ روزگار دینے میں بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسرے لوگ بھی اس پروجیکٹ پر کام کرنے کی غرض سے آتے ہیں لیکن ان کو یہاں پر روزگار فراہم نہیں کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب اس سلسلے میں آواز اٹھانے کی بات کی جاتی ہے تو ایف آئی آر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جوگندر بھنڈاری نے مزید بتایا کہ اس مسئلے پر جب میں نے آواز اٹھائی تو مجھ پر سات ایف آئی آر درج کرائی گئی جس کو کہیں نہ کہیں غریب لوگوں کی آواز کو دبانے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی عوام کو بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی لئے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی سرکار وادی چناب کے لوگوں کو انصاف فراہم کرائے۔
قارئین،اب آپ کویہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ وادی چناب کے بے روزگارنوجوان وسائل ہونے کے باوجود بھی روزگارحاصل کیوں نہیں کرپا رہے ہیں؟مرکزی سرکار کو چاہئے کہ مقامی وسائل کو مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے پہلے استعمال میں لائے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔جب ہر شخص کو روزگار حاصل ہوگا تو نہ صرف علاقہ خوشحال ہوگا بلکہ ملک بھی خوشحال اور ترقی یافتہ ہوگا۔کسی بھی پروجیکٹ کی کامیابی کا انحصاراس بات پر ہوتا ہے کہ اس سے مقامی لوگوں کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟(چرخہ فیچرس)
ڈوڈہ، جموں